حکومت سندھ رقم قرق کرنیکا فیصلہ واپس لینے کی درخواست دائر

جسٹس منیب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سماعت 8اگست کیلیے ملتوی کردی


Staff Reporter August 02, 2012
جسٹس منیب کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے سماعت 8اگست کیلیے ملتوی کردی۔ فائل فوٹو

حکومت سندھ نے مالی بحران کی بنیاد پرسندھ ہائیکورٹ سے عدالتی عملے کی تنخواہوں کی رقم قرق کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی درخواست کردی،مالی بحران کا شکار حکومت سندھ نے ایڈووکیٹ جنرل آفس کے وکلا کے بجائے عبدالحفیظ پیرزادہ کی خدمات حاصل کیں۔

عبدالحفیظ پیرزادہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ وہ ایک ماہ کے اندر اندرسندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے حکم امتناع حاصل کرلیں گے، تاہم سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے سماعت 8 اگست کے لیے ملتوی کردی ، حکومت سندھ نے یہ درخواست ماتحت عدلیہ کے ججوں اور عملے کی اضافہ شدہ تنخواہوں کے واجبات کی ادائیگی سے متعلق کیس کی سماعت کے موقع پر کی، عبدالحفیظ پیرزادہ نے بینچ سے استدعا کی کہ عدالت کے حکم پر حکومت سندھ کے اکائونٹ سے ایک ارب28 کروڑ روپے قرق کرلیے گئے ہیں۔

قبل ازیں ناظر سندھ ہائیکورٹ نوید سومرو نے بینچ کو بتایا کہ صوبہ سندھ کی ماتحت عدالتوں کے تقریباً ساڑھے پانچ ہزار ملازمین اورججوں کی تنخواہوں کے مئی 2011 سے مئی 2012تک واجبات کی مد میں وفاقی وصوبا ئی حکومتوں کے اکائونٹس سے مجموعی طور پر 220 کروڑ روپے کی رقم قرق کرلی گئی، ان میں سے حکومت سندھ پر ایک ارب 28 کروڑ روپے واجب الادا تھے،درخواست گزاروں کے وکلا بیرسٹر صلاح الدین اور حیدرامام ایڈووکیٹس نے موقف اختیارکیا کہ عدلیہ بھی ریاست کا اہم حصہ ہے، وسائل صرف حکومت کیلیے نہیں بلکہ ریاست کے تمام اداروں کیلیے ہیں۔