ہمارے دل میں کوئی خیال نہیں آتا

وہ کسی انڈین فلم میں بھی کسی شخص کا معاملہ بالکل ہمارے جیسا تھا


Saad Ulllah Jaan Baraq May 21, 2017
[email protected]

وہ کسی انڈین فلم میں بھی کسی شخص کا معاملہ بالکل ہمارے جیسا تھا، بالکل اسی کی طرح کبھی کبھی ہمارے دل میں بھی خیال آتا ہے کہ ...، یہاں بھی پرہمارے اور اس کے بچھڑے الگ ہو جاتے ہیں کیوں کہ اس کے دل میں ''کبھی کبھی'' خیال آتا تھا اور ہمارے دل میں ہر وقت خیالات کی یورش چلتی رہتی ہے اور پھر وہ اس معاملے میں بھی ہم سے زیادہ خوش قسمت تھا کہ اپنے ''خیال'' کا اظہار بھی کر دیتا تھا، جب کہ ہمیں ابھی ''مشال خان'' بننے کا کوئی شوق نہیں ہے، ستر سال کی نہایت اچھی ''پرورش'' اور محفوظ ہاتھوں میں رہنے کی وجہ سے لوگ اب اتنے زیادہ مکمل ہو چکے ہیں کہ ''آن دی اسپاٹ'' وہ فیصلے اور کام بھی اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں جو خالص ''خدا'' کے کرنے کے ہوتے ہیں اور پشتو کے نامور شاعر سیف الرحمن سلیم کا پرابلم پھر بھی چھوٹا تھا اس نے خدا سے اتنا پوچھا تھا کہ

د وڑو وڑو خدایا نو دے بندہ کڑم
لویہ خدایہ زہ بہ چا چا تہ سجدہ کڑم

یعنی اے خدا تم نے مجھے اتنے چھوٹے چھوٹے خداؤں کے ہاتھ میں دیا ہوا ہے اب تو ہی بتا دے اے عظیم خدا کہ میں کس کس کو سجدہ کروں؟

مطلب یہ کہ اس کا معاملہ تو صرف سجدہ کرنے کا تھا لیکن یہاں تو بات سجدے سے بہت آگے نکل چکی ہے ''سجدہ'' تو ایک عام عمل ہے جو لوگ کسی کے بھی آگے کر دیتے ہیں اور کچھ نہ کچھ ''ثواب'' بھی مل جاتا ہے لیکن اپنا معاملہ بہت پیچیدہ ہے کیوں کہ یہاں اب

بس اک داغ سجدہ میری کائنات
جبینیں تری آستانے ترے

یعنی مسئلہ سجدہ کا نہیں بلکہ جان بچانے کا ہے آخر کوئی کہاں کہاں کس کس طرح کس کس سے جان بچاتا پھرے کیوں کہ اس ملک کا یہ بھی ایک عجیب معاملہ ہے کہ دوسرے طرح طرح کے، بھانت بھانت اور ہر رنگ و نسل کے ''مواقع'' جتنے زیادہ بڑھ رہے ہیں اپنے ہی جان بچانے کے مواقع معدوم ہوتے جا رہے ہیں، ایک بہت پرانی کہانی جو اب پوری طرح یاد نہیں لیکن اشارہ کرنے پر آپ کو یاد آجائے گی۔

ایک ہم جیسے سادہ لوح کو کسی نے کہا کہ فلاں گاؤں جا کر فلاں کو بتانا کہ ''چٹکی بھر نمک'' وہ چل پڑا تو اپنے ساتھ یہ الفاظ دہراتا رہا کسی جگہ لوگوں کو چٹکی بھر نمک سے کوئی الرجی تھی چنانچہ انھوں نے اسے خوب خوب ٹھوکا اور کوئی دوسرا لفظ بتایا کہ دہراتے چلو، جو تیسری جگہ مصیبت بنا، یہ ایک لمبا قصہ ہے لیکن اس کی ایک مختصر شکل بھی ہم نے ایک فلم میں دیکھی تھی، ہندو مسلم فسادات ہو رہے تھے ایک جتھہ ایک ایسے بوڑھے ضعیف شخص کے پاس پہنچا جو بڑی مشکل سے ایک ڈیڑھ قدم اٹھاتا اور سانس سانس کھینچ رہا تھا، کمزور بھی تھا اور بینائی شنوائی بھی کام کی نہیں تھی لیکن کسی مجبوری کے تحت مزدوری کرنے پر مجبور تھا۔

