امن کا راستہ

ہر ملک کی ہر حکومت اگر قید نہیں تو نظر بند ضرور ہوتی ہے اور جتنا بڑامجبوراتنی ہی بڑی زنجیر


Saad Ulllah Jaan Baraq June 14, 2017
[email protected]

امن کا راستہ یہاں اس قدیم اور مقدس سرزمین سے نکلتا ہے۔ آپ ان الفاظ پر غور کیجیے کہ یہ کس کے ہو سکتے ہیں شاہ سلمان کے، نوازشریف کے یا کسی اور مسلمان سربراہ کے بلکہ بن لادن او الظواہری کے بھی ہو سکتے ہیں، ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوئی نہایت پرجوش مسلمان اس مقدس سرزمین سے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہا ہو، اور پھر اگر یہ جملہ بھی ساتھ ملا کر پڑھیں کہ دہشتگردی کے 95 فیصد سے زیادہ شکار خود مسلمان ہیں۔

پہلے تھوڑی سی تشریح اور بھی کیے دیتے ہیں۔ یہ مختلف مذاہب اور یا عقائد کی جنگ نہیں ہے مختلف فرقوں کے درمیان جنگ بھی نہیں یہ الگ الگ تہذیب کے درمیان جنگ بھی نہیں بلکہ یہ اچھائی اور برائی کے درمیان جنگ ہے یہ ظالم اور اچھے انسانوں کے درمیان جنگ ہے۔دراصل امریکی لوگ اور میڈیا ہمیشہ سے دنیا کو جو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ امریکا کا صدر دنیا کا سب سے طاقتور شخص ہوتا ہے سراسر جھوٹ اور دکھاوا ہے بلکہ شاید آپ یہ سن کر بھی یقین نہیں کریں گے کہ دنیا میں اگر کوئی انتہائی مجبور اور محصور شخص کوئی ہو سکتا ہے وہ یہی سب سے زیادہ طاقتور شخص ہو تا ہے اور یہ صر ف امریکا میں نہیں بلکہ اکثر ممالک کے حکمران ایسے ہی مجبور و محصور ہو تے ہیں۔

ان کے گلے میں ایک نا دیدہ رسی ہوتی ہے جو ایک مضبوط کیل سے بندھی ہوتی ہے وہ اس کیل اور رسی سے باہر نہیں نکل سکتے البتہ اس کیل اور رسی کے دائرے میں جو گھاس ان کو میسر ہو تی ہے اس کی جڑیں تک چبا سکتے ہیں اس کو جڑ سے بھی اکھاڑ سکتے ہیں اور اس پر کود کود کر پیوند زمین بھی کر سکتے ہیںلیکن دائرے سے باہر ایک تنکا تک نہیں اٹھاسکتے۔ اس دائرے کو عام طور پر اسٹیبلشمنٹ کہا جاتاہے جو حکمران کے آتے ہی اس کے اپنے کان، ناک، آنکھیں، زبان، دل، دماغ وغیرہ نکال کر مضبوط تالے میں بند کر دیے جاتے ہیں اور انھیں سرکاری اعضاء فراہم کر دیے جاتے ہیں جس طرح قیدیوں کا اپنا سارا سامان رکھوا لیا جاتا ہے اور رہا ہونے کے بعد ہی انھیں دیا جاتا ہے کہ لے یہ اپنی امانت سنبھال۔

ہر ملک کی ہر حکومت اگر قید نہیں تو نظر بند ضرور ہوتی ہے اور جتنا بڑامجبوراتنی ہی بڑی زنجیر۔ بچاری بکری کے لیے چھوٹی سی رسی ہی کافی ہو تی ہے لیکن ہاتھی کے لیے بڑی مضبوط زنجیر چاہیے ہوتی ہے ہمارے جیسے ملکوں میں بھی ایسا ہی ہو تا رہتا ہے بھٹوصاحب ایسے لگ رہے تھے جیسے اقتدار سنبھالتے ہی ملک کے سارے سرمایہ دار بیوروکریٹ اور کرپٹ لوگ برسرعام پھانسی کر دیے جائیں یہ ٹکٹکیاں لگی ہوں اور ہر بازار میں عبرت کے نظارے دکھائی دیں گے غریبوں کو گھر بیٹھے بیٹھے شام و سحر برے پرے خوانچے ملیں گے ہر روز عید اور ہر رات شب برات ہوگی ان دنوں ایک پریس ٹرسٹ نام کا ادارہ ہوتا تھا اس کے بارے میں تو نام لے کر کہا گیا تھا کہ بھٹو صاحب کی تخت نشی اور پریس ٹرسٹ کی تختہ کا دن ایک ہوگا۔

لیکن ہوا کیا ۔۔؟ یہ آپ نے بھی دیکھا ہم نے بھی اور اس ناہنجار فلک نے بھی دیکھا کہ روٹی کپڑا مکان چھیننے والے سارے کے سارے اس کے پہلو میں بیٹھے ہوئے تھے کان نمک کا تو خاصا ہی یہ ہوتا ہے کہ بظاہر وہ چیز صحیح و سالم ہو تی ہے لیکن اندر سے نمک ہو چکی ہوتی ہے۔اس طرح کوئی بھی فوجی یا سول حکومت جب بھی آئی ایسا ہی ہوا جنرل مشرف کی غیر جمہوری حکومت اور زرداری کی عوامی جمہوریت میں کیا فرق پڑا؟ مطلب اس سارے قصے کا یہ ہے کہ ٹرمپ کیاکہتا ہے اسے تو وائٹ ہاؤس پہنچنا تھا اور اس کے لیے کچھ کہنا تھا وہ کہہ دیا اب نہ اس کی زبان اپنی ہے نہ کان اپنے ہیں نہ آنکھیں نہ دل نہ دماغ۔ دنیا کا یہ سب سے طاقتور آدمی تو اتنا کمزور ہو تا ہے کہ اس کے قدم بھی پہلے ہی سے گنے ہو ئے ہوتے ہیں کہ کس طرف کتنے قدم رکھے گا۔

پہلے کہا جاتا تھا کہ ہر امریکی اپنے سر کے بالوں جتنا مقروض ہو تاہے لیکن اب شاید اس کی داڑھی اور مونچھو ں کے بال بھی ناکافی ہوں آپ کا کیا خیال ہے کہ سعودی عرب میں پچپن ممالک کا یہ جو کھیل رچا گیا یہ کس لیے رچایا گیا ہے اس پر اب اونچی سطح کے دانشور تو وہی راگ الاپیں گے جو عرصہ دراز سے الاپا جا رہاہے، یعنی دہشتگردی کے خلاف جنگ، دہشتگردی کا خاتمہ، دنیا میںامن وشانتی کا قیام، بھائی چارے کا فروغ، انسانیت کا فروغ اس سے دوسرے درجے کے کچھ بزرگ افلاطون و ارسطو اور سقراط و بقراط اسے ایران کے خلا ف ایک مایا جال کہتے ہیں اور کہیں گے، لیکن یہ دونوں ہی باتیں سفید جھوٹ ہیں آپ نے دیکھا القاعدہ، طالبان اور داعش موجود تو ہیں لیکن مطلوبہ نتائج نہیں دے رہیں شام کا قضیہ بھی نہیں رہا ہے لیکن دنیا بھر میں خاص طور پر پورپ امریکا میں جو بڑے بڑے کار خانے او کارٹل دھڑا دھڑ ہتھیار بنا رہے ہیں ان کا کیا ہوگا کیا اسے گوداموں میں رکھ کر اسٹرایا جائے گا یا اسے پگھلا کر زرعی آلات بنائے جائیں گے؟