کمائی کا ایک بہترین طریقہ

ویسے بھی ان لوگوں کو پھلوں کی ضرورت بھی کیا جو محنت کا پھل پیٹ بھر کر کھاتے ہیں وہ بھی سستا بلکہ مفت


Saad Ulllah Jaan Baraq June 21, 2017
[email protected]

پھلوں کی مہنگائی پر سوشل میڈیا نے اس مرتبہ بائیکاٹ کا جو شوشہ چھوڑا ہے اس سے پھلوں کی صحت پر کچھ اثر پڑے نہ پڑے لیکن ہماری صحت پر اچھا خاصا ناگوار اثر پڑا ہے کہ ایک تو یہ ثابت ہو گیا ہے کہ غالب نے ٹھیک کہا ہے کہ

پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے

رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور

اور جب '' نالے '' چڑھ جاتے ہیں تو اکثر کمزور جگہوں پر ہی ٹوٹ جاتے ہیں چنانچہ پھلوں کے بائیکاٹ کا اثر بھی اونچے اور مضبوط مقامات پر نہیں پڑا صرف وہی ریڑھے اور چھابڑی والے مارے گئے جو پہلے ہی سے آڑھتیوں اورمیڈل مینوکے مارے ہوئے تھے گویا بائیکاٹ کے شاہ مراد نے مرے پر سو درے اور رسید کر دیے کیونکہ ان کے پاس نہ کولڈ اسٹوریج تھا نہ تہہ خانہ اس لیے پھلوں کے اندر ان کی دیہاڑی بھی سڑ گئی ۔گویا

یہی ایک سجدہ مری کائنات

شرابیں تیری بادہ خانے ترے

پیدا کرنے والے اور پرچون فروش کے درمیان جو ''مڈل مہینوں '' کا خوان ہوتا ہے اور اب ہفت خوان سر کرنے کے لیے '' رستم '' پیدا ہونا بند ہو چکے ہیں ۔

ادھر بائیکاٹ کرنے والے بھی تو اپنی کمزوریوں کے مارے ہوئے تھے اس لیے جب چند روز بعد بائیکاٹ ختم ہو گیا تو مڈل مینوں نے اپنے کچھ اور خرچے اور سرمایہ بند ہونے کا منافع شامل کر کے پھلوں کو کچھ اور '' پر '' لگا دیے ۔ کیونکہ آخر رمضان المبارک برکتوں کا مہینہ ہے اور پھل بھی برکتوں کے حقدار ہیں ویسے بھی آج کل ایک مستند اور مشہور تاجرانہ قول زرین یہ بھی ہے کہ روزے میں جتنی تکلیف ہوگی اور گراں سحری و افطاری ہوگی اتنا ہی زیادہ ثواب ملتا ہے

یہ تو خیر پاکستان کے بابرکت بلکہ برکت افروز ''تجارتی نظام''کا مستقل سلسلہ ہے ۔ جسے مخروطی سفید ٹوپیوں والے دکانداروں، ماتھے پر سجدے کا نشان ثبت کرنے والے تاجروں اور رمضان میں غریبوں کو افطاری کھلانے والے سخیوں کی حمایت حاصل ہے۔لیکن ہمارا خیال ایک اور طرف گیا ہے ۔ سب سے پہلے توہم اس پر تعریف کے دونگڑے برسانا چاہتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا نشانہ صرف ''پھل '' ہی کیوں بنے مہنگائی تو پھلوں سے زیادہ ضروری اور ناگزیر اشیاء کو بھی چمٹی ہوئی تھی بلکہ عرصہ دراز سے چمٹی ہوئی ہے۔ پھل تو ایسی چیز ہے کہ کھائے نہیں کھائے، یہ ہم اپنی بات کر رہے ہیں ورنہ شاید کچھ لوگوں کے لیے '' پھل '' زندگی اور موت کا مسٔلہ ہو ۔ لیکن ہم جیسے اگر سارا سال بلکہ سالہا سال بھی کوئی پھل نہ چکھیں تو صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا جو پہلے ہی سے پاتال میں گری ہو اسے کوئی اور کیا نیچے گرائے گا؟

در اصل اس ساری مصیبت کا ذمے دار محکمہ صحت ہے، اس نے عرصہ دراز تک شاید حلوائیوں سے مخاصمت کی بنا پر یہ مہم چلائی ہے کہ ''مٹھائیاں ترک کر دیجیے پھل اپنائیے ''آج کل شاید محکمہ صحت والوں اور حلوائیوں کے درمیان معاملات''طے '' پا گئے ہوں گے جس طرح اس مولوی اور ہندو دکاندار کے درمیان معاملات طے پاگئے تھے جس پر مولوی نے اس پر اپنا دین دھرم چھوڑنے کا الزام دھرا تھا ۔یہ غالباً اسی زمانے کی بات ہے جب مٹھائیاں چھوڑنے اور پھل اپنانے کی مہم چلی تھی تب خدا ماروںکے لیے شجر ممنوع کا مقام مٹھائیوں اور خاص طور پر جلیبیوں کو ٹھہرایا گیا۔ تب شاید عید کے موقع پر ایک خدا مارا شہر سے جلیبیاں لایا ۔ کھاتے ہوئے ایک بچے نے کہا یہ تو بڑی میٹھی چیز ہے ابا ہر روز لایا کرو۔ باپ نے کہا کہ ''ہر روز عید نہیں کہ جلیبی خورد کے'' یعنی معذوری ظاہر کر دی۔

بیٹے نے جلیبیوں کا مزہ لیتے ہوئے پوچھا، یہ چیز کہاں ہوتی ہے۔ باپ نے کہا شہر کی دکانوں میں ۔ آخر اس سوال پر پہنچا کہ یہ چیز کون لوگ بناتے ہیں۔ باپ نے کہا شہر میں ہندو لوگ بناتے ہیں۔ اس پر بیٹے نے کہا چلو ابا ہم بھی ہندو ہو جائیں۔ باپ نے ایک لمبی ٹھنڈی آہ کھینچ کر کہا ، بیٹا ایسا ممکن نہیں ۔ہماری بھی اپنی قسمت اتنی تو نہیں تھی کہ پھلوں کی مہنگائی کا خود پتہ چلتا لیکن اخباروں سے معلوم ہوا کہ پھل اتنے مہنگے ہو گئے ہیں کہ بچارے پھل خوروں کو بائیکاٹ کی کال دینا پڑ گئی ۔شاید ان ہی خبروں سے کچھ لوگوں کو پہلی بار یہ بھی پتہ چلا ہو کہ دنیا میں پھل نامی کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے اور اس کے نرخ بھی ہوتے ہیں ۔

یہ ہم وثوق سے اس لیے کہہ رہے ہیں کہ شاید پہلی مرتبہ روزے کی برکت وہاں تک پہنچ گئی ہے جہاں سے ''پھل اور انٹرنیٹ '' والے شروع ہوتے ہیں ورنہ پہلے تو یہ کم بخت نیچے ہی نیچے آٹا خوروں، دال خوروں اور سبزی خوروں کے سروں پر کود اور ناچ رہی تھی۔اس سے ایک بات یہ بھی ثابت ہو جاتی ہے کہ مہنگائی بھی غربت کی لکیر کی طرح ترقی پسندی پر آگئی ہے۔ٹھیک ہے بھئی ہم کون ہوتے ہیں اعتراض کرنے والے اور پر خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہم ایک آزاد ملک کے باسی ہیں جہاں ہر کسی کو آزادی حاصل ہے اور ترقی کا حق ہر کسی کو ہے تو مہنگائی اور رمضان کی برکتیں کیوں ترقی نہ کریں ۔

مطلب یہ کہ بات چلی ہے تو پھر دور تلک جاتی ہے ایک ہی واقعے کے اندر واقعات کا ایک پورا سلسلہ ہوتا ہے۔چنانچہ پھلوں کے اس بائیکاٹ سے اگرچہ پھلوں کا اور ٹھیکیداروں کا کچھ بھی نہیں بگڑا لیکن کچھ دوسری حقیقتیں ظاہر ہو گئیں ۔ گویا

گو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے

لیکن اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے

ایک تو یہ مہنگائی کی لکیر پہلی بار ان حساس مقامات تک پہنچ گئی جہاں پہلے نہیں پہنچی تھی یعنی جہاں انٹرنیٹ اور پھل خور پائے جاتے ہیں اور اب تک اس لکیر کے نیچے ہی نیچے دندنا رہی تھی جہاں صرف خدا مارے اور روٹی خور ، دال خور پائے جاتے ہیں جن کے پاس انٹرنیٹ بھی نہیں ہوتا اور پھل بھی جن پر پھلوں کے نرخ چاہے آسمان سے بھی اونچے ہو جائیں کوئی اثر نہیں پڑتا۔ چونکہ ہم بھی ان ہی میں سے ایک ہیں اس لیے ایک مرتبہ ہم نے رمضان کے مہینے میں اتنی زیادہ بچت کی تھی جو عید کے لیے کافی ہو گئی ۔ہوا یوں کہ ہم پھل والے سے نرخ پوچھتے اور اس کے بتانے پر اتنے ہی پیسے بچا کر گھر چلے جاتے۔ یہ بحث تو ہوئی کہ سو روپے کے انگور یا خربوزہ خریدے بغیر چلے جاتے اور یہ پیسے بچت کی مد میں ڈال دیتے بلکہ ایک طرح سے کمائی سمجھ لیجیے کیونکہ ریاضی کے ماہرین نے کہا ہے کہ اگر آپ کوئی رقم خرچ نہیں کرتے توگویا اس رقم کو ایک بار پھر کما لیتے ہیں۔ ویسے بھی ان لوگوں کو پھلوں کی ضرورت بھی کیا جو محنت کا پھل پیٹ بھر کر کھاتے ہیں وہ بھی سستا بلکہ مفت۔