2018 کے انتخابات کے بعدعمران خان کی سیاست ختم ہوجائے گی، رانا ثنااللہ

ویب ڈیسک  جمعـء 19 مئ 2017
اپوزیشن اور بالخصوص عمران خان کے منفی بیانات سے ریاست کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، رانا ثنااللہ : فوٹو:  فائل

اپوزیشن اور بالخصوص عمران خان کے منفی بیانات سے ریاست کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے، رانا ثنااللہ : فوٹو: فائل

لاہور: پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنااللہ کا کہنا ہے کہ عمران خان کی منفی سیاست  کے باعث اب ان وزیراعظم بننے کے امکانات ختم ہوگئے ہیں بلکہ 2018 کے انتخابات کے بعد وہ سیاست بھی چھوڑ دیں گے۔

لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عالمی عدالت انصاف نے کہا ہے کہ جب تک مکمل فیصلہ نہیں ہوجاتا اس وقت تک بھارتی جاسوس کلبھوشن کا پھانسی نہ دو لیکن بھارت نے عالمی عدالت کے فیصلے پر غلط پروپیگنڈا کیا اور پھر ہمارے سیاسی مخالفین اور اپوزیشن نے بھی ان کا بھرپور ساتھ دیتے ہوئے اپنی سیاست چمکائی اورغلط بیانات دے کر ملک دشمنوں کے پروپیگنڈے میں شامل ہوگئے ہیں۔

وزیرقانون نے کہا کہ اپوزیشن بولتے وقت بھول جاتی ہے کہ کون سی بات ریاست کے حق میں اور کون سی خلاف ہے، پھر وہ سیاسی مخالفت، لسانی تعصب اور اپنی منفی سوچ میں اس قدر آگے بڑھ جاتے ہیں کہ ریاست اور حکومت کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر ایسی گفتگو کردیتے ہیں جس میں ریاست کو بھی نقصان پہنچنے کا قوی اندیشہ ہوتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا یہ رویہ، عمران خان ، مکار مولوی اور بالخصوص پنڈی کے شیطان کی گفتگو ایسی ہی ہوتی ہے جو حکومت کی حدود کو تجاوز کرکے ریاست مخالفت تک پہنچ جاتی ہے جو انتہائی قابل مذمت ہے۔

رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ عمران خان کا گھٹیا رویہ ملک کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے، وہ اپنی منفی سیاست کے باوجود شارٹ کٹ طریقے سے وزیراعظم کے منصب پر فائز ہونا چاہتے ہیں لیکن اب ان کے وزیراعظم بننے کے امکانات دور دور تک نہیں ہیں ان کی گزشتہ ساڑے 3 یا 4 سالہ منفی سیاست کے بوئے ہوئے بیجوں کا ہی نتیجہ ہے کہ وہ کسی بھی ضمنی الیکشن میں کامیاب نہیں ہوسکے، 2018 کے عام انتخابات میں بھی انہیں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا اور ان کی سیاست ہمیشہ کے لئے ختم ہوجائے گی۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ الزام تراشی اتنی بری چیز نہیں لیکن عمران خان کی الزام تراشی میں بیہودگی اور ایسے الزامات شامل ہوتے ہیں جو بار بار دھرائے بھی نہیں جاسکتے، ان کے اسی رویئے نے انہیں اس نہج تک پہنچا دیا ہے اور وہ مزید خسارے کی جانب گامزن ہیں، جب کہ وزیراعظم نوازشریف کل بھی عوام کی عدالت میں سرخرو ہوئے تھے اور آئندہ انتخابات میں بھی سرخرو ہوں گے جولوگ سپریم کورٹ سے جنازہ نکالنا چاہتے تھے ان کے اپنے جنازے نکل چکے ہیں اور جے آئی ٹی ان کی تدفین کا بندوبست کررہی ہے جو جلد ہوجائے گی۔

اورنج لائن ٹرین منصوبے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ منصوبے کے مخالفین کا پروپیگنڈا بالکل بے بنیاد، جھوٹ پر مبنی اورگمراہ کن ہے یہ منصوبہ ہمسایہ ملک چین کے تعاون سے تیار ہورہا ہے اور موٹروے منصوبے کی طرح ہے جس پر ماضی میں بھی کچھ عقل کے اندھوں نے کہا تھا کہ یہ عیاشی کا منصوبہ ہے اس کی پاکستان کو ضرورت ہی نہیں اس لئے اس منصوبے کو بند کردینا چاہئے لیکن آج سب کے سامنے ہے کہ موٹروے سے لاکھوں لوگ مستفید ہورہے ہیں اور اسی منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیا جاتا ہے اسی طرح اورنج لائن منصوبہ بھی اگر 150 ارب روپے مالیت سے تعمیر ہوا تو 5 سال بعد اس کی اہمیت ساڑھے 4 ارب روپے ہوگی۔

وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ اورنج لائن ٹرین منصوبہ پنجاب اور خالصتاً پاکستان کا منصوبہ ہے جس سے 5 لاکھ افراد روزانہ کی بنیاد پراستفادہ کریں گے جن میں سے 3 لاکھ 85 ہزار ایسے مسافر ہوں گے جن کا لاہور سے تعلق بھی نہیں ہوگا، مخالفین نے ایک اور شوشہ یہ بھی چھوڑ رکھا ہے کہ اس منصوبے سے تاریخی ورثوں کو نقصان ہوگا حالانکہ اس طرح نہیں ہوگا، لاہور ریلوے اسٹیشن کی عمارت بھی 100 سال پرانی ہے اور اس میں روزانہ 100 ٹرینیں رکتی ہیں لیکن پھر بھی اس عمارت کو کوئی نقصان نہیں ہوا تو پھر اورنج لائن سے تاریخوں عمارتوں کو کیوں نقصان ہوگا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