بغداد عراقی وزیراعظم کیخلاف مظاہرے القاعدہ بھی احتجاج میں شامل

عوام ملکی عظمت اور آزادی کی بحالی کیلیے حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھالیں، القاعدہ کے ترجمان کا موقف


News Agencies February 03, 2013
ملک کواردن سے ملانیوالی شاہراہ بند، بغداد، سامرا ،رمادی اور فلوجہ میں ریلیاں ، احتجاج میں صدام کی باقیات ملوث ہیں، وزیراعظم. فوٹو رائٹرز

عراق میں ہزاروں افراد نے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے اور ملک کو اردن سے ملانے والی مرکزی شاہراہ ایک مرتبہ پھر بند کر دی گئی۔

القاعدہ سے وابستہ ایک جنگجو گروپ نے مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا آغاز کریں۔این این آئی کے مطابق مغربی صوبہ الانبار کے دارالحکومت رمادی اور دوسرے بڑے شہر فلوجہ میں نکالی گئی ریلیوں میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔دارالحکومت بغداد اور وسطی شہر سامرا میں اہل سنت نے حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے گئے ۔

ریلیوں کے دوران مظاہرین نے مارے گئے افراد کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور وہ حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کر رہے تھے۔ دریں اثنا القاعدہ سے وابستہ گروپ ریاست اسلامی عراق نے حکومت کے خلاف مظاہروں کی حمایت کی ہے۔ تنظیم کے ترجمان محمد العدنانی نے ایک بیان میں اہل سنت سے کہا کہ وہ یا تو اہل تشیع کے سامنے جھک جائیں یا پھر ملکی عظمت اور آزادی کی بحالی کیلیے حکومت کے خلاف ہتھیار بند ہو جائیں۔

12

اے پی پی کے مطابق القاعدہ کے بیان کے ردعمل میںعراقی وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا کہ ان کی حکومت کے خلاف حالیہ مظاہروں میں القاعدہ اور مصلوب صدر صدام حسین کی جماعت کی باقیات کا ہاتھ کار فرما ہے۔

واضح رہے کہ عراق میں دسمبر کے آخر سے وزیر اعظم نوری المالکی کی حکومت کے خلاف اہل سنت کے اکثریتی شہروں اور صوبوں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ مظاہرین عراقی جیلوں میں قید سنیوں کو رہا اور متنازع انسداد دہشت گردی قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ قانون ان کے بہ قول حکومت مخالفین کو دبانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