شوکت زندہ کیسے ہے
برطانوی ہند حکومت نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی حوصلہ افزائی کی
ISLAMABAD:
شوکت حسین بلوچ اب تقریباً 70 سال کے ہوگئے ہیں۔ لیاری کے علاقے کلری میں پیدا ہوئے۔گورنمنٹ بوائز ٹیکنیکل اسکول کمیلا سے میٹرک کیا اور 30 جنوری 1967ء کو فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی میں ٹائیپسٹ کی حیثیت سے ملازم ہوئے۔ دن رات انتھک محنت کی، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے ملازمین کی انجمن میں فعال ہوئے اور مختلف عہدوں پر تعینات رہے۔ شوکت بلوچ جو نوجوانی میں بائیں بازوکے نظریات کے اسیر ہوئے ، نے ہمیشہ پہلے کام اور پھر تنظیم سازی کے اصول کو اولیت دی، یوں ترقی کرتے ہوئے مینیجر آڈٹ کے عہدے تک پہنچے۔
39 سال ملازمت کرنے کے بعد 18 ستمبر 2012ء کو ریٹائر ہوئے۔ شوکت کو اپنی پوری ملازمت میں صرف ایک دفعہ میمودیا گیا۔انتظامی افسر نے اس میمو میں لکھا تھا کہ شوکت بغیراجازت ٹریڈ یونین کے کام سے یونین کے صدرمعروف مزدور رہنما نبی احمد سے مشورے کے لیے گئے تھے۔ شوکت کی وضاحت پر یہ میمو منسوخ ہوا۔ شوکت کو اب تک گریجویٹی کے پیسے نہیں ملے۔ وہ کئی بہنوں، بھائیوں اور ایک بیوی کے کفیل تھے۔ شوکت جب ریٹائر ہوئے تو ان کی تنخواہ 70 ہزار روپے تھی مگر ریٹائرمنٹ کے بعد واجبات ادا نہ ہونے سے ان کی آمدنی صرف 6 ہزار روپے ہوگئی۔
یہ 6 ہزار روپے وفاقی ادارے اولڈ ایج بینولئنٹ (E.O.B.I)کی پنشن کی بناء پر ملتے ہیں۔ شوکت فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے واحد کارکن نہیں جنھیں واجبات نہیں ملے بلکہ 31کارکن اور افسران ایسے ہیں جو اپنے قانونی واجبات سے محروم ہیں جن میں سے 10 انتقال کرچکے ہیں۔ شوکت بتاتے ہیں کہ ادارے کے چیف میڈیکل افسر ڈاکٹر اکبر اور نذیر احمد شاہ واجبات کے انتظار میں دنیا سے رخصت ہوگئے۔ سندھ اور بلوچستان کے ساحلی علاقوں پر آباد سندھیوں اور بلوچوں کا قدیم پیشہ ماہی گیری ہے۔ یہ لوگ صدیوں سے ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ پاکستان بننے کے بعد بنگالی، پنجابی اور پٹھان اس شعبے میں شامل ہوئے۔ پہلے ماہی گیر مچھلیاں پکڑتے تھے، کچھ بندرگاہ پر فروخت کردیتے تھے اورکچھ بندرگاہ پر ٹھیکیدارکم قیمتوں پر مچھلیاں خریدتے، یوں ماہی گیر غریب رہے۔ بیوپاری مچھلی برآمد کرکے امیر ہوجاتے تھے۔
برطانوی ہند حکومت نے فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی کے قیام کی حوصلہ افزائی کی اور 1945ء میں امداد باہمی کے قانون کے تحت سوسائٹی قائم ہوئی۔ سوسائٹی کا بنیادی مقصد ماہی گیروں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ مسلم لیگی رہنما محمود ہارون سوسائٹی کے بانیوں میں شامل تھے۔ بائیں بازوکے عظیم شاعرفیض احمد فیض بھی اس سوسائٹی کے ڈائریکٹر رہے۔ ون یونٹ کے خاتمے کے بعد فشرمین کو آپریٹوسوسائٹی کے قوائد وضوابط تیارہوئے۔ سوسائٹی کو چلانے کے لیے بورڈ قائم ہوا جو 15 افراد پر مشتمل تھا۔اس بورڈ میں منتخب نمایندے 7 تھے اورحکومت کے نمایندوں کی تعداد 6 تھی اور بورڈ کا چیئرمین حکومت کا نامزد کردہ شخص ہوتا تھا۔ رجسٹرڈ ماہی گیر اپنے نمایندوں کا انتخاب کرتے تھے، میاں نوازشریف کے دوسرے دورِ حکومت میں قوائد وضوابط میں ترمیم کی گئی۔ اب حکومت کے نمایندوں کی تعداد 8 اور منتخب نمایندوں کی تعداد کم کر کے 7 کردی گئی۔
ایک مسلم لیگی ہمایوں خان کو چیئرمین بنادیا گیا۔ امریکی ادارے یوایس ایڈ کی امداد سے ایک بڑا ہال تعمیر ہوا اور یورپی یونین کی امداد سے سوسائٹی کی عمارت تعمیر ہوئی۔ اب ماہی گیر اپنی مچھلیاں جیٹی پر لاتے اور سوسائٹی کے ہال میں لے جاتے جہاں مچھلیوں کی نیلامی ہوتی۔ سوسائٹی کے ملازمین ماہی گیروں کی مچھلیوں کی فروخت اور اچھے دام کے لیے مدد کرتے اور سوسائٹی کو اس کا ٹیکس ملتا۔ یہی وجہ تھی کہ سوسائٹی ہمیشہ خوشحال رہی۔ سوسائٹی کے ملازمین کی تعدد 6 سو کے قریب ہوگئی۔ سوسائٹی کی خوشحالی کی بناء پر ملازمین کو وقت پر تنخواہوں کے علاوہ بونس بھی دیے جاتے تھے۔ ملازمین کو ریٹائر ہوتے ہی پراویڈنٹ اورگریجویٹی فنڈ فوری طور پر ادا کردیے جاتے۔ ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو طبی سہولتیں فراہم کی جاتیں۔ سوسائٹی کے ملازمین کو ملنے والی مراعات کے لیے مزدور یونین نے طویل جدوجہد کی تھی۔
2008ء میں سندھ اور وفاق میں پیپلزپارٹی کی حکومتیں قائم ہوئیں۔ فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی میں کام کرنے والے مزدوروں کی اکثریت کا تعلق لیاری اور ساحلی بستیوں سے تھا۔ یہ لوگ ہمیشہ سے پیپلز پارٹی کے ووٹروں میں شامل تھے۔ اس بناء پر امید تھی کہ پیپلز پارٹی کی حکومت ماہی گیروں اور سوسائٹی کے ملازمین کی بہبود اور جیٹی پر جدید سہولتوں کی فراہمی کے لیے انقلابی اقدامات کرے گی مگر سب کچھ الٹا ہوگیا۔ پیپلزپارٹی نے سوسائٹی کی انتظامیہ میں تبدیلیاں کیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مچھلیوں کی فروخت بڑھ گئی مگر سوسائٹی کی آمدنی کم ہونا شروع ہوگئی۔ ملازمین کو تنخواہوں کی ادائیگی میں دیر ہونے لگی، ریٹائرڈ ملازمین کی گریجویٹی لاپتہ ہوگئی اور انتظامیہ ملازمین کے پراویڈنٹ فنڈ کو غصب کرنا چاہتی تھی مگر مزدور یونین کے عہدیداروں کے چوکس ہونے سے یہ فنڈ محفوظ رہا۔ جب ریٹائرڈ ملازمین نے اپنے واجبات کی عدم ادائیگی پر احتجاج کیا تو سوسائٹی کے چیئرمین ڈاکٹر نثار مورائی نے ریٹائرڈ ملازمین میں ایک ایک لاکھ روپے اس طرح بانٹ دیے جس طرح رمضان میں خیرات تقسیم ہوتی ہے۔