جھتے نے اسے گھیر کر پوچھا ہندو ہو یا مسلم؟ اس پر وہ اپنی سانسیں ہموار کر کے بولا... تمہیں مجھ سے کیا؟ اگر تم ہندو ہو تو مجھے مسلمان سمجھ کر مار دو اور اگر مسلمان ہو تو ہندو سمجھ کر اس زندگی سے چھٹکارا دلا دو، ہم ابھی اس مرحلے پر تو نہیں پہنچے ہیں لیکن منزل اتنی دور بھی نہیں، ہم اکثر غالبؔ کے اس شعر پر معترض ہو جاتے تھے کہ

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے

لیکن آپ یقین نہیں کریں گے کہ کچھ لوگ واقعی ایسے مقام پر پہنچ جاتے ہیں جہاں ساری امیدیں صرف ''موت'' سے وابستہ ہو جاتی ہیں آپ یقین کریں کہ اب ہم اس مرحلے پر آچکے ہیں کہ منہ سے یا قلم سے ایک لفظ ادا کرنے سے پہلے سو بار سوچتے ہیں، ہر ہر پہلو سے دیکھتے ہیں کہ ٹھیک ہے کچھ لوگوں کو تو پسند آجائے گا لیکن وہ فلاں لوگ بھی تو ہیں اور ساتھ ہی وہ فلاں بھی اگر ان کو ناگوار گزرا تو؟ بلکہ بات اب لوگوں یعنی فرقوں اور پارٹیوں سے بھی گزر کر ذاتی پسند و ناپسند تک آچکی ہے، بہت عرصہ گزرا ہے ہم ابھی بچے تھے کہ ہمارے گاؤں میں ایک شخص پر قرآن کی بے حرمتی کا الزام لگا، ایک شور مچ گیا وہ ویرانے میں بھاگ نکلا لیکن چشم زدن میں مجاہد جمع ہوئے اور اسے گھیر کر ٹھکانے لگا دیا۔

یہ کہانی ہم نے صرف سنی تھی دیکھا کچھ نہیں تھا لیکن اس واقعے کے کئی سال بعد ہمارے دادا جو تھانے میں آتے جاتے تھے، نے یہ بتایا کہ وہ واقعہ قرآن کی بے حرمتی کا تھا ہی نہیں، مقتول کی بیوی نے ڈرامہ کیا تھا، وہ اسے مروانا چاہتی تھی، اس نے بڑی منصوبہ بندی سے کھیل کھیلا، اس نے شور مچایا، لوگ اکٹھے ہو گئے اور بے چارے شوہر کو کسی نے کچھ کہنے سننے کا موقع ہی نہیں دیا اور گاؤں اس کے خلاف امڈ پڑا، دراصل وہ عورت بعد میں پاگل ہو کر یہاں وہاں پڑی رہتی تھی، تب دادا نے ہمیں اس کا یہ قصہ سنایا، اس لیے ہمارے دل میں جو سوال آتے تھے انھیں ہم وہیں دبا دیتے ہیں کیا پتہ کس کی طبع نازک پر ناگوار گزرے اور ''سزائے موت'' کے لیے تو کوئی ایک شخص بھی جج قاضی اور جلاد بن سکتا ہے، چاہے وہ خود کالا چور، منشیات فروش، اغواء کار اور اجرتی قاتل ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کبھی کبھی ہمارے دل میں کوئی خیال نہیں آتا۔