ملک بچانے کیلیے نظام مصطفیٰ کا نفاذ ضروری ہے علما

تمام خودکش حملوں، بم دھماکوں کی جا مع تحقیقات کیلیے قومی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے،علمائے کرام کا مطالبہ


Staff Reporter January 27, 2013
کراچی میں دہشت گردعناصر کے خلاف ہر قسم کی مصلحت سے بالاتر ہوکرکارروائی کی جائے،علمائے کرام۔ فوٹو: ایکسپریس

جشن میلاد النبیؐ نہایت عقیدت و احترام سے منایا گیا۔

جشن میلاد النبیؐ کا مرکزی جلوس نیومیمن مسجد بولٹن مارکیٹ سے علما و مشائخ کی قیادت میں نکالا گیا، مرکزی جلوس اپنے مقررہ راستوں سے ہوتا ہوا نشترپارک پہنچا جہاں جلسہ عام منعقد ہوا،جلسے سے خطاب کرتے ہوئے علما و مشائخ نے کہا کہ ملک بچانے کیلیے کسی انقلاب کی نہیں بلکہ نظام مصطفی ؐ کے نفاذ کی ضرورت ہے، امریکی و بھارتی حملوںکے خلاف موثر جوابی کارروائی کی جائے۔

جماعت اہلسنّت کراچی کے امیرعلامہ شاہ تراب الحق قادری نے کہا کہ ذکر مصطفی ؐ روحِ ایمان اور ہماری پہچان ہے موجودہ دور میں سچے مسلمان کا تعارف ذات مصطفی ؐ سے والہانہ وابستگی ہے ،خوف و دہشت کے اس ماحول میں جماعت اہلسنّت کے کارکنان نے جشن میلاد کے جلسے و جلوس منعقد کرکے سرفروشی کی عظیم مثال قائم کی ہے ، نظام مصطفی کا راستہ ہی ترقی و کامیابی اور امن و سلامتی کی منزل تک پہنچا سکتا ہے۔

مسلسل بدامنی قتل وغارت گری اور لاقانونیت کی وجہ سے اس وقت ملک تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے، ملک بچانے کیلیے کسی جماعت ، شخصیت اور کسی انقلاب کی نہیں بلکہ صرف نظام مصطفیؐ کے نفاذ کی ضرورت ہے ، نشترپارک میں منعقدہ مرکزی جلسہ میلادالنبیؐ میں حاجی حنیف طیب، علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی، مولانا ابرار رحمانی، مولانا خلیل الرحمن چشتی، محمد حسین لاکھانی، طارق محبوب و دیگر نے خطاب کیا۔

جلسے میں مولانا محمد ناصرخا ن قادری ،مولانا محمد الطا ف قادری ، مو لانا کامران قادری ،عرفان حسین قادری،شاہ سراج الحق قادری ،علامہ سید احمد علی شاہ سیفی ،مولانا اشر ف گورمانی، مولانا محمدرئیس قادری ، محفوظ قادری ،محمد شفیع رانا قادری ،محمد غفران احمد ،اسد جواد شروانی کے علاوہ دیگر قائدین ،علما ومشائخ، سنی تنظیمات کے عہدیداران ،وکلا ،صحافی ،تاجر ،طلبا، نوجوانوں اور دیگر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے شمع رسالت کے پروانوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔



جلسے میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں،حاجی حنیف طیب نے کہا کہ جلوسوںکے راستے میں گندگی کے ڈھیر ، ناقص سیکیورٹی اور میلاد کے ایام میں مسلسل لوڈشیڈنگ ،بلدیا تی اداروں ، کے ای ایس سی کی انتظامیہ اور حکو مت کے منہ پر طما نچہ ہے ، انھوں نے کہا کہ جلوسو ں کو سیکیو رٹی دینے سے رینجرز کا انکار قابل شرم ہے حیرت کی بات ہے مرکزی جلو س کی حفا ظت کیلیے ایک بھی رینجرز اہلکا ر موجود نہ تھا۔

علامہ کوکب نورانی اوکاڑوی نے کہا کہ وزیر داخلہ اور ان کے ہمنوا غیر ذمے دارانہ بیانا ت دے کر مسلمانوں کو جشن میلاد سے روکنا چاہتے تھے مگر مسلمانان پاکستان نے ہر قسم کے خوف کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پورے جوش و جذبے سے جشن میلاد مناکر تمام سازشوں کو ناکام بنا دیا ، مولانا ابرار احمد رحمانی نے کہا کہ غلامان مصطفیؐ تا قیا مت نبیؐ کا جشن ولادت شان و شوکت سے منا تے رہیں گے ،طارق محبوب نے کہا کہ امریکی اور مغربی قوتیں اسلام اور پیغمبر اسلام کیخلاف صف آرا ہوکر گستاخانہ طرز عمل پر اتر آئی ہیں جس کے سدباب کیلیے پاکستان سمیت عالم اسلام کو متفقہ لائحہ عمل تشکیل دینا ہوگا۔

