اگر عمران خان اور نواز شریف دونوں نا اہل ہو جائیں

عمران خان اور ان کے حلیفوں کا موقف ہے، جے آئی ٹی سے میاں نواز شریف باہر نہیں نکل سکتے


[email protected]

HUB: یہ درست ہے کہ چین میں جاری کانفرنس میں شرکت سے میاں نواز شریف کی ملک میں سیاسی پوزیشن بہتر ہوئی ہے لیکن یہ بہتری عارضی ہو گی۔ میں گزشتہ روز کے کالم میں یہ لکھ چکا ہوں کہ ملک میں کسی ایڈونچر کا امکان نہیں تا ہم اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ کھیل ختم ہوگیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب ایڈونچر نہیں ہو سکتا تو کیا آپشنز باقی ہیں۔ یہ ایک پیچیدہ سوال ہے لیکن اس وقت ایک عجیب و غریب آپشن زیربحث ہے۔اپوزیشن میاں نواز شریف اور ان کے اہل خانہ کو نا اہل قرار دلوانے کے لیے کوشاں ہے اور اسی مقصد کے لیے پانامہ کا کیس چل رہا ہے۔ ادھر میاں نواز شریف عمران خان کو نااہل قرار دلوانے کے لیے بھی میدان میں آچکے ہیں۔ اس ضمن میں الیکشن کمیشن میں بھی کیس دائر کیا گیا ہے ا ور سپریم کورٹ میں بھی کیس چل رہا ہے۔ دونوں فریقین کا موقف ہے کہ ان کا کیس بہت مضبوط ہے۔

عمران خان اور ان کے حلیفوں کا موقف ہے، جے آئی ٹی سے میاں نواز شریف باہر نہیں نکل سکتے جب کہ میاں نواز شریف کے کیمپ کا موقف ہے کہ تحریک انصاف کا پارٹی فنڈ کیس اور بنی گالہ کا کیسایسے ہیں کہ عمران خان ان دونوں کیسز سے باہر نکل نہیں سکتے۔ اگر ایسا ہو جائے کہ ملک کی اعلیٰ عدلیہ میاں نواز شریف اور عمران خان دونوں کو ہی نااہل قرار دے دے تو ملک کے آیندہ انتخابات کا منظر نامہ کیا ہو گا۔

عدالتی فیصلہ کے دو رخ ہوتے ہیں ۔ ایک اس کا قانونی پہلو ہوتا ہے اور دوسرا اس کا عوامی پہلو ہوتا ہے۔ کئی فیصلے قانونی لحاظ سے بالکل درست ہوتے ہیں لیکن عوام کی عدالت میں قبول نہیں ہوتے۔ اور کچھ فیصلے عوام کی عدالت میں تو قبول ہوتے ہیں لیکن قانون کی عدالت میں قبول نہیں ہوتے۔ اسی لیے میاں نواز شریف اور عمران خان کی نا اہلیت کے فیصلوں کے بھی دو رخ ہوںگے ۔ ایک عوامی اور دوسرا قانونی۔

عمران خان نے میاں نواز شریف کے خلاف ایک عوامی رائے عامہ ہموار کی ہے جب کہ میاں نواز شریف کے کیمپ کا کام کمزور ہے۔ اسی لیے اب وہ خود میدان میں آگئے ہیں۔ اور انھوں نے عمران خان پر حملے شروع کیے ہیں۔ شاید وہ ماحول بنا رہے ہیں۔ اور عمران خان کے خلاف بنی گالہ کیس اور پارٹی فنڈ کیس پر وہ ابھی آئیں گے جس کے لیے میدان سجے گا۔

اگر ایک لمحہ کے لیے یہ مان لیاجائے کہ ملک میں ایسی عوامی رائے عامہ بن جائے کہ عمران خان اور میاں نواز شریف دونوں کے خلاف نا اہلیت کیس درست ہیں اور ان کے تحت ان کا نااہل ہونا جائز ہے تو کیا ہو گا۔ کیاایسی کسی صورت میںاسٹبلشمنٹ کی چاندی نہیں ہو جائے گی۔ ایسی صورت میں بغیر کسی ایڈ ونچر کے اہداف مل سکتے ہیں۔ شائد ایسی ہی کسی حکمت عملی پر غور ہو رہا ہے۔ لیکن اگر اعلیٰ عدلیہ دونوں کو نا اہل قرار دے دیتی ہے تو کیا ہو گا۔

