کرپشن کے خاتمے کا زرین مشورہ

ہمارا پہلاکام تحقیق کاہے جیسا کہ بعض ہوشیار وکیل کچھ جاسوسوں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq May 30, 2017
[email protected]

ایسا لگ رہاہے اوریہ صرف خداکا فضل وکرم ہے کہ ہمارے پہلے دھندے''تحقیق'' کی طرح یہ دوسرا سائیڈ بزنس یعنی''مشورہ بازی'' بھی اچھی خاصی بیسٹ سیلرجاری ہے لیکن پھر بھی ''پبلسٹی'' توآج کل کاروبار کے لیے روح کی حیثیت رکھتی ہے،اس لیے ہم بھی آپ کوبتادیں کہ ہمارے اس کاروبار سے کتنوں کا بھلا ہواہے اورہورہاہے ہے،ایک پشاور کے ڈاکٹروں کی لیبارٹریوں اورطرح طرح کی مشینوں کا مارا ہوا مریض جس کا رہا سہا بھرکس حکومت کی آشیربادسے روزانہ قیمت بڑھانے والی دواساز کمپنیوں نے نکال لیا تھا، ہم سے بغرض مشورہ ملا اور ہم نے اسے ایک ایسا زرین مشورہ دیاکہ نہ صرف وہ خودآج کل آرام سے دنیاکے تمام غم وآلام سے محفوظ ہوگیاہے بلکہ اس کے لواحقین کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔ہم نے اسے مشورہ دیا کہ پہلے وہ خودکو ایک بڑی رقم میں بیمہ کرے۔

پھر ایک رقعہ لکھے جس میں تمام معالجوں اوردشمنوں کونامزد کرے اور پھرخود ایک چھوٹی سی گولی کے ذریعے حضرت عزرائیل کو ریفرکرے،اس کے لواحقین کو بیس لاکھ انشورنس کے ملے۔ تمام نامزدگان نے جرگوں کے ذریعے جوالگ الگ مک مکا کیے لگ بھگ دوکروڑ روپے اس مد میں آگئے اور خود جو تمام امراض اوران کے پیدا کرنے والے ڈاکٹروں کے چنگل سے آزاد کرکے وہیں آرام سے جا سویا جہاں کا خمیر تھا۔مطلب یہ کہ اب ہمارا دوسرا دھندا بھی خاصا اسٹیبلش ہوچکاہے جسے جب بھی ضرورت ہو ہماری خدمات حاصل کرسکتاہے اور''مسائل'' سے نجات کے ساتھ ساتھ فوائد کا ایک اچھاخاصاپیکیج بھی حاصل کرسکتاہے۔ہاں البتہ چونکہ ہماراکاروبارنیانیاہے، وسائل کی کمی ہے۔

اس لیے بڑے بڑے مسائل جیسے''لیڈر''وغیرہ کوہم ہاتھ میں نہیں لے رہے ہیں لیکن مایوس ہونے کی بھی ضرورت نہیں ہے، اجرتی قاتلوں کی ایک معروف گینگ سے بات چیت جاری ہے، اگران سے معاملہ ڈن ہوگیا توپھرہم''بڑے مسائل'' کوحل کرنے کی پوزیشن میں بھی آجائیں گے۔ فی الحال تو ہم زیادہ ترفلاحی قسم کے مشورے دیتے ہیں جس میں سرفہرست مسئلہ کرپشن کاہے اورتقریباً ہرجانب سے آرڈر آرہے ہیں کہ ملک میں کرپشن کوختم کرنے کے لیے آپ کا کیامشورہ ہے؟ تواس سلسلے میں ہم تمام خواہش مندوں سے معذرت خواہ ہیں کہ آج کل کرپشن خودہماری موکلہ ہے اورہم نے اس کی طرف داری کاکیس قبول کیا ہوا ہے۔

اور فیصلہ ہم نے کسی لالچ یامینڈیٹ کی بنیادپرنہیں کیاہے بلکہ میرٹ پرکیاہواہے۔کیونکہ ہماری معصوم ومظلوم''موکلہ'' کرپشن نے جب اپنی آپ بیتی،اپنی کارکردگی پاکستان کے عوام پراپنے احسانات اورافادیت کی کتھاسنائی توہماری آنکھیں بھرآئیں نہ صرف اس کی طرف داری کا ٹاسک قبول کرلیا بلکہ اپنے پچھلے زمانے کے رویے کی معافی بھی چاہی کیوں کہ ہم بھی ایک زمانے سے لوگوں خاص طور پر ''صنفی تنقیدیوں'' کے بہکاوے میں آکراس بچاری کوغلط سمجھ رہے تھے۔لیکن اب؟ معاف کیجیے آپ لوگ توطرح طرح کے صنفی تنقیدیوں کے بہکاوے میں آکرخواہ مخواہ اس بچاری کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں حالانکہ اس کی ساری آپ بیتی سننے کے بعد اب ہمارا نظریہ یہ ہے کہ اگرکرپشن کو پاکستان سے نکال دیاگیا تویوں سمجھیے جیسے کسی وجود سے اس کی جان نکال لی جائے۔ بلکہ ہمارا خیال تویہاں تک ہے کہ کرپشن اورپاکستان اب ایک جان دوقالب ہوچکے ہیں۔بلکہ ایک دانائے راز کا تویہاں تک کہناہے کہ لوگ خواہ مخواہ ''نظریہ پاکستان''نام کی کسی غیرموجود اور غیرممکن چیزکاذکرکرتے رہتے ہیں ورنہ عملی طورپر یہاں''نظریہ کرپشن''اصل میں جاری وساری ہے، یہ بالکل ویساہی معاملہ ہے جیسے کچھ لوگ''اسلام''کانام لیتے ہیں اورحلقہ بگوش اسلام آباد کے ہوتے ہیں۔

مطلب ہے نازوغمزہ ولے گفت گو میں کام

چلتا نہیںہے دشنہ و خنجرکہے بغیر

چونکہ ہمارا پہلاکام تحقیق کاہے جیسا کہ بعض ہوشیار وکیل کچھ جاسوسوں کی خدمات بھی حاصل کرتے ہیں، اس لیے کہ صرف موکل کے بیان پربھروسہ نہیں کیاجاسکتا چنانچہ کرپشن کی بپتا سننے کے بعد ہم نے جب تحقیق کی توپتہ چلا کہ کرپشن کا کہنا بالکل درست ہے ، اس نے آج تک کسی چیونٹی کوبھی نقصان نہیں پہنچایاہے، کتنے لوگوں سے مسجدوں اورمدرسوں میں چندے دلواتی ہے کتنے لوگوں کواس نے کتنے حج اورعمرے کرائے،کتنے لوگوں سے اسپتال اور خیراتی ادارے بنوائے، پھر بنگلوں، مارکیٹوں، بازاروں اور ٹاوروں وغیرہ کی تعمیر میں کتنے کتنے بے روزگاروں کوروزگارپر لگایا۔ اتنی معصوم اورمرنجامرنج ہے کہ اپنے دشمنوں جیسے اینٹی کرپشن اوراحتساب وغیرہ کوبھی پالتی ہے، فائدے پہنچاتی ہے بلکہ ان کاوجود قائم رکھتی ہے۔

آپ خودہی سوچیں اتنی کثیرالفوائداورمخیرانہ موکلہ کے خلاف ہم کیسے جاسکتے ہیں، آخرانصاف بھی کوئی چیزہے اورہم توکاروبار میں سب سے پہلا اصول انصاف کا رکھتے ہیں۔ہم نے اپنی تحقیق کے ٹٹوکوہرطرف دوڑایا لیکن ایک بھی کوئی ایسا کیس نہیں ڈھونڈ پائے جس میں کرپشن نے بھولے سے بھی کسی کوکوئی نقصان پہنچایا ہو، یا کسی کا کچھ ذرہ سابھی بگاڑاہو۔ صدروں،وزیروں، وزیراعظموں،وزیراعلیٰ وں،گورنروں سے لے کرپولیس کے سپاہی اورپٹوارخانے کے چپڑاسیوں تک،کون ہے جواس کا''فین'' یا زیراحسان نہیں ہے۔

لیکن دوسری طرف غلط یاصحیح اس کا برا چاہنے والے اور اسے ختم کرنے والے صنفی تنقیدیے بھی بہت ہیں۔اس لیے ہم نے دونوں فریقوں کی خواہشات کومدنظررکھتے ہوئے جو ''مشورہ'' تیارکیاہوا ہے اس سے سانپ بھی نہیں مرے گا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹے گی بلکہ لاٹھی کوزمین میں گاڑ کر سانپ کواس سے لپٹالیاجائے گا۔آخری سرے پرلاٹھی کی مٹھی اورسانپ کا منہ ایک دوسرے کا بوسہ گیرہوجائے گا۔ کرپشن کوبھی ہم نے راضی کرلیاہے، وہ توویسے بھی بات ماننے والی اور ہرکسی کا بھلا چاہنے والی ہے۔

اس لیے اسے کوئی اعتراض نہیں اور ہمارا مشورہ قبول کرنے کے لیے دل وجان سے تیارہے اور یہ کوئی نیامشورہ بھی نہیں ہے کافی عرصہ پہلے جب ہمارے صوبے میں تحریک انصاف نے انصاف کابول بالا کرناشروع کیا اورپھرکرپشن کو ''ختم'' کرنے کا اعلان کیا تویہی مشورہ ہم نے اس وقت بھی عرض کیاتھا بالکل ہی سیدھا سادہ اور قابل عمل مشورہ ہے اور وہ یہ کہ ''کرپشن'' کا نام بدل کر ہدیہ،شکرانہ یا ڈونیشن رکھ دیاجائے، اس کے بعد اگرکوئی کرپشن کانام ونشان بھی رہا توساری ذمے داری ہم پر۔ویسے کرپشن نے تویہ عندیہ بھی دیاہے کہ اگراس کانام ''پاکستانیہ'' بھی رکھ دیاجائے تو اسے قبول ہوگا۔