شمع رسالت کے پروانے تحفظ عظمت مصطفیؐ کیلیے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ،موجودہ صدی غلبہ اسلام کی صدی ہے، مولانا خلیل الرحمان چشتی نے کہا کہ موجودہ دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرتے ہوئے کامل بندگی اور اطاعت کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ دنیا و آخرت میںفلاح و کامیابی ممکن ہوسکے،صوفی محمدحسین لاکھانی نے کہا کہ دور حاضر کا مسلمان اور انسان مکین گنبد خضرا اور دین اسلام سے دوری کے سبب مسا ئل و مشکلات کا شکار ہوکر در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔

مولانا اکرم سعیدی نے کہاکہ اہلسنّت و جماعت کی مساجد ،مدارس ،اور روحا نی مراکز کے خلا ف مسلسل دہشت گردی اور ملک بھر بالخصوص بلوچستان میں علما ومشائخ اہلسنّت کی ٹارگٹ کلنگ حکو مت کی واضح ناکامی ہے حکمراں ہمارے صبر و برداشت کا مزید امتحا ن نہ لیں، جلسہ عیدمیلادالنبی میں علامہ شاہ تراب الحق قادری نے دعا کی، آ خر میں بارگا ہ رسالتؐ مآب میں صلوۃ و سلام پیش کیا گیا،جلسہ عام میں پیش کردہ قراردادوں میں مطالبہ کیا گیا کہ حکمران مملکت خداداد پاکستان میں نظام مصطفیؐ کے فی الفور نفاذ کا اعلان کریں۔

کراچی میں دہشت گرد عنا صر کے خلا ف ہر قسم کی مصلحت سے بالاتر ہوکرکارروائی کی جائے اور عوام کے جان ومال کا تحفظ یقینی بنایا جائے ،ملک کو اسلحے سے پا ک کیا جا ئے ،وفا قی اور صوبائی حکومتوں کی اؤلین ذمے داری ہے کہ کراچی کے المناک واقعات میں جاں بحق ہونیوالو ں کے لواحقین ، زخمیوں کو علاج معا لجے کا فی الفور معاوضہ دیا جا ئے ،یہ اجتماع حکومت کو وارننگ دیتا ہے کہ تحفظ نامو س رسالت کے قانون میں کوئی نئی تبدیلی کی گئی یا اسے غیر مؤثر بنانے کیلیے نیاکوئی حربہ استعمال کیا گیا تو شمع رسالت کے پروانے ایسے مذموم عمل کو ہرگز برداشت نہیں کرینگے اور ایسی صورت میں مسلمانان پاکستان غازی علم الدین شہید اور غازی عبد القیوم شہیدکا کردار ادا کرنے پر مجبور ہونگے۔

قراردادوں میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکمراںبزدلی اورمفاد پرستی کے بجائے پاکستان کی قومی سلامتی کو یقینی بنائیں اور امریکی و بھارتی حملوں کے خلاف مؤثر جوابی کاروائی کریں، سانحہ نشتر پارک سمیت پورے ملک میں عوام ، پولیس، فوج اور سرکا ری اداروں،مساجد،بازاروں ،اسپتالوں میں ہونے والے تمام خودکش حملوں، بم دھما کوں کی جا مع تحقیقات کیلیے غیر جا نب دار قومی تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے جو ملک کی سلامتی اور استحکام کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور اس کی روشنی میں ذمے داران کے خلاف تمام مصلحتوں سے بالا تر ہوکر سخت ترین کارروائی کی جائے۔

نشتر پارک میں حسب رو ایت نمازعصر اور مغرب باجماعت ادا کی گئی ،نشتر پارک کے میدان میں حسب روایت نما ز عصر اور مغر ب کی اما مت علامہ سید شاہ تراب الحق قادری کے داماد مولانا سیّد زمان علی جعفری نے کی جبکہ اسٹیج پر بھی نما ز عصر اور نما ز مغر ب با جما عت ادا کی گئی، سانحہ نشتر پارک کے شہدائے میلاد النبی کی دینی ،ملی ،قومی ،سماجی ،سیاسی خدمات کو خراج عقیدت پیش کیاگیا۔

عوام اہلسنّت کی جا نب سے شہدائے میلادالنبیا کی ارواح کے ایصا ل ثو اب کیلیے ملک بھر میں کر وڑ درود شر یف، قرآن خوانی،کلمہ طیبہ ، فاتحہ خوانی مغفرت و بلندیٔ درجات کی دعا کی گئی ، نیز عالم اسلام اور پاکستان کی سلامتی ، ترقی، خوشحالی اورامن کیلیے بھی خصوصی دعائیں کی گئیں ،قائدین جما عت اہلسنّت نے گورنر سندھ ، ڈی جی ر ینجرز، پو لیس حکام کا12ربیع الاول عید میلا د النبیا کے مو قع پر بہتر ین انتظا مات کرنے پر تہہ دل سے شکر یہ ادا کیا ہے،رہنمائوں نے کوریج پر میڈیا سے اظہار تشکر کیا۔