کشمیری نوجوان کو جیپ سے باندھ کرگھمانے والے بھارتی میجر کو اعزازسے نوازدیا گیا

ویب ڈیسک  منگل 23 مئ 2017
متعدد افراد نے کشمیری نوجوان کو جیب سے باندھنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا  فوٹو فائل

متعدد افراد نے کشمیری نوجوان کو جیب سے باندھنے کو غیر انسانی فعل قرار دیا فوٹو فائل

نئی دلی: انتہا پسند مودی سرکار نے مقبوضہ کشمیر میں سفاکی اور بربریت کی نئی تاریخ رقم کرنے والی بھارتی فوج کو اعزاز سے نوازنا شروع کردیا ہے۔

اس سلسلے کی تازہ ترین مثال مقبوضہ کشمیر میں شہری کو جیپ سے باندھ کر انسانی ڈھال بنا کر گھمانے والا بھارتی فوجی افسر ہے جس کےلیے آرمی چیف نے اعلیٰ اعزاز کا اعلان کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں تعینات بھارتی میجر لیٹول گوگوئی نے اپنے فوجی قافلے کو کشمیری نوجوانوں کے پتھراؤ سے بچانے کے لیے ایک کشمیری نوجوان کو اپنی جیپ کے آگے باندھ دیا تھا۔

بھارت کے آرمی چیف بپن راوت نے اس گھناؤنے اقدام پر مذکورہ فوجی افسر کے خلاف تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کی اور اسے ایوارڈ سے نواز دیا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈین چیف آف دی آرمی اسٹاف نے مقبوضہ کشمیر کے اپنے حالیہ دورے میں میجر گوگوئی کو کشمیریوں کی جدوجہد کچلنے کےلیے غیرانسانی طریقے اختیار کرنے پر خصوصی تعریفی سند عطا کی ہے۔

البتہ بھارتی فوج نے سرکاری طور پر یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ میجر لیٹول گوگوئی کو دیا جانے والا یہ اعزاز ’’سرکشی کے خلاف ان کی مسلسل کوششوں‘‘ کے اعتراف میں دیا گیا ہے جس کا جیپ پر کشمیری نوجوان کو باندھنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ اس سال اپریل میں ہوا تھا جسے دنیا بھر سے انسانی حقوق کے علمبردار حلقوں نے غیر انسانی فعل اور وحشیانہ عمل قرار دیا تھا جبکہ اس پر مقبوضہ کشمیر میں عوام اور سیاسی رہنماؤں نے بھی شدید غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔ اس پر بھارتی فوج نے معاملے کی تفتیش کا حکم دیتے ہوئے انکوائری کمیٹی بنا دی تھی جس کی جانب سے اب تک کوئی رپورٹ تو نہیں آئی لیکن انڈین آرمی چیف نے اس سفاک بھارتی میجر کو تعریفی اعزاز دے کر ثابت کردیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بربریت ہی بھارتی فوج کا پسندیدہ ترین مشغلہ ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