کتابوں میں کرپشن

زیادہ خوش ہونے اور اچھلنے کی ضرورت نہیں ہم کرپشن کے خلاف کچھ لکھنے نہیں جارہے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq May 25, 2017
[email protected]

زیادہ خوش ہونے اور اچھلنے کی ضرورت نہیں ہم کرپشن کے خلاف کچھ لکھنے نہیں جارہے ہیں بلکہ اس کی ھمہ گیر فتوحات کا ذکر کرتے ہوئے کتابی دنیا پر بھی اس کی زبردست کامیابی کا مژدہ سنانا چاہتے ہیں، اس لیے کالم کے عنوان کو شکایتی یا ملامتی مفہوم کے بجائے ''فخریہ'' انداز میں سمجھ لیجیے، یعنی کرپشن زندہ باد۔ ان ہی کتابوں میں کرپشن کے خلاف لکھا جاتا تھا اور اب انھی کتابوں پر بھی کرپشن نے ہلہ بول دیا ہے۔ ایک عام سی بات ہے جو ہر سطح پر کی جا رہی ہے کہ کتاب کلچر ختم ہو رہا ہے، نئے الیکٹرانک ذرایع معلومات و ابلاغیات نے پرنٹ ذرایع ابلاغ کو متاثر کیا ہے۔

اس حد تک تو بات سچ ہے ساری دنیا اور پاکستان کے ساتھ ساتھ ہمارے صوبہ خیبر پختونخوا میں بھی یہ مسئلہ ہے جس سے نہ صرف یہاں کے اشاعتی ادارے متاثر ہو رہے ہیں بلکہ کتابیں لکھنے والے اہل قلم بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ کتابوں کی دکانیں سمٹتے سمٹتے چند رہ گئی ہیں یہاں تک کہ مقامی پرانے اور نئے مصنفین کی کتابیں بھی اب یہاں دستیاب نہیں ہیں، لیکن اس کی وجہ صرف انٹرنیٹ نہیں ہے، انٹر نیٹ کا استعمال تو پاکستان کے دوسرے صوبوں اور شہروں میں بھی یہاں سے زیادہ ہے لیکن پھر بھی کتابوں کا سلسلہ کچھ معمولی کمی کے ساتھ مسلسل چل رہا ہے لیکن اس پسماندہ خطے میں کتابوں کا کاروبار ان سے زیادہ متاثر ہوا ہے، کیوں؟ اور اس ''کیوں'' کے بعد جب پردہ اٹھتا ہے تو اسی پردہ زنگاری کے پیچھے وہی ہماری ممدوحہ محترمہ کرپشن ... بیٹھی نظر آتی ہے ... سرمے سے تیز دشنہ مژگاں کیے ہوئے... چہرہ فروغ مے سے گلستاں اور زلف سیاہ رخ پہ پریشان کیے ہوئے۔

ہمارے لیڈر اور شاعر و صورت گر و افسانہ نویس صوبے کی دوسری محرومیوں کا ذکر تو بڑی شدومد سے کرتے ہیں لیکن صوبے میں کتابوں کی صنعت کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہتے، شاید اس لیے کہ وہ اس کوچے سے واقف نہیں اور صرف ان گلیوں میں بھٹکتے ہیں جن میں ''نقد'' کا کاروبار ہوتا ہے جب کہ یہ ''علم و تعلم'' کا کوچہ ان کے لیے ناآشنا ہے حالانکہ سب سے ضروری اور بنیادی چیز یہی ہے۔ بجلی، گیس، پٹرولیم صرف گھروں کو منور کرتے ہیں جب کہ کتاب ذہن کو منور کرتی ہے اور ذہن منور نہ ہو تو گھر آنگن چکا چوند بھی ہو تو کیا؟

چنانچہ دوسرے شہروں میں جو سرکاری لائبریریاں اور کتابیں خریدنے والے ادارے ہیں ان میں تو کتابیں ہوتی ہیں جب کہ ہمارے ہاں لائبریریوں میں ردی اور بھوسہ بھرا جاتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ یورپ اور دوبئی وغیرہ میں کتابوں کے متروک ایڈیشن ردی کے بھاؤ خرید کر بھر بھر کر لائے جاتے ہیں، یہاں پر بھی لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں وہ ''تول'' اور کباڑ کے حساب سے فروخت ہوتی ہیں لیکن ہمارے صوبے کی لائبریری اور پرچیز کرنے والے ... یہاں پر اس کہانی میں ہماری موکلہ ممدوحہ کرپشن دھماکے دار انٹری دیتی ہے اور وہ ردی کتابیں ردی میں خرید کر ڈالروں اور پونڈوں کی اصل قیمت پر لائبریریوں کی زینت بنا دی جاتی ہیں۔ ان بڑے شہروں کے تاجران کتب کے ایجنٹ ہمارے یہاں کے محکمہ تعلیم اور ہر اس ادارے میں بیٹھے ہوئے ہیں جو کتابیں پرچیز کرتا ہے اور ہر سال جو فنڈ حکومت سے کتابوں کے لیے جاری ہوتے ہیں ان کی بندر بانٹ ہو جاتی ہے۔