مزدور یونین کے سیکریٹری سعید بلوچ اور ان کے ساتھیوں نے احتجاج کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں واجبات کی ادائیگی کے لیے مقدمات درج کیے۔ جب رینجرز نے سانحہ صفورا چوک کے ملزمان کی تلاش میں فشریز پر چھاپہ مارا اور ڈاکٹر نثار مورائی اور ان کے ساتھی گرفتار ہوئے تو مزدور دشمنی کی خواہش کی تکمیل کرتے ہوئے یونین کے سیکریٹری جنرل سعید بلوچ اور ان کے ساتھیوں کوگرفتار کیا گیا۔ سعید بلوچ اور ان کے ساتھیوں کو ''را'' کا ایجنٹ قرار دیا گیا مگر تحقیقاتی اداروں نے اپنی کارروائی جاری رکھی تو ثابت ہوا کہ سعید بلوچ اور ان کے ساتھیوں پر لگائے گئے الزامات غلط ہیں۔ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مسلسل احتجاج کے بعد سعید بلوچ اور ان کے ساتھی رہا کردیے گئے۔ اب سعید بلوچ اور شوکت بلوچ اپنے واجبات کے لیے مسلسل جدوجہد کررہے ہیں۔
ایک عام اندازے کے مطابق کراچی کی بندرگاہ سے 70 سے 80 کروڑ روپے کی مچھلیاں فروخت ہوتی ہیں۔ان مچھلیوں اور دیگر سمندری مخلوق کی ایک بڑی مقدار یورپی اور خلیجی ممالک کو برآمد کی جاتی ہے، یوں قیمتی زرمبادلہ حاصل ہوتا ہے۔ ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ 50 برسوں سے مچھلیوں کی پیداوار بڑھتی جارہی ہے۔ صرف جون اور جولائی کے مہینوں میں یہ کاروبار رک جاتا ہے ، یوں فشرمین کوآپریٹوسوسائٹی کی آمدنی میں اضافہ ہورہا ہے تو سوسائٹی کس طرح خسارے کا شکارہورہی ہے؟ اس کا براہِ راست نشانہ غریب ملازمین بنتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کی پنشن اور دیگر فنڈ کی عدم ادائیگی کے تدارک کے لیے قوانین بھی موجود ہیں اور سپریم کورٹ نے اس ضمن میں مرکتہ الآراء فیصلے دیے ہیں۔
شوکت دن بھر دفتروں کے چکر لگاتے ہیں۔ وہ وکیلوں کے دفتروں کی خاک چھانتے ہیں اور شام کو مایوس ہوکرگھر چلے جاتے ہیں اوراپنے عزیزوں سے منہ چھپاتے ہیں۔ شوکت 5 سال کی طویل جدوجہد کے بعد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا ان کی زندگی میں یہ واجبات مل جائیں گے؟ سرکاری ملازمین کی پنشن اور دیگر واجبات کی عدم ادائیگی ایک انتہائی سنجیدہ مسئلہ ہے۔کراچی میونسپل کارپوریشن، اسٹیل ملز، فشرمین کوآپریٹو سوسائٹی اور دیگر اداروں کے کارکنوں اور افسروں کے ان مسائل پرکوئی ادارہ توجہ دینے کو تیار نہیں۔ سندھ کے عوام نے جمہوریت کے لیے بے پناہ قربانیاں دیں اوراپنی نمایندگی کے لیے پیپلز پارٹی کو منتخب کیا ہے۔
شوکت لیاری میں رہتے ہیں اور سارا لیاری اب بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ ہے مگر 2008ء سے پیپلز پارٹی کی قیادت نے کرپشن کو اپنی اولین ترجیح بنا لیا ہے۔ شوکت نے ہمیشہ پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا ہے مگر اپنی محبوب پارٹی کی کرپشن کی پالیسی نے اس کی زندگی کو اجیرن کردیا ہے۔ اب تو شوکت کے بعض جاننے والوں کو اس بات پر حیرت ہے کہ اس اندوہناک ماحول میں شوکت زندہ کیسے ہے؟