علاج سے پرہیز بہتر ہے

لڑکا سعادت مند تھا اس لیے باپ کی وصیت کو دل و جان سے قبول کرکے گملے کی خدمت کرتا رہا


Saad Ulllah Jaan Baraq June 24, 2017
[email protected]

اس وقت ہم انتہائی شرمندگی بلکہ گلٹی محسوس کر رہے ہیں کہ ہم سے نادانی میں کتنی بڑی بھول 'کتنا بڑا اپرادھ ہوا ہے' ہم خوامخواہ ان بزرگوں کو برا بھلا کہتے رہے ہیں جو پرانے زمانوں میں اقوال زریں بنانے کا کاروبار کرتے تھے اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم ان اقوال زریں کو محض سرسری اور ایزی لیا کرتے تھے لیکن اب جو ذرا گہرائی میں سوچا تو وہ لوگ ہمارے لیے کتنے بڑے خزانے چھوڑ کر گئے ہیں لیکن ہم عقل کے اندھوں کو یہ جواہر پارے مخص کنکر پتھر لگتے تھے۔ وہ تو خدا بھلاکرے ہمارے ایک دوست کا بھی اوراس کی بیماری کا، دونوں جگ جگ جئیں کہ ان کے ساتھ ہمیں ڈبگری گارڈن جانے کا موقع ملا اور وہاں جا کر ہم پر انکشاف ہوا کہ اقوال زریں ہمارا کتنا بڑا اثاثہ ہیں حالانکہ وہاں صرف ایک عام سے قول زریں کی حقیقت ہم پر کھلی کہ پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے اور اس چھوٹے سے قول زریں کے اندر معانی و مفہوم کا اتنا بڑا سمندر پاکر اب ہمارا پکا ارادہ ہے کہ تمام اقوال زریں کا انتہائی گہرا مطالعہ از سر نوکریں گے۔

اس قول زریں کا اصل مفہوم جو صرف ڈبگری گارڈن جیسے مقامات پر جا کر ہی کھل سکتا ہے جہاں وسیع پیمانے پر علاج معالجے کا کاروبار ہوتا ہے یا یوں کہیے کہ علاج منڈی ہے بلکہ علاج انڈسٹری کہنا زیادہ بہتر ہوگا۔لیکن مذکورہ قول زریں کا پوسٹ مارٹم آپ کو دینے سے پہلے ایک کہانی یا د آرہی ہے جس کا تعلق اسی معاملے سے ہے کہ جسے سمجھے تھے انناس وہ عورت نکلی یعنی چھوٹا سا قول زریں کتنا بڑا کوہ نور نکلا ۔کہتے ہیںایک شخص کے تین بیٹے تھے۔ دو بڑے شادی شدہ اور ایک چھوٹا جو ابھی نا بالغ تھا۔ اس شخص کے مرنے پر جب اس کی ''ول '' پڑھی گئی تو تقریباً ساری منقولہ وغیر منقولہ جائیداد ان دو بڑے بدقماش ظالم اور برے بیٹوں کو دی گئی تھی اور تیسرے نابالغ لڑکے کو معمولی نان ونفقہ اور صرف دو بالشت کی جائیداد ملی تھی وہ بھی منقولہ یعنی ایک گملے پر مشتمل ۔ ساتھ ہی یہ شرط بھی کہ چھوٹا اس گملے اور پودے کی دیکھ بھال کرے گا جو والد کا عزیز ترین گملہ تھا۔

لڑکا سعادت مند تھا اس لیے باپ کی وصیت کو دل و جان سے قبول کرکے گملے کی خدمت کرتا رہا۔ بڑے بھائی تو باپ کی جائیداد پا کر ایسے چلے گئے کہ دوبارہ کبھی جھانکا تک نہیں،ایک دن دھوپ چھاؤں کرتے وقت وہ گملہ اس کے ہاتھوں سے چھوٹ گیا اور ٹکڑے ہو گیا لڑکے نے دیکھا کہ پودے کے نیچے مٹی میں ایک تھلی رکھی ہوئی تھی کھولنے پر ایک چکا چوند ہو گئی تھیلی میں ہیرے ہی ہیرے بھرے ہوئے تھے ساتھ میں ایک تحریر بھی تھی کہ بیٹا اگر میں یہ ہیرے کھلے عام تمہارے لیے چھوڑتا تو ظالم بھائی تم سے چھین لیتے اس لیے میں نے یہ تدبیر کی اور یہ ایک امتحان بھی تھا اگر تم غصے میں اگر گملہ کہیں پھینک دو یا کسی کو دے ڈالو تو کچھ بھی نہیں ملے گا اور اگر تم نے میری نشانی سمجھ کر پاس رکھا تو ایک دن کسی نہ کسی طرح یہ ہیرے تجھے مل جائیں گے۔ ہم نے بھی گویا ڈبگری گارڈن میں جا کر اس قول زریں کا گملہ توڑلیا تھا اور اندر کا خزانہ دیکھ کر ہمارا دل گارڈن گارڈن، گملہ گملہ اور بوکے بوکے ہوگیا۔

اس موقعے پر تو وہ چنگاری اور خاکستر والا شعر بنتا ہے لیکن کثرت استعمال سے اس میں صرف خاکستر ہی بچی ہے چنگاریاں ساری بجھ چکی ہیں۔اب آتے ہیں اس کوہ نور نما قول زریں کی طرف۔ اصولی طور پر تو آپ کو بھی پتہ چلنا چاہیے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے کے اندر وہ ہیرا کیا ہے لیکن ہمیں پتہ ہے کہ جو نالائق اورپھسڈی ستر سال میں یہ نہیں سمجھ پائے کہ پردے کے پیچھے کیا ہے کُرتے کے نیچے کیا ہے وہ ویسا ہی سمجھیں گے جتنی ان کی سمجھ دانی ہے اور وہی کہیں گے جو اس قول زریں میں دور سے نظر آتا ہے اور جس کی شرح و تفسیر اکثر اخباروں اور چینلوںپر ہوتی رہتی ہے کہ کھانے سے چار گھنٹے پہلے پانی مت پؤ کسی کا خون یا کولڈرنک البتہ پی سکتے ہو کھانے کے درمیان ایک ٹیبل اسپون پانی پی سکتے ہو لیکن منرل ہونا ضروری ہے اور کھانے کے بعد تو آپ کو سو جانا ہے اس لیے جو چاہو پؤ اور جیو۔یا کھانے کے برتنوں کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے انھیں نیب وریب کے ڈیٹرجنٹ سے دھونا ضروری ہے۔ کھانا جس حد تک ہو سکے پرائے گھر، پرائی جیب اور پرائے مال کا ہونا چاہیے۔

ہر لقمے کو 33بار چبانا ضروری ہے اورچباتے وقت کسی دشمن کا تصور ضرور کرنا چاہیے۔البتہ اگر کھانا شادی کا یا کسی تقریب کا ہو تو چبانے کی کوئی شرط نہیں لقمہ سیدھا سیدھا بھی نگل سکتے ہو۔ اس طرح تقریباً چارلاکھ چار ہزار سو چوالیس سے بھی زیادہ پرہیز یں موجود ہیں جو علاج سے بہتر سمجھی لکھی اور کہی جاتی ہیں لیکن یہ تو صرف چھلکا ہے گری ہم اب نکال کردینے والے ہیں، ڈبگری گارڈن میں ہم پر جو راز کھلا اس کا تعلق اسی جگہ اور یہاں کے ماحول سے ہے اور بالکل سیدھا ہے کہ پرہیز علاج سے بہتر ہے صرف جملے میں ایک ''سے'' کا مقام بدلنا ہو گا اور یہی اس کی کلید ہے یعنی علاج سے پرہیز بہتر ہے خاص طور پر ڈبگری گارڈن کے علاج سے تو سخت پرہیز کرنا چاہیے۔ اس عرصے میں یہاں کے تو تقریباً سارے ڈاکٹروں سے اس کا رشتہ ہو گیا تھا لیکن جہیز میں ایکسرے، لیبارٹریاں، ایم آرائیاں پی آرائیاں اور ایک درجن چھوٹے بڑے آپریشن بھی ملے تھے۔ حالانکہ جب وہ یہاں پہلی مرتبہ آیا تھا تو اسے صرف سردرد کی شکایت تھی سر درد کے ڈاکٹر نے ایک دو مہینے کے بعد اپنے سالے ڈاکٹر کو پاس کیا جو ای این ٹی اسپیشلسٹ تھا۔

اس نے اس کے آپریشن کر کے چند فالتو چیزیں بھی نکال دیں، ناک کی ہڈی گلے کے غدود اور ایک کان کا پردہ نکالنے کے بعد اس نے اپنے چچا زاد بھائی کو ریفر کیا جو گردوں کا ماہر تھا، یہاں سے ڈیڑھ گردہ لے کر جنرل سرجن کے پاس پہنچا تواس نے بواسیر کا آپریشن کیا۔ جس دن ہم اس کے ساتھ گئے اس دن اسے ایک نئے ڈاکٹر کے پاس ریفر کیا گیا تھا جس نے سارے دانت نکلوانے کے لیے اپنے ڈینٹل کلینک کو ریفر کیا تھا۔اب اگر وہ محلے کے کریانہ فروش کی دکان سے سردرد کی دو گولیاں کھا کر علاج سے پرہیز کرتا تو نہ اس کا آدھا جسم ضایع ہوتا ورنہ پوری جائیداد، اس لیے کہا علاج سے پرہیز یا علاج سے پرہیز بہتر نہیں ہے؟