ردی کتابیں ''اصلی'' کے بھاؤ ''خرید'' لی جاتی ہیں، فنڈ جب جاری ہوتے ہیں تو متعلقہ کالجوں وغیرہ کو اطلاع بعد میں ملتی ہے اور پنجاب کے تاجران کتب کو پہلے خبر کر دی جاتی ہے، وہ متعلقہ اسٹاف سے رابطہ کر کے ان کو مدعو کرتے ہیں یہ جا کر ان کے ''مہمان'' بنتے ہیں اور قیام و طعام کے علاوہ کچھ نذرانہ بھی حاصل کر لیتے ہیں اور ''کنٹینر'' کی کتابوں کی ایک بڑی لاٹ خرید لی جاتی ہے اور لائبریریوں کو ایشو کر دی جاتی ہے۔

یہ پورا ایک نیٹ ورک ہے کہ جو فنڈ کروڑوں میں ''علم'' کے فروغ کے لیے ملتا ہے وہ ہائیر ایجوکیشن، آرکائیوز اور محکمہ تعلیم کے ''ذہین و فطین'' فن کار اسے ٹھکانے لگانے کے لیے سارا سال ''محنت'' کرتے ہیں۔ تھوڑا سا اندازہ لگانے کے لیے کچھ اعداد و شمار پیش خدمت ہیں، گذشتہ سال صوبے کے اپنے اداروں اور دکانوں سے کی گئی خریداری بارہ لاکھ کے لگ بھگ تھی جب کہ اسلام آباد کی صرف ایک کمپنی سے سنتالیس لاکھ (4750000) کی خریداری کی گئی تھی، امسال خطرے اور بھانڈہ پھوٹنے سے بچنے کے لیے ''کتاب میلے'' کا ڈھونگ رچایا گیا ہے اور باہر کے تاجروں سے وعدہ تھا کہ جو کچھ لاؤ گے وہ خریدا جائے گا، اس میلے میں مقامی یا صوبے کے کسی ادارے یا تاجر کو مدعو نہیں کیا گیا بلکہ مکمل طور پر سب کو بے خبر رکھا گیا تھا، چنانچہ مقامی کسی دکاندار یا اشاعتی ادارے یا منصف کی کوئی بھی کتاب صوبے بھر کی کسی لائبریری کو نہیں جا سکی، ہے نا کمال کی بات ... اس پر بھی آپ ہماری محترمہ ممدوحہ کرپشن کو داد نہیں دیں گے؟ تاجر لوگ تو کسی نہ کسی طرح گزارہ کر لیں گے لیکن خدا کی سب سے زیادہ مظلوم مخلوق اس صوبے کے اہل قلم اور شاعر یوں صفر کیے گئے جیسے کبھی نہ تھے اور نہ ہیں ۔

اس حساب سے آپ کو ہم یہ جانکاری دے رہے ہیں کہ سرکاری اداروں نے مقامی اہل قلم اور منصفین کو ''عاق'' کر دیا ہے کہ آیندہ ان سے کوئی لین دین نہ رکھے ورنہ نقصان کا ذمے دار خود ہو گا۔ دراصل اس میں نکتے کی بات یہ ہے کہ مقامی زبانوں کی کتاب کی قیمت کم ہوتی ہے مثلاً بیس انگریزی کے متروک ناول جو فٹ پاتھ سے پانچ روپے فی کتاب کے حساب سے خریدے جاتے ہیں ان کی اصل قیمت سے پشتو ادب کا پورا سرمایہ خریدا جا سکتا ہے کیوں کہ سرکار کو تو انگریزی کتاب ڈالروں اور پونڈوں میں لگائی جاتی ہے اور مسئلہ کمیشن کا ہوتا ہے، ان کو اس سے کیا کہ یہاں انگریزی کتابیں پڑھنے والے ''کتنے'' ہیں کیوں کہ ان کو کتابیں پڑھوانا نہیں بلکہ خریدنا اور الماریوں کو بھرنا ہوتا ہے۔ بے چارے مقامی زبانوں کے تاجر اور اہل قلم کیا اور ان کا ''شوربا'' کیا؟ آیئے ملک میں ''لٹریسی'' بذریعہ کرپشن بڑھائیں۔