کیا ملک میں مظاہرے ہو ںگے ۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ تو یہی بتاتی ہے کہ ایسے کسی بھی فیصلے کے بعد ملک میں کسی بڑی سیاسی تحریک اور انارکی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ محدود سے احتجاج ہو سکتے ہیں۔ جس کو بہر حال کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ اس نا اہلی پر مزید بات کرنے سے پہلے یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ نا اہلی صرف پانچ سال کے لیے ہو سکتی ہے کیونکہ آئین پاکستان کے تحت اب کسی بھی سیاستدان کو خواہ اسے کسی بھی جرم میں کچھ بھی سزا ہوئی ہو وہ پانچ سال سے زیادہ عرصہ کے لیے انتخابی سیاست سے نا اہل نہیں ہو سکتا۔ اسی قانون کے تحت یوسف رضا گیلانی توہین عدالت میں سزا پانے کے بعد پانچ سال کے لیے نا اہل ہوئے اور اب ان کی نا اہلی ختم ہو گئی ہے۔ جس کا انھوں نے باقاعدہ جشن بھی منا یا ہے۔

میاں نواز شریف کی نا اہلی کے لیے عمران خان کی نا اہلی کی کڑوی گولی بھی قبول کی جا سکتی ہے۔ ادھر تحریک انصاف کے اندر دھڑے بندی اتنی شدید ہو چکی ہے کہ مائنس عمران پارٹی کا اکٹھا رہنا مشکل نظر آتا ہے۔ کے پی کے میں تو دھڑے بندی اس سے زیادہ ہے۔ اقتدار کے بادل چھٹتے ہی وہاں بھی انتشار نظر آئے گا۔ سندھ اور بلوچستان اتنے اہم نہیں ہیں لیکن پھر بھی یہ بات اہم ہو گی کہ عمران خان ایسی کسی صورتحال میں اپنی حمائت کس کے پلڑے میں ڈالتے ہیں۔ بہر حال عمران خان کاا ٓشیر باد اہم ہوگا لیکن تقسیم پھر بھی یقینی ہے۔

تا ہم مسلم لیگ (ن) کے لیے یہ کوئی نئی صورتحال نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) مائنس نواز صورتحال سے پہلے بھی گزر چکی ہے۔ایک موقع پر پارٹی کی صدارت خود میاں نواز شریف نے میاں شہباز شریف کے سپرد کر دی تھی۔ سوال یہ ہے کہ کیا اب بھی کسی ایسی صورتحال میں میاں نواز شریف کی چوائس شہباز شریف ہو ںگے۔ اس ضمن میں کچھ لوگ ابہام پیدا کر رہے ہیں۔ لیکن پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ میاں نواز شریف کے پاس شہباز شریف کے علاوہ کوئی چوائس نہیں ہو گی۔ وہ ایک قابل اعتماد اور عوامی طور پر قابل قبول چوائس ہیں۔ جو اس بحرانی کیفیت میں ن لیگ کی کشتی کو ڈوبنے سے بچا سکتے ہیں۔

پیپلزپارٹی بھی ایسی صورتحال سے گزر چکی ہے۔ بلکہ پیپلزپارٹی کو تو اپنی انتخابی سیاست بچانے کے لیے ایک نئی جماعت پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین بنانی پڑی تھی۔ جس کی کمان مرحوم مخدوم امین فہیم کے پاس تھی۔ اور پھر وقت کے ساتھ یہ جماعت ختم ہو گئی اور اصل پیپلزپارٹی بحال ہو گئی۔

یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر بالفرض یہ دونوں رہنما نا اہل ہو جاتے ہیں تو اس کا سیاسی فائدہ کس کو ہو گا۔ ایک بات تو طے ہے کہ وقتی طور پر اسٹبلشمنٹ کو فائدہ ہو گا۔ لیکن سیاسی فائدہ کس کو ہو گا۔کیا ایسی کسی صورتحال میں پیپلزپارٹی کی بحالی ممکن ہو سکے گی۔ یہ مشکل نظر آتا ہے۔ آصف زرداری کسی بھی طرح ان دونوں کے متبادل کے طور پر عوام کے سامنے نہیں ہیں۔ اسی طرح باقی سیاسی جماعتیں بھی اس پوزیشن میں فی الحال نظر نہیں آتی ہیں کہ دونوں کی نااہلی کی صورت میں سامنے آنیو الے خلا کو پر کر سکیں۔ اس تناظر میں اس خلا کو انھی دونوں جماعتوں نے ہی پر کرنا ہے۔ کم یا زیادہ کا سوال اپنی جگہ اہم ہے۔ اس صورت میں ن لیگ کا پلڑا بھاری لگتا ہے۔

مقبول خبریں