دل نادان اور دل نالاں

غالب کی کتابت کرنے والا بھی شاید ایسا ہی محتاط بندہ تھا .......


Saad Ulllah Jaan Baraq May 17, 2017
[email protected]

ایک تو اس کم بخت دل نے پوری دنیا کو پریشان کیا ہوا ہے جسے دیکھو اس دل کے ہاتھوں نالاں ہے۔ یہ ہم اس دل کی بات نہیں کر رہے جو ڈاکٹروں کا ذریعہ آمدن ہے، جو بچوں کی طرح فیل پاس ہوتا رہتا ہے، خیر اس دل سے ہمیں کچھ لینا دینا نہیں۔ ہمارا جھگڑا اس دل سے ہے جس کے علمبردار، شاعر و صورت گر، افسانہ نویس ہوتے ہیں جو ''دل'' کو طرح طرح سے استعمال کر کے ''لابھ'' اٹھا رہے ہیں، اس سلسلے میں سب سے بڑا گھپلا دراصل ایک کتابت یا کمپوزنگ کی غلطی سے ہوا ہے، پیر و مرشد حضرت علامہ اسد اللہ خان غالب عرف مرزا نوشہ کو تو آپ جانتے ہیں کہ ان کا ہمیشہ ''دل'' کے ساتھ کوئی نہ کوئی جھگڑا رہتا تھا بلکہ بات مقدمہ بازی تک پہنچ گئی تھی۔

دل و مژگاں کا جو مقدمہ تھا

آج پھر اس کی رو بکاری ہے

ان کا دل بھی شاید کچھ بے مہار اور نہ مانوں قسم کا تھا، اس لیے وہ ہر وقت اس سے ''نالاں'' رہا کرتے تھے۔ اس کش مکش انھوں نے ایک دن کہیں دل سے تنگ آکر جگر یاد کیا، یعنی روز روز کی شکایتوں جو محلے بھر سے آتی تھی سے تنگ آکر اس کی سرزنش کی۔

دل نالاں تجھے ہوا کیا ہے

آخر اس در دکی دوا کیا ہے

چھوٹی سی بات تھی، دل نالاں تھا اور انھوں نے وجہ پوچھی کہ یہ روز روز کی نالہ فریاد آہ و زاری کی وجہ کیا ہے لیکن ان کو کیا پتہ تھا کہ یہ کاتب اور کمپوزر لوگ کیا کچھ نہیں کر سکتے۔ مشہور جاسوسی ناول نگار ابن صفی نے کہیں لکھا ہے کہ کاتب لوگ جب گھر سے کام لے لیے نکلتے ہیں تو ''دماغ'' کو اچھی طرح سنبھال کر محفوظ مقام پر رکھ لیتے ہیں کہ قیمتی چیز ہے کہیں بازار میں ادھر ادھر نہ ہو جائے۔

غالب کی کتابت کرنے والا بھی شاید ایسا ہی محتاط بندہ تھا چنانچہ وہ جب کتابت کرنے لگا تو نالاں کی جگہ شاید اپنا نام ''ناداں'' ڈال دیا۔ اس کے بعد دل کے ساتھ یہ نادان کی دم ایسی چپکی کہ اب دنیا کا کوئی جراح ،کوئی سرجن اسے الگ نہیں کر سکتا، اگر وہ کاتب اپنی ''متاع عزیز'' گھر پر چھوڑ کر نہ آیا ہوتا تو غالب جیسا نکتہ رس اور لفظوں کا کھلاڑی، ایسی غلطی کیسے کر سکتا ہے کہ کسی کو ''ناداں'' بھی کہے اور پھر اس سے دوا پوچھ داں یا حکیم بھی سمجھے۔ انھوں نے تو نالاں یعنی روتے ہوئے دل سے پوچھا کہ تمجھے ہوا کیا ہے، جو رو رہے ہو، تم ہی بتاؤ کہ تمہاری اس نالہ فرسائی کا کیا علاج ہے؟ بس جناب اس کے بعد تو ''دل نالاں'' کے پیچھے لوگ لٹھ لے کر پڑ گئے۔ ایک طرف اسے نادان یعنی کچھ نہ جاننے والا بھی کہہ رہے ہیں اور دوسری طرف ایسے ایسے سوال پوچھ رہے ہیں، سقراط بقراط اور افلاطون تینوں مل کر بھی جواب نہ دے سکیں۔

یہاں تک تو پھر بھی ٹھیک تھا، چلیے ٹھیک ہے کتابت کی غلطی سہی، بے چارا دل ''ناداں'' تو ہو ہی چکا ہے لیکن ہمارے پڑوس میں تو اس بے چارے دل پر وہ وہ اتیاچار ہو رہے ہیں کہ توبہ ہی بھلی، شور مچ رہا ہے جو بو کاٹا کا نہیں بلکہ دل تو بچہ ہے، دل تو پاگل ہے، دل تو احمق ہے، دل تو بدمعاش ہے، دل تو غنڈہ ہے، دل مرا مفت کا، دل کمینہ، دل حرامی ۔۔۔۔ بات اگر صرف دل تک رہتی تو پھر بھی ٹھیک تھا لیکن اب تو اس کے ساتھ اڑوسیوں پڑوسیوں کی بھی شامت آگئی خصوصاً جگر بے چارا تو نہ صرف روز روز قیمہ قیمہ اور ٹکڑے ٹکڑے، لہولہان ہوتا ہے بلکہ تعزیرات ہند کی ایسی کوئی دفعہ نہیں جو اس پر لگائی نہ گئی ہو، عین ممکن ہے کہ ان سطور کے چھپنے سے پہلے بات گردوں تک بھی پہنچ گئی ہو۔ ویسے ماننا پڑے گا دماغ کا... کہ سارا کھڑاگ اسی کا پھیلا ہوا لیکن شیرے کی انگلی اس نے بے چارے دل پر ملی ہے اور خود آرام سے اوپری بالاخانے پر بیٹھ کر تماشا دیکھ رہا ہے جیسے لیڈر لوگ عوام کو گتھم گتھا کر کے کنٹینر میں جا کر بیٹھ جاتے ہیں۔