انسانیت زندہ ہے
امریکا میں صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں
انسانیت زندہ ہے۔ امریکی ریاست اوریگون Oregon کے شہر پورٹ لینڈ میں دوامریکیوں نے دو مسلمان عورتوں کی جان بچاتے ہوئے اپنی جانیں قربان کردیں۔ پورٹ لینڈ میں چلنے والی مسافر ریل گاڑی میں شام کے وقت میں خاصا رش ہوتا ہے۔ اس سانحے والے دن گاڑی کی تمام سیٹیں بھری ہوئی تھیں۔ شام 4:30 بجے کا وقت ہوگا کہ اس گاڑی میں دو مسلمان خواتین سفر کررہی تھیں۔ ان میں سے ایک نے اسکارف پہنا ہوا تھا۔ جس کمپارٹمنٹ میں یہ خواتین موجود تھیں وہاں ایک جنونی Jeremy Christian نامی شخص بھی موجود تھا۔ جرمی کی نظریں مسلمان خواتین پر پڑیں تو وہ جنونی کیفیت کا شکار ہوگا۔
جرمی نے مسلمان خواتین کو مغلظات بکنا شروع کیں اور چیخ چیخ کر مسلمانوں کو برا کہنے لگا۔ اس کمپارٹمنٹ میںRicky John Best اور دو نوجوان Talles Myrddin Nomkai Mechf اور Micah David Cole Fletcher موجود تھے۔ یہ تینوں افرادشورسن کر متوجہ ہوئے اور جرمی کرسٹن کو سمجھانے کی کوشش کی مگر جرمی کا اشتعال بڑھ گیا۔ اس نے اپنی پینٹ سے چاقو نکال لیا۔ جب ان تینوں امریکیوں کو محسوس ہوا کہ یہ شخص خواتین پر حملہ کردے گا تو وہ درمیان میں آگئے۔ اس شخص نے ان تینوں پر چاقو سے وار کیے اور چند ہی لمحوں میں تینوں خون میں نہا گئے۔ چند منٹوں کے بعد Fletcher زمین پر گر گئے اور جاں بحق ہوگئے۔ Mechf کی گردن پر گہرا زخم آیا۔ اس دوران ایمبولینس آگئی۔ کمپارٹمنٹ میں موجود لوگوں نے Mechf کی ہمت بڑھانے کی کوشش کی۔ وہ اسپتال میں جاں بحق ہوگیا۔ Mechf نے اسٹریچر پر آخری الفاظ یہ کہے کہ مجھے ان لوگوں سے محبت ہے ۔ John اسپتال میں زیر علاج ہے۔ ڈاکٹروں کو امید ہے کہ وہ صحتیاب ہوجائے گا۔ جرمی کو قتل اور اقدام اقتل کے الزامات میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔
امریکا میں صدر ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات کشیدہ ہوتے جارہے ہیں۔ ٹرمپ کے منتخب ہونے کے پہلے 10 دنوں میں نفرت آمیز جرائم کی 867 وارداتیں ہوچکی ہیں۔ مانچسٹرمیں ایک ہوٹل پر ایک لیبیائی نژاد نوجوان عبید نے ایک کنسرٹ پر حملہ کیا اور بہت سے افراد جاں بحق ہوئے اور خاصے زخمی بھی ہوئے۔ اس کنسرٹ میں شرکت کرنے والے افراد زیادہ تر نوجوان تھے۔ اس حادثے کے بعد برطانیہ میں سکون رہا۔ نفرت آمیز جرائم کے چند واقعات رونما ہوئے۔ ایک پاکستانی ڈاکٹر جو امدادی سرگرمیوں میں مصروف تھے کو ایک سفید فارم نے ہراساں کرنے کی کوشش کی مگر اس پاکستانی ڈاکٹر نے کہا کہ وہ اس صورتحال سے رنجیدہ ہیں مگر مایوس نہیں ہیں اور انسانیت کی خدمت جاری رکھیں گے۔مانچسٹر میں ایک مسلمان نوجوان آنکھوں پر پٹی باندھ کر اور ایک پلے کارڈ لے کر مرکزی جگہ پر کھڑا ہوگیا۔ پلے کارڈ پر لکھا تھا میں مسلمان ہوں اور میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ پہلے تو لوگ اس کا مطلب نہ سمجھ سکے پھرگلے ملنے والوں کی لائن لگ گئی۔
بھار ت میں مودی سرکار نے گائے ذبح کرنے کو قومی مسئلہ بنادیا ہے۔ گزشتہ دو برسوں کے دوران کئی مسلمانوں کو مختلف ریاستوں میں گائے ذبح کرنے کے شبہ میں ہجوم قتل کرچکا ہے۔ دہلی کے قریب ایک گاؤں میں جن دو مسلمانوں کو فریج میں گائے کا گوشت رکھنے کے الزام میں ہجوم نے قتل کیا تھا تحقیقات کے بعد یہ الزام غلط ثابت ہوا۔ اب مودی سرکاری نے گائے، بیل اور بھینس وغیرہ کی خریدو فروخت پر پابندی کا قانون نافذ کردیا ہے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے اس قانون کو معطل کیا ہے جب کہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا مکھرجی یہ اعلان کرچکی ہیں کہ بھارتی یونین کو ریاستوں میں یہ قانون تھوپنے کا حق نہیں ہے۔ مغربی بنگال میں گائے کے گوشت کی فروخت کی اجازت ہے۔ ممتا مکرجی سے قبل کمیونسٹ پارٹی مارکسسٹ 20 برسوں تک مغربی بنگال میں برسراقتدار رہی۔ کمیونسٹ پارٹی نے گائے کے گوشت کی فروخت کو قانونی شکل دی تھی اور اس بنیادی حق کو تسلیم کیا تھا کہ ہر شخص کو اپنی پسند کے کھانے کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ یہ سیکیولر روایت آج بھی مغربی بنگال اورکیرالا وغیرہ میں برسر اقتدار ہے تو لوگ سکون سے زندگی گزار رہے ہیں۔
نائن الیون کی دہشت گردی کے بعد مذہبی جنونیت نے دنیا بھر کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے مگر مختلف ریاستوں کی پالیسیوں کے نتیجے میں مذہبی انتہاپسندی کو تقویت مل رہی ہے۔ ہمارے ملک میں برداشت، دوسروں کے نظریات کو سننے اور عقل وفہم کے مطابق جواب دینے کی روایت دور ہورہی ہے۔ ولی خان یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے طالب علم مشال خان کو سوال اٹھانے کی عادت تھی۔ وہ مطالعے کا شوقین تھا اور زندگی کے ہر مسئلے پر سوال اٹھاتا تھا۔ اس کو ولی خان یونیورسٹی کے حالات پر بھی تشویش تھی جہاں بدعنوانی بڑھ رہی تھی۔ طلبہ کو سہولتیں کم اورمسائل بڑھ رہے تھے۔ یوں مشال کو سزا دینے کے لیے ایک ہجوم نے اس کو قتل کردیا۔ ریاست نے کارروائی کی، چند خاص ملزمان گرفتار ہوئے مگر واقعے کا اصل محرک فرار ہوگیا۔ اب جے آئی ٹی کی رپورٹ آچکی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشال کی موت باقاعدہ منصوبہ بندی سے ہوئی۔ المیہ یہ ہے کہ مردان میں مشال کے قاتلو ں کی حمایت میں مظاہرے ہونے لگے تھے ۔ اخبارات میں رپورٹیں شایع ہوئیں کہ بعض مذہبی حلقوں نے مشال کے قاتلوں کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مگر نہ تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں اور نہ ہی اعلیٰ عدلیہ نے ان آوازوں کا نوٹس لیا مگر ایسی آوازوں کے خلاف مزاحمت کی تحریک بھی خاصی مؤثر ہے۔
امریکا میں ایک بڑی تحریک ٹرمپ کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہی ہے۔ امریکا کے کسی صدرکے خلاف اتنے مظاہرے نہیں ہوئے جتنے صدر ٹرمپ کے خلاف ہوئے ہیں۔ یہ اس تحریک کا نتیجہ ہی ہے کہ تین امریکیوں نے دو مسلمان خواتین کے لیے اپنی جانیں نچھاورکردیں۔ بھارت میں سیکیولر ذہنوں پر مشتمل تحریک مذہبی انتہاپسندی کے خلاف مزاحمت کررہی ہے۔ جواہر لعل یونیورسٹی کے طالب علم اس تحریک کے ہراول دستے میں شامل ہیں۔ برطانیہ، فرانس اور جرمنی میں دہشت گردی او ر تباہی کی وارداتوں کے باوجود قانون کی بالادستی قائم رہی۔ یہی وجہ ہے کہ مانچسٹر اور لندن میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کے باوجود پاکستانی نژاد میئر صادق خان اپنی پوزیشن کے ساتھ عہدے پر تعینات ہیں اور مسلمان کسی خوف کا شکار نہیں۔ برطانیہ کے شہری ایک مسلمان نوجوان کی دہشت گردی کے باوجود مساجد پر پابندی کے لیے تیار نہیں۔ عام آدمی نے اپنے ملک میں موجود ہر فرد کا احترام کیا۔
پاکستان میں بھی بہت سے لوگوں نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف آوازیں اٹھائیں۔ چند سال قبل لاہور میں اسٹیڈیم جانے والی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا۔ اس بس کے ڈرائیور نے زخمی ہونے کے باوجود سری لنکن ٹیم کو محفوظ مقام پر پہنچادیا تھا۔ اس ڈرائیور نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر سری لنکا کے کھلاڑیوں کو بچالیا۔ قبائلی علاقے کا اعتزاز حسن بھی ان لوگوں میں شامل ہے جس نے اپنی جان کی قربانی دے کر اپنے اسکول کے ساتھیوں کو بچایا۔ پاکستان کے شہری بھی کسی بھی موقعے پر یہ ثابت کردیں گے کہ وہ ملک میں موجود ہر شخص خواہ اس کا عقیدہ، نسل اور جنس کوئی بھی ہو دفاع کرسکتے ہیں۔