جس کے کھانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا
ہم نے پولیس اور پٹواری کلچر کی تبدیلی کا وعدہ پورا کر دیا ہے
روزے گزر چکے ہیں لیکن ہمیں جو حقیقہ یا د آ رہا ہے اس کا تعلق روزے سے کم اور ایک تازہ ترین خبر بلکہ ایک صوبائی وزیر کے بیان سے زیادہ ہے، وزیر صاحب کسی قسم کی تعلیم یا تعلیم کی کسی قسم کے وزیر ہیں لیکن ان کا بیان بھی ہمارے کالم کی طرح ہے کہ اس میں تعلیم کا ذکر کم اور دوسری خبروں کا ذکر زیادہ ہے۔
فرماتے ہیں ہم نے پولیس اور پٹواری کلچر کی تبدیلی کا وعدہ پورا کر دیا ہے، اساتذہ کی تمام بھرتیاں میرٹ پر ہوئی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا کہ پولیس اور پٹواری کلچر کی تبدیلی کا اساتذہ کی بھرتیوں سے کیا سمبندھ ہے لیکن کوئی نہ کوئی سمبندھ تو ضرور ہو گا کیوں کہ ایک وزیر نے کہا ہے اور وزیر لوگ تو آپ کو پتہ ہی ہوگا کہ جھوٹ کبھی نہیں بولتے صرف سچ بولتے ہیں اور سچ کے سوا کچھ نہیں بولتے اور پھر وزیر بھی جب پی ٹی آئی کا ہو کیوں کہ آج تک پی ٹی آئی کا عمران خان سے لے کر کسی دیہاتی کونسلر تک کسی نے ایک بھی لفظ جھوٹ نہیں کہا ہے جس کسی سے جو کچھ بھی کہا ہے سچ ہی کہا ہے ۔
اس لیے ہم اپنی ہی کم فہمی سمجھ کر مان لیتے ہیں کہ اساتذہ کی بھرتی سے پولیس اور پٹواری کلچر کا کوئی نہ کوئی تعلق ضرور ہوگا جہاں تک بھرتیوں کے میرٹ پر ہونے کا معاملہ ہے تو وہ بھی ٹھیک ہی ہوگا کیوں کہ میرٹ اور مینڈیٹ کا تعلق غصے اور عقل کا سا ہے کہ جب عقل آئی ہے تو غصہ چلا جاتا ہے اور جب غصہ آتا ہے تو عقل چلی جاتی ہے ایسا ہی معاملہ بلکہ ''معاہدہ'' میرٹ اور مینڈیٹ کا بھی ہے ایک ہو تو دوسرا نزدیک بھی نہیں پٹختا۔
ہمارے خیال میں جو زیادہ قابل اعتبار نہیں ہے پولیس اور پٹواری کلچر کا تعلق اساتذہ سے ''تبدیلی''کی بنیاد پر ہے، تھوڑی سی کتابت کی غلطی یہ ہو گئی کہ تبدیلی کا لفظ اپنی جگہ سے تھوڑا ہل کر پولیس اور پٹواری کے پاس چلا گیا ہے کیوں کہ تبدیلیاں اساتذہ کی بہت ہوتی رہتی ہیں، اس لیے مطلب یہ کہ احمد کی ٹوپی محمود کے سر چلی گئی کیوں کہ تینوں کی ٹوپیاں ایک جیسی تھیں اور یہ ٹوپی تبدیلی کی ہے پورا تو یاد نہیں لیکن غالباً تین رنگوں پر مشتمل ہے اس لیے تینوں یعنی پولیس پٹواری اور اساتذہ کو لیجانا مقصود ہے او یہ تو ہر کوئی مانے گا کہ ان تینوں مقامات پر تبدیلی کی ٹوپی سب سے زیادہ مروج ہے ۔
ویسے ایک ڈاؤٹ ہمیں اور بھی ہے جہاں تک ہمیں یاد ہے تو پولیس اور پٹواری کلچر کی پرانی ٹوپی اسی وقت اتار دی گئی تھی جب پولیس اور پٹوار کے ساتھ ساتھ کرپشن کو بلکہ ساتھ ہی عوام کو ٹوپی پہنائی گئی تھی غالباً حلف اٹھانے کے تین سیکنڈ کے بعد اس حکومت کے مدرالمہام نے اعلان کر دیا تھا کہ ان تینوں کا قلع قمع کر دیا گیا ہے، اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی ہے اور نسل اور تخم کا خاتمہ کردیا گیا ہے او پھر مسلسل اس کا ورد بھی جاری رہا، ختم کر دیا ختم ہوگیا، ہم نے کر دکھایا آئی ڈواٹ، اس حساب سے تو پولیس اور پٹواری کلچر اور ان سب کی والدہ محترمہ کرپشن کی تو ہڈیاں بھی خاک ہو جانا چاہیے تھیں ۔
ہم نے تبدیلی کا وعدہ اب پورا کر دیا ہے، چار سال پہلے ملیا میٹ ہونے والے پولیس اور پٹواری کلچر کا ایک مرتبہ پھر خاتمہ کر دیا ہے۔ پتہ نہیں درمیان میں یہ کم بخت کلچر کتنی بار ختم کر دیے گئے ہوں گے، یہ غالباً اس شخص کا سا قصہ ہے جس نے کہا تھا کہ کون کہتا ہے سگریٹ چھوڑ نا مشکل ہے۔ میں تو بیسیوں بار چھوڑ چکا ہوں یا ایک واپڈا والے نے شکایت کی کہ لوگ بس یہی کہتے رہتے ہیں کہ بجلی چلی گئی ہے اور بجلی چلی گئی ہے کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ بجلی آ گئی ہے حالانکہ انیس بار جانے کے لیے بجلی بیس بار آتی ہے۔اور سچ ہے کہ لوگ ہر وقت مرگئے مر گئے تو کہتے ہیں لیکن ایک بار بھی نہیں کہا کہ ہم زندہ بھی ہیں مرنے سے پہلے پیدا بھی تو ہوئے تھے موت کے لیے پیدا ہونا اور خاتمے کے لیے شروع ہونا بھی لازم ہے ۔
اور اب وہ کہانی جس کا تعلق روزے سے ہے بھی اور نہیں بھی یا یہ کہ وہ پیدا تو روزے میں ہوئی تھی تعلق اس کا ''روز روز'' سے ہے خاص طور پر سیاست کے روز روز سے اصل میں یہ قصہ نہیں بلکہ ہمارا چشم دید اور گوش شنید ہے، رمضان کا مہینہ سردیوں میں آیا تھا، ہم اس وقت اتنے سے تھے کہ روزہ رکھنے لگے تھے اور چونکہ حقے کی لت پڑی تھی اس لیے سحری کے بعد چپکے سے نکل جاتے تھے کیوں کہ حجرے میں اس وقت حقہ نوشوں کا سیشن چلتا تھا ، ہم بھی کونے میں بیٹھ جاتے اپنی باری کا انتظار کرتے اور بزرگوں کی باتیں سنتے۔
ان میں ایک شخص بڑا بڑبولا تھا جب بھی کوئی بات کرتا اس میں لاف زنی ضرور کرتا بلکہ موقع نکال نