بھاڑ میں جائے دو ہزار اتنے اتنے
بدعمل بدقماش اور گندہ گیر بیٹے کے مرنے پر باپ کو ویسا ہی سکون مل جاتا ہے
ویسے تو مملکت پاکستان میں نہ جانے ایسے کتنے؟ کتنے؟ اور کیسے؟ کیسے؟ معاملات ہیں جن میں دو ہزار اتنے اتنے؟ 20کا استعمال ہو تا ہے۔ ایک ماہر ریاضی و اراضی کا کہنا ہے کہ لگ بھگ دوہزار یا اس کے او پر معاملات تو ایسے یقیناً ہیں جن میں دو ہزار اتنے؟اتنے؟؟ 20 کا ذکر آتا ہے یعنی دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20) میں ایسا یا ویساہو جائے گا، ایسے ایسوں اور کیسے کیسوں کو جیسے جیسوں ہو جائے گا اور اتنے ہزار اتنوں؟؟ کا ایسے ایسا اور ویسے ویسا ہو جائے گا، لگ بھگ تمام وزیروں لیڈروں اور پارٹیوں نے جو اپنی پہلی سو سو ترجیحات لانچ کی ہوئی ہیں وہ دو ہزار اتنے اتنے میں سو سو پہلی ترجیحات سے دودو سو پہلی ترجیحات تک پہنچ جائینگی اور آج کل جو کیسے کیسے؟ ہیں وہ دو ہزار اتنے اتنے (؟؟20) میں ویسے ویسے ہو جائینگی اور اتنے ہی نئے ایسے ایسے پیدا ہو جائیں گے جو جیسے جیسے اور کیسے کیسے ہوں گے
لیکن ان سب ایسے ایسوں، جیسے جیسوں اور کیسے کیسوں میں ''بجلی'' کا ایسا ویسا سرفہرست ہے اب تک کوئی نناوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو نناوے بار کوئی نہ کوئی ایسا بتا چکا ہے کہ دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20) اتنے میں ہم ''بجلی'' کے درد سے نجات پاجائیں گے جس کے لیے ہمیں ابھی سے ''شکریہ بلڈی ڈیم'' کہنے کا رہرسل کرنا چاہیے کہ شکریہ بلڈی ڈیم مجھے تو بجلی کے درد سے نجات مل گئی ہے اور شاید بجلی کے درد کا علاج بھی ویسا ہی ہوگا جیسا دانت کے درد کا علاج مروج ہے یعنی ایک پشتو شعر کے مطابق
بد عملہ زوئے چہ مڑ شی پلار ترے خلاص شی
لکہ غاخ چہ پہ ویستود دردہ خلاص شی
یعنی بد عمل بدقماش اور گندہ گیر بیٹے کے مرنے پر باپ کو ویسا ہی سکون مل جاتا ہے جس طرح دردیلے دانت کو نکلوانے پر مل جاتا ہے۔یہ تو ہم نے آپ کو بتایا ہے کہ تحقیق کے مین کاروبار کے ساتھ ساتھ ہم نے سائیڈ بزنس کے طور پر مشورہ بازی کا دھندہ بھی شروع کیا ہوا ہے، اس لیے بجلی کے اس روز بروز سڑتے ہوئے اور درد کرتے ہوئے دانت بلکہ داڑھ کے سلسلے میں بھی مشورہ ہم نہیں دیں گے تو کون دے گا کیونکہ سرکاری مشیر تو بچارے اپنے دانتوں داڑھوں کے درد سے پریشان رہتے ہیں وہ کیا مشورہ دیں گے اور اگر وہ اس قابل ہوتے تو اب تک ملک بجلی کے دانت کے درد سے چھٹکارا نہ پاچکا ہوتا؟
سب سے پہلے تو ہم اپنے پہلے یعنی مین کاروبار سے کام لیتے ہوئے یہ تحقیق کر چکے ہیں کہ یہ جو ملک کے بڑے بڑے منہ جن کے نیچے بڑے بڑے کنویں بھی ہوتے ہیں یہ جو اکثر کہتے رہتے ہیں کہ اگلے سال یا دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20)تک بجلی کو لوڈشیڈنگ کے درد سے نجات مل جائے گی سب کے سب جھوٹ کہہ رہے ہیں او ر کہنا بھی چاہیے کیونکہ وہ جھوٹ بولنے کے لیے توآتے ہیں اور جھوٹ بول کر چلے جاتے ہیں ایک طرح سے ہم کہہ سکتے ہیں اپنی ڈیوٹی کرکے چلے جاتے ہیں۔
''جس لیے آئے تھے سو ہم کر چلے''
ورنہ اس بات کی تک کیا ہے کہ نہ نیا ڈیم بن رہا ہے نہ کوئی اور بجلی پیدا کرنے کا منصوبہ ممکن ہے کیونکہ بے نظیر اور اس طرح کے بے مثال اور لاثانی ریوڑیاں بانٹنے کے منصوبوں سے کچھ پیسہ بچے تو بجلی گھر قائم ہوں ۔ ایسا کچھ نہ تو ہے اور نہ آئندہ ہونے کا امکان ہے ایک لاکھ چوالیس ہزار چارسو چوالیس منتخب نمائندہ دھڑا دھڑیہاں وہاں بجلی پہنچا رہے ہیں نئے نئے کنکشن دیے جا رہے بجلی سے چلنے والے آلات دھڑا دھڑ بک رہے ہیں اور لگ رہے ہیں جن کے گھر آج ایک پنکھا ایک اے سی یا ایک فریج ہے وہ دوسرے سال ایک اور بھی لگا رہا ہے تو ایسے میں اتنی بجلی آئے گی کہاں سے؟ آمدنی اٹھنی اور خرچہ ایک روپے ہو بلکہ سال بہ سال ایک روپیہ اور بڑھ رہاہو اور اٹھنی وہی کی وہی اٹھنی ہے تو؟ دو ہزار اتنے اتنے میں (؟؟۔20) اتنے میں عوام کو بجلی اور بجلی کو دانت کے درد سے نجات کیسے ملے گی؟
اگر یہ منطق ہے تو احسن اقبال بتائیں اگر یہ فلسفہ ہے تو خواجہ سعد رفیق بتائیں اگر ریاضی ہے تو اسحاق ڈار بتائیں اور اگر معاملہ گڑبڑ ہے تو امیر مقام بتائیں اور اگر تدبیر ہے تو وزیر اعظم بتائیں کہ کیسے؟ جب بجلی ہے بھی نہیں اور نئی بن بھی نہیں رہی ہے اور نہ ہی کسی دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20) میںکوئی امکان ہے تو دانت کے درد سے نجات کیسے ملے گی؟
یہ تو ہوئی تحقیق جس کی رو سے دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20) تو کیا تین ہزار اتنے اتنے میں بھی کوئی امکان نہیں ہے البتہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ چند ہزا ر اتنے اتنے (؟؟۔؟) میں بجلی کو لوڈ شیڈنگ کے درد سے نجات مل جائے گی اور یہ چونکہ پھر برسوں سے نکل کر صدیوں تک کی بات ہو جاتی ہے اس لیے یہ حساب کتاب کا ہندسوں کا کھیل ہی ترک کر دیا جائے تو اچھا ہے کہ
آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک
کون جیتا ہے تیری ''اتنے اتنے'' ہونے تک
اس لیے بہتر ہی ہے کہ ہماری خدمات حاصل کی جائیں جس کے لیے نہ تو کسی فارم کو پر کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی درخواست وغیرہ دینے کی۔ یہ کوئی انکم سپورٹ یا ملک غرغوٹ کرنے کا کام ہے اور نہ ہی کسی کو بھکاری کے اعلیٰ منصب پر فائز کرنے کا معاملہ ہے بلکہ یہ ایک ''خیر'' کا کام ہے جو ہم بغیر کسی مطلب و مفاد کے صرف اللہ فی اللہ کر رہے ہیں آخر اس ملک کے ہم پر اتنے احسانات ہیں اتنے اچھے اچھے لیڈر اور خادمان قوم دیے ہیں اتنی دیانت دار امانت دار اور بکار خویش ہوشیار حکومتیں دی ہیں امریکا، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یہ بینک وہ بینک کے تحائف دیے ہیں اتنے فرض شناس، کارشناس اور موقع شناس محکمے اور ادارے دئیے پھر ان میں اتنے لائق فائق ایماندار افسر اور اہلکار دئیے۔ ہماری جان مال عزت اور نہ جانے کیا کیا کی رکھوالی بالکل بلی جیسی ہوشیاری سے کرتے ہیں تو کیا ہم اتنا بھی نہیں کر سکتے کہ ایک مفت مشورہ دیں۔ سو مشورہ حاضر ہے۔ تحفۂ درویش برگ سبز است''
ھوالشافی۔ اس سے پہلے ہم نے آپ کو بد قماش بیٹے اور دردیلے دانت کی مثال دی ہے جس کے بارے میں یونان سے لے کر توران بلکہ پاکستان تک کے حکماء اطباء ڈاکٹراء عطایا اور امراض فروشا نے متفقہ طور پر لکھا ہے کہ بد اعمال و بد قماش بیٹے اور رنجوردانت کا علاج صرف اور صرف ایک ہی ہے یہاں پشتو کا ایک اور شعر ہماری رہنمائی کرتا ہے کہ
غاخ چہ رنزور شی
نو علاج ئے انبور شی
یعنی جب دانت رنجور ہوتا ہے تو اس کا واحد علاج زنبور ہوتا ہے اور یہاں تو قدرت کا کرشمہ دیکھیے کہ بجلی کے رنجور دانت کے ساتھ خود زنبور بھی اپنا موجود ہے صرف آگے بڑھانے اور دانت پکڑنے اور پھر ایک زورکاجھٹکا ۔ ایک آہ اور پھر ہمیشہ کے لیے واہ واہ۔آخر جب نتیجہ اندھیرا ہی اندھیرا ہے تو پھر اتنے بڑے تام جھام تاروں ، ستونوں اور اتنے بڑے سفید ہاتھی کی ضرورت ہی کیا ہے۔
آپ دو ہزار اتنے اتنے (؟؟۔20) کی بات کر رہے ہیں ہم ابھی اور اسی وقت لوڈ شیڈنگ سے مکمل نجات کی گارنٹی دیتے ہیں کیا یونان نے یہ اتنا سارا فلسفہ پورپ نے اتنی بڑی سائنس اور انگریزوں نے اتنی بڑی ایمپائر بجلی کی مدد سے بنائی تھی؟ کیا یہ دنیا جو از آدم تا اس دم چل رہی ہے۔ نہیں ناں۔ تو پھر؟ بھاڑ میں جائے دو ہزار بھی اور اتنے اتنے بھی۔