غلطی جو ہم نے پکڑی

اگلے وقفے کے لیے کوئی نہ کوئی دوسرا ’’پانامہ‘‘ مل ہی جائے گا


Saad Ulllah Jaan Baraq June 07, 2017
[email protected]

کبھی کبھی جب ہمیں یہ خیال آتا ہے کہ ہمارے بزرگ کتنے بڑے دانا و بنیا لوگ تھے، عام قسم کے دانا بینا بھی نہیں وہ تویونان وغیرہ میں بھی پائے جاتے تھے بلکہ بہت زیادہ پائے جاتے تھے، اتنے زیادہ کہ نام کے لیے حروف کم پڑ جاتے تھے اور ڈبل ڈبل حروف والے نام رکھنا پڑے تھے چونکہ یونان میں حروف تہجی کے صرف دو حروف بیسٹ سیلر اور دانائی کے لیے پسندیدہ تھے ط۔ اور ق ۔ اس لیے اکثر ناموں میں ان کی بھرمار ہوجاتی تھی۔

سقراط ' بقراط ' دمیقراط ' ارسطا قراط ' طرسیقا قراط ' افلاطون ' قفلاتون اور طفلاتون وغیرہ لیکن ان کے اور ہمارے بزرگوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق تھا، وہ ''چھوٹی چھوٹی'' باتوں کے لیے بھی ''موٹی موٹی'' کتابیں لکھا کرتے تھے جب کہ ہمارے بزرگ ''مشکل سے مشکل ''کہانیوں کو بھی دو لفظوں یا ایک قول زریں یا گوہرین یا جواہرین میںبیان کردیتے تھے یعنی پورے ''سمندر'' کو ایک کوزے میں بھر لیتے تھے جس طرح پرانی کہانیوں کے جاودوگر کسی جمبو قسم کے ''جن'' کو دھواں بنا کر چھوٹی سی بوتل میں بند کردیتے تھے اور پھر اس بوتل کو سمندر میں پھینک دیتے تھے، ممکن تھا کہ ہمارے بزرگ بھی سمندر کو کوزے میں بند کرکے اسی کوزے کو سمندر برد کردیتے لیکن انھی دور بینی اور خورد بینی کی وجہ سے ان کو پتہ تھا کہ اگلے زمانوں میں ان کی اولادوں میں بڑے اعلیٰ پائے کے نکمے نکھٹو پیدا ہوں گے، اس لیے ان کوزوں کو جن میں سمندر بند کرتے تھے اقوال زرین، حکایات اور ضرب المثال کی صورت میں بطور میراث کے چھوڑ گئے ' کہ داشتہ آئد بہ کارہ اور زوجہ آیند بہ رکشا یا بس۔

ویسے تو ان اقوال زریں وہ گوہرین و جوہرین کا ہر ''دانہ'' اپنی جگہ ایچک دانہ بچک دانہ ' دانے اور بیڑ دانہ '' کہے لیکن آج ہم صرف ایک ''قول زرین'' کا ذکر اس لیے کرنا چاہتے ہیں کہ اس میں کچھ ہماری محققانہ حس کی تسکین بھی ہو جائے گی جو اب لت''علت'' سے گزر کر''لت '' اور لت سے گزر کر عادت بن چکی ہے۔

اس میں کتابت کی ایک بہت بڑی فاش بلکہ فحش غلطی موجود ہے۔ کیا آپ نے وہ غلطی پکڑی ہے ؟ کیسے پکڑ سکتے ہیں ۔ آپ ہماری طرح محقق تو ہیں نہیں اس لیے اسی طرح دعا کو ''دغا'' محرم کو مجرم اور نامزد کو نامرد ہی سمجھیں گے۔ یہ تو ہمیں دعا دیجیے بلکہ ہمارے ساتھ ''ادبی اکیڈمیوں''اور پشاور میں قانون نافذ کرنے اور تحقیق کرنے والے اداروںکو دعا دیجیے جنہوں نے ہمیں ''محقق '' بنایا ' محقق بنایا 'محقق بنایا آپ نے اور شکر بھی ادا کریں کہ ہم نے اس قول زرین میں کتابت کی غلطی پکڑ لی ' اور اب آپ کی رہنمائی مزید گمراہی کی طرف کرنے کے بجائے رات راہی کی طرف کرنا چاہتے ہیں۔ہماری تحقیق کے مطابق جس بزرگ نے اس قول زرین و گوہرین و جواہری کو شکر بند کیا ہے، وہ طبیعت کے بڑے کنجوس تھے اور انھوں نے کاتب کی مزدوری مارلی تھی، اس لیے کاتب نے جواباً ان کے قول میں ڈنڈی مار لی تھی۔اصل میں ہمارے وہ بزرگ لوگ اقوال زرین کی ایجاد اور کنسٹرکشن کے ساتھ ساتھ مزدوری اور اجرت مارنے کا سائیڈ بزنس بھی کرتے تھے۔

غالب کا وہ قصہ تو آپ نے پڑھا ہی ہوگا کہ ایک دن ان کے ایک شاگرد غالباً میر مہدی مجروح نے ان کا سر دباناچاہا تو مرزا نے منع کرتے ہوئے کہا کہ آپ ''سید زادے'' ہیں اور سید زادوں سے بیگار لینا اچھی بات نہیں ہے، اس پر میر صاحب نے کہاکہ ٹھیک ہے آپ بیگار مت لیجیے بعد میں اجرت دے دیجیے' غالب نے رضا مندی ظاہر کی اور میر صاحب ان کے پاؤں دباتے رہے، دابنے کے بعد میر صاحب نے کہا کہ اب مزدوری دے دیجیے ، اس پر غالب بولے ، کیسی اجرت ۔ آپ نے میرے پاؤں دابے ' اور میں نے آپ کی اجرت دابی حساب برابر ۔ اس بزرگ نے بھی کاتب کی اجرت دابی تھی ،کاتب نے بھی ان کا قول زرین داب دیا ۔ پاؤں یعنی ''پا'' تو اس میں پہلے ہی سے موجود تھا ''صرف '' نامہ کو ادھیڑ کر ''جامہ '' بنانا سو بنا دیا ۔ ذرا حساب لگائے کہ کاتب کی اس جوابی کارروائی سے اب تک کتنے پاجامے ادھڑے اور سلے ہوں گے۔

حالانکہ پاجامے کا اس میں کوئی دوش نہیں تھا ' بیچارے کو ''ستر پوشی'' کے جرم میں کتنی سوئیوں اور قنچیوں سے گزر نا پڑا ہوگا ' وہ بھی سراسر بے قصور ۔ قصور پانامے کا تھا اور چھری پاجامے پہ چل گئی، وہ تو اس کی خوش قسمتی تھی کہ ہم محقق بنے اور اس کتابت کی غلطی کاپتہ چلا لیا ورنہ اس بیچارے کو اور کتنا اتیار چار سہنا پڑتا ' بزرگ نے تو مستقبل میں جھانک کر پتہ چلا لیا تھا کہ آنے والے زمانوں میں ایک ایسا وقت بھی آجائے گا جب سیاست کی کو کھ سے جمہوریت نام کی ایک ''دختر بداختر'' تولد ہو گی جو نہایت کثیر الاولاد ثابت ہو گی اور اس کی اولادوں کو شدید بے روزگاری کا سامنا کرنا پڑے گا جن کی ''باری'' ہو گی وہ تو مزے میں مصروف ہوں گے لیکن جن کی باری نہیں ہو گی وہ کیا کریں انتظار تو ویسے بھی ''اشد من القتل''ہوتا ہے اور اگر آدمی کے پاس کچھ کام بھی نہ ہو تو وہ اپنی طویل بیروزگاری کیسے کاٹے گا؟۔دانا بینا تو وہ تھے ہی اور پھر سمندروں کو کوزے میں بند کرنے کا طویل تجربہ بھی رکھتے تھے ۔اس لیے کوئی لمباچوڑا ہدایت نامہ مکاولی اور چانکیہ کی طرح لکھنے کے بجائے یہ قول زرین ارشاد کیا کہ ''پانامہ'' ادھیڑ کرسیا کر جسے کاتب نے انتظامی جذبے سے پاجامہ کر دیا تھا لیکن فکرناٹ دیر آئد درست آئد ۔ابھی نہ پلوں کے نیچے اتنا پانی گزا اور نہ پلوں کے اوپر اتنی گاڑیاں بغیر ٹول ٹیکس کے گزری ہیں اور بروقت اس کتابت کی غلطی کا پتہ بھی چل گیا ہے اس لیے؟

بیکارمباش کچھ کیا کر

''پانامہ'' ادھیڑ کرسیا کر

ہم بھی سوچتے تھے کہ آخر ایک پاجامے کو کوئی کہاں تک ادھیڑے گا، سئیے گا کسی نہ کسی دن سویوں کی تاب نہ لا کر جواب دے جائے گا لیکن پانامے کے ساتھ ایسا کوئی خدشہ لاحق نہیں ہے کہ اس میں سینے ادھیڑنے کی گنجائش بے پناہ ہے۔ ہمارے خیال میں اگر سلیقے سے ادھیڑا سیا جائے تو ایک ''پانامہ'' ایک باری کے درمیانے عرصے کے لیے کافی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگلے وقفے کے لیے کوئی نہ کوئی دوسرا ''پانامہ'' مل ہی جائے گا ، اس لیے ایک بار پھر بیکارمباش کچھ کیا کر۔