پہلے تولو پھر بولو مگر کس کو
ایسے میں تو سننے والا تنگ آکر اپنا سر پیٹ لے گا یا بولنے تولنے والے کا جبڑا توڑ دے گا۔
اب ہمارے ٹٹوئے تحقیق کا رخ اقوال زرین کی طرف ہو ہی چکا ہے تو اسے روکنا اب ہمارے بھی بس میں نہیں کیونکہ ''باگ''کوئی مہار کوئی رسی تو اس کی ہمارے ہاتھ میں ہے نہیں، سلیمان خان تو جب کوئی فیصلہ کرتا تھا تو خود کی بھی نہیں سنتا جب کہ ہمارا ٹٹوئے تحقیق سرے سے بہرا ہے اس لیے کسی کی بھی نہیں سنتا، گویا بقول مرشد
نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں
ایک مشہور قول زرین ... ''علاج سے پرہیز بہتر ہے'' پر تو ہماری تحقیق سامنے آچکی ہے جس کی وجہ سے بہت سارے مریض ڈبگری گارڈن کے بجائے ''گریو یارڈ '' جانا آسان سمجھنے لگے ہیں اور اب جس قول زرین پر ہم اپنا ریسرچ لانچ کر رہے ہیں وہ بھی بہت ہی کثیر الاستعمال ہے اور جتنا کثیر الاستعمال ہے اتنا ہی غلط الاستعمال بھی ہے بلکہ اسے غلط العام کہیے تو غلط نہیں ہوگا...چھوٹا ہے ...تولوپھر بولو ...یا پہلے تولو پھر بولو
ایک دنیا اس غلط فہمی میں مبتلا ہے کہ بزرگوں نے ''بات'' کو تولنے کی ہدایت کی ہے جو ایک سو چار فیصد غلط تھے، اب بزرگ اتنے بھی تو نادان نہیں تھے کہ ان کو یہ معلوم نہ ہو کہ ''منہ'' میں کوئی ''ترازو'' تو لگا ہوا نہیں ہے بلکہ ان کو تو سب سے زیادہ پتہ تھا کیونکہ زندگی بھر الفاظ اور باتوں ہی پر کاروبار کرتے رہے تھے کہ منہ میں یا زبان میں نہ کوئی ترازو ہے نہ باٹ ۔اس بات کا پتہ خود ان کے بولے ہوئے اقوال زرین سے بھی ہو جاتا ہے اور اگر بالفرض کوئی ترازو باٹ یا'' سپیکو میٹر ''لگا بھی لیا جائے تو ایک ایک لفظ کے بولنے تولنے میں کتنا وقت صرف ہوگا ؟
ایسے میں تو سننے والا تنگ آکر اپنا سر پیٹ لے گا یا بولنے تولنے والے کا جبڑا توڑ دے گا۔یہ بھی سب جانتے ہیں کہ بات کے وزن کا فیصلہ بولنے والا نہیں بلکہ سننے والا کرتا ہے ایسے بھی لوگ ہیں جن کی سو باتیں بھی ایک ''بیرکاہ'' جتنا وزن نہیں رکھتیں اور ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کی ایک بات ٹنوں کا وزن رکھتی ہے۔
بقول رجنی کانت بادشاہ جب ایک بار بولتا ہوں وہ سو بار بولنے کے برابر ہوتا ہے جب کہ ہم خود بھی دیکھ رہے ہیں کہ پورے اٹھارہ کروڑ منہ مسلسل چل رہے ہیں باتیں اگل رہے ہیں جن کے ڈمپر سڑکوں کے کناروں تک بھی بڑے ہوئے ہیں لیکن کسی کان نے کبھی ان کو شرف سماعت نہیں بخشا یعنی پاکستان کے عوام اگر سو کیا ہزار لاکھ کروڑ بار بھی بولیں تو وہ ایک بار بولنے کے برابر نہیں ہوتا ۔ اس لیے ثابت ہوا کہ ایک ہی بات اگر اس منہ سے نکلے تو رتی بھر بھی نہیں ہوتی لیکن اگر اس منہ سے نکلے تو
دل نے اک اینٹ پہ تعمیر کیا تاج محل
تونے اک بات کہی لاکھ فسانے نکلے
تو پھر '' تولو بولو'' کا مطلب کیا ہوا؟ اگر پرانا وقت ہوتا تو ہم فوراً نادانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بزرگوں کے بارے میں الزام تراشی کرتے کہ قول زرین کے نام پر ہمیں یونہی ایک ''قول خاکین'' پکڑا گئے لیکن اب ہم محقق ہیں اس لیے بال کی کھال نکالنا ہمارا کام ہے۔ہم نے جب اس قول زرین کو بار بار تو ل تول کر بولا اور بول بول کر تولا تو اچانک ایک چمک ہوئی جیسے شہزادہ سدھارتھ پر گیان کے ایک درخت کے نیچے چمکتی تھی۔ہم آپ کو بھی کہہ سکتے ہیں کہ ذرا اس قول زرین کو تول تول کر بولیے اور بول بول کر تولیے لیکن ہم جانتے ہیں کہ آپ'' ارتقاء'' کے مارے ہوئے ہیں۔
تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ یہ حکمران لوگ چاہے پرانے زمانے کے شہنشاہ تھے یا موجودہ دور کے ڈبل شاہ ۔ یہ لوگ ڈارون سے بھی بہت پہلے جان چکے تھے کہ استعمال اور عدم استعمال کتنی بڑی حقیقت ہے اس لیے روز اول سے انھوں نے خود تو دماغ کا بھر پور استعمال کیا اور عوام کو عدم استعمال کا عادی بنا ڈالا چنانچہ وہ صرف جسم سے کام لیتے رہے اور محافظ دماغ سے نتیجے میں بچاروں کا دماغ ۔۔ اب آگے سارا قصہ آپ کو معلوم ہے تو ہمارے منہ سے کیوں سننا چاہتے ہیں۔اس لیے ہم ہی ''بولو تولو'' کا اصل مفہوم بتائے دیتے ہیں جو یہ ہے کہ بولنے سے پہلے سامنے والے کو تولو کہ کہیں آپ گدھے کو ماس اور چیل کو گھاس تو نہیں ڈال رہے ہیں
وہ سننے کے لائق ہے بھی یا نہیں اور سننے کے لائق ہے تو سمجھنے کی لیاقت بھی رکھتا ہے یا نہیں اور اگر سمجھ بھی سکتا ہے تو کیا ماننے والا بھی ہے یا نہیں اس لیے بولنے سے پہلے تولنا ضروری ہے کہ کہیں آپ ہوا میں تیر اور اندھیرے میں گولی تو نہیں چلا رہے اور اپنی اس دلیل اور بولو اور تولو کا مفہوم واضح کرنے کے لیے بھی بزرگوں کی سند موجود ہے کہ
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر
یہ تو مرد نادان کی بات ہوئی لیکن بعض اوقات سامنے والا نادان نہیں بلکہ '' ڈان '' ہوتا ہے جیسے نکتہ دان ، قدر دان یا سیاست دان ۔ اس لیے تولنا ضروری ہو جاتا ہے کیونکہ اندھے کے آگے روئے اپنے نہیں کھولیے یا پتھر پر جونک چپکانے کی کوشش صرف ''چونک'' کی مدت پر ختم ہوتی ہے ایسے لوگوں سے مرشد کو بھی پالا پڑا تھا،
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حال دل او آپ فرمائیں گے کیا
ایک مرتبہ ریل میں سفر کے دوران ہم ایک شخص سے باتیں کر تے رہے بلکہ اپنی علمیت اور دانی کے سارے موتی اس کے آگے اگل دیے لیکن جب وہ اسٹیشن آنے پر اٹھنے لگا تو اپنا سامان اُٹھانے اور ہمارے ساتھ رخصتی مصافحہ کرنے سے پہلے اس نے جیب سے آلۂ سماعت نکال کر کان میں فٹ کرتے ہوئے کہا ، اچھا بہت اچھی گپ شپ رہی خدا حافظ۔ مریض نے کہا آپ نے تو میری بات سنی نہیں ساری توجہ اپنی باتوں پر دیتے رہے ۔ ڈاکٹر نے کہا نہیں تمہاری بات بھی میں نے سنی ہے۔
مریض نے کہا بیک وقت آدمی صرف ایک طرف توجہ دے سکتا ہے ،ڈاکٹر بولا ۔نہیں یہ ہمارا تجربہ ہے جیسے ہم گاڑی بھی چلا رہے ہوتے ہیں لیکن ساتھ والوں سے باتیں بھی کر تے ہیں۔ اس پر مریض نے اپنا پرچہ کھینچتے ہوئے کہا تو ٹھیک ہے ڈاکٹر صاحب میں گاڑی نہیں مریض ہوں۔دراصل ہم نے ایک باوثوق ذریعے سے سنا ہے کہ یہ بڑے لوگ بڑے ہوتے ہی آپریشن کرواکر دونوں کانوں کے درمیان وہ رکاوٹ دور کر دیتے ہیں جس سے ایک راستہ دماغ کو نکلتا ہے اور ٹریفک کو سیدھا چلا دیتے ہیں اور بزرگوں کو اپنی روشن ضمیری سے اس بات کا پتہ تھا اس لیے کہا کہ پہلے تولو اور پھر بولو ۔