پنجابیوں پر پہلا ’’حملہ ‘‘

کچھ ایسا ہی معاملہ ان پنجابیوں کا ہے کہ اچھے خاصے تھپڑ نواز بھی ہیں اور اکثر صرف بنیان پہنے ہوئے ہوتا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq June 15, 2017
[email protected]

ویسے تو ہم پہلے سے بھی کافی گھبرائے بیٹھے ہوئے تھے ان پنجابیوں کے خلاف ۔لیکن اب تو ہمارے چوہدری صاحب نے بھی اجازت دے دی ہے کہ پنجاب کے بارے میں جو کچھ بھی الزام عائد کرنا چاہتے ہو کرو،جو کچھ بھی لگی لپٹی کہنا چاہتے ہو کہہ دو، کوئی کچھ نہیں کہے گا اور نہ برا منائے گا چنانچہ اب ہم پنجابیوں کے ساتھ وہ کریں گے کہ اتنا انھوں نے خود کے ساتھ بھی نہیں کیا ہوگا۔دوسرے معاملات اور مقدمات کو تو بعد میں دیکھیں گے کیونکہ یہ کوئی مہا بھارت یا ترائے یا پاکستان اور بھارت کی جنگ نہیں کہ دنوں میں ختم ہو جائے گی بلکہ یہ عراق و ایران یا ویت نام کی جنگ ہے جو سالہا سال چلنے کے بعد نوبت یہاں تک پہنچی کہ دونوں فریق ایک دوسرے کے کاندھے پر سر رکھ کر سو جاتے تھے جاگتے تو ایک دوسرے کے ہلکے سے تھپڑمارکر پھر ایک دوسرے کے سہارے محو خواب ہو جاتے ۔لیکن ہم پنجابیوں کے خلاف بڑے پر جوش بھی ہیں او ر ناکوں ناک بھرے ہوئے بھی ہیں یعنی

پرہوں میں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا

اک ذرا چھیڑئیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے؟

چوہدری صاحب نے ہمیںبڑا مخلصانہ مشورہ دیا ہے کہ قصائیوں وغیرہ سے دور رہو اور سبزی والے کو جتنا مارسکتے ہو مارو، دراصل چوہدری صاحب نے ہمارے ساتھ وہی کیا ہے جو ایک گاؤں والوں نے ہمارے جیسے خطرناک آدمی کے ساتھ کیا تھا۔ ایک نو وارد دور دراز کے کسی گاؤں سے گزرتے ہوئے ایک مسجد میں نماز پڑھنے گیا، نماز پڑھتے ہوئے اس کی نظر ایک صاحب کے دامن پر پڑی جو گوبر میں لتھڑا ہوا تھا۔ نماز کے بعد مہمان نے اس صاحب کی توجہ دلائی تو وہ بولا ہاں اکثر تو نہیں لیکن کبھی کبھی جب میں شراب کے نشے میں ہوتا ہوں تو یہاں وہاں گر پڑتا ہوں۔ مہمان نے حیرت سے پوچھا آپ شراب بھی پیتے ہیں۔ بولا نہیں اکثرتو نہیں لیکن طوائف کے کوٹھے پر چلا جاتا ہوں تو ... مہمان چیخ پڑا آپ کوٹھے پر بھی جاتے ہیں۔ جواب ملا ، اکثر تو نہیں لیکن جب جوئے میں جیت لیتا ہوں... توآپ جوا بھی کھیلتے ہیں ؟ وہ صاحب بولے۔ نہیں اکثر تو نہیں لیکن جب کوئی کامیاب ڈاکہ ڈالتا ہوں تو۔مہمان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تھا نمازیوں سے بولا یہ تم لوگوں نے کیسے آدمی کو اپنے ساتھ رکھا ہوا ہے۔ لوگوں نے کہا ہم جانتے ہیں کہ اس میں یہ سارے گن ہیں لیکن مجبوری ہے اسے ساتھ نہ رکھیں تو پیچھے جوتے چرا لیتا ہے۔

ہمیں بھی چوہدری صاحب نے دوسرے اعمال بد سے بچانے کے لیے مشورہ دیاہے کہ یہاں وہاں کے حساس معاملات کو مت چھیڑو ورنہ ایک دن کہیں ڈھیر تلے پڑے ہو گے اور یا کسی شجر سے لٹکے ہوئے نظر آؤ گے وہ بھی بغیر سر کے۔

اگر کھجلی ہی مٹانی ہے تو ہم پنجابی ہیں نا۔

لنڈی کوتل میں کوئی ٹائر پنکچر ہو جائے وزیرستان میں کوئی درخت کٹ جائے باڑہ میں کوئی بھیڑ یا بکری لے جائے یا سوات میں کوئی بلی دریا میں ڈوب جائے سیدھے سیدھے پنجابیوں پر الزام لگادو تم بھی خوش ہم بھی خوش ، خواہ مخواہ خطروں کے کھلاڑی بننے سے یہی بہتر ہے کہ پنجابیوں کی ایسی تیسی کر دیا کرو۔

یہ بات ہمیں جچی کیونکہ یہ نہ صرف آسان ہے بلکہ فریق ثانی کی طرف سے کسی خطرے کا امکان بھی نہیں ہے کیونکہ پنجابی لوگ اس بیل کی طرح عادی ہو چکے ہیں جو دانت دکھاتے دکھاتے اتنا عادی ہو گیا تھا کہ ہمیشہ منہ کھول کر کھڑا ہو جاتا ہے کہ آؤ جس نے بھی میرے دانت گننا یا دیکھنا ہیں۔اچھی بات اس میں ایک اور ہے کہ ایک شخص کی دو بیویاں ایک مدقوق اور ہڈیوں کی مالا اور دوسری موٹی تازی فربہ تھلتھلاتی ہوئی۔ جب بھی دونوں بیویوں میں جھگڑا ہوتا یا اس کے ہاتھ میں کھجلی ہوتی تو کچھ کہے سنے اور سمجھے بغیر ہی جاکر موٹی کو دوچارتھپڑ رسید کرتا ، موٹی بیوی نے شکایت کی کہ تم قصور اور غلطی دیکھے بغیر مجھ پر ہی کیوں بل پڑتے ہو ۔شوہر بولا کیا کروں تمہارا پر گوشت جسم ایسا ہے کہ تھپڑ مارتے ہوئے مزا آجاتا ہے اگر دوسری کم بخت کو ماروں تو ہڈی ہڈی ہے اپنا ہی ہاتھ دکھے گا۔

کچھ ایسا ہی معاملہ ان پنجابیوں کا ہے کہ اچھے خاصے تھپڑ نواز بھی ہیں اور اکثر صرف بنیان پہنے ہوئے ہوتا ہے، یوں مزے کے لیے بھی ہاتھ میں کھجلی ہونے لگتی ہے ایک تو یہ قصے بلکہ حقیقت میں چھوڑ نہیں رہے ہیں، ایک اور واقعہ یاد آیا ہم قصہ خوانی بازار سے اپنے ایک عزیز کے ساتھ گزر رہے تھے، ایک جگہ ہجوم نے ایک شخص کو گرایا ہواتھا اور لاتیں اور ٹھڈے مارے جا رہے تھے۔ ہمارا یہ عزیز دوڑ کر گیا اور ایک لات جما کر واپس آگیا۔ پوچھا یہ تمہارا اس شخص سے کیا لینا تھا۔ بولا لوگ مار رہے تھے تو کچھ نہ کچھ تو اس نے ضرور کیا ہوگا اس لیے میں نے بھی اپنا حصہ ڈال دیا۔ معاملات تو بے شمار ہیں لیکن فی الحال جس بات پر ہمیں پنجابیوں کے خلاف غصہ آرہا ہے وہ ان کا غرور اور تکبر ہے یا خود کو اونچا سمجھنے کی بیماری ہے، اپنی ہر بات کو بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے کہ ہم تو سب سے اونچے ہیں اور یہ بات ہم بلا ثبوت اور دلیل کے نہیں کہہ رہے ہیں۔

آپ نے اکثر پڑھا اور سنا ہوگا کہ لوگ درخواستوں وغیرہ میں بھی لکھتے ہیں اور زبانی بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آپ کا ادنیٰ خادم آپ کے پیروں کی دھول ، آپ کا کمترین غلام آپ کا ادنیٰ تابعدار،احقر، خاکسار وغیرہ وغیرہ۔لیکن ان بنجابیوں نے اس میں بھی ڈنڈی ماری ہے کہ اپنے لیے خادم بھی رکھا ہے تو وہ بھی اعلیٰ حالانکہ خدمت میں جتنی جتنی بات نیچے چلی جاتی ہے اچھی ہوتی ہے کیونکہ خدمت تو خدمت ہوتی ہے کوئی ملازمتی اسکیل نہیں ہے اس لیے زبان و بیان گرامر اور محاورے روزمرے کی روشنی میں خدمت کا انتہائی بلکہ ٹاپ کلاس خادم ادنیٰ ہونا چاہیے، بہت زیادہ مجسم خدمت کو اگر ٹاپ درجہ دینا ہے تو وہ ادنیٰ ہی ہو سکتا ہے ۔لیکن یہاں تو بھئی پنجابی ہیں اپنے کو کم کیسے کر سکتے ہیں اس لیے خادم رکھنے کا مسٔلہ تھا تو وہ بھی اعلیٰ کے درجے کے ساتھ۔ یہ تو ایسا ہے جیسے کوئی بہت زیادہ سینئر یا خدمت گزار نوکر کو '' نوکر اعلیٰ''کا خطاب دے ڈالے، اس میں خود خادم اعلیٰ کا کوئی قصور نہیں یہ پنجابی ہیں ایسے کہ چھوٹا ہونا تو انھوں نے سیکھا نہیں ہے خود کو اعلیٰ تصور کرتے ہوئے اپنا سب کچھ اعلیٰ درجے کا رکھتے ہیں کہ خادم کو بھی کلاس دے دیتے ہیں۔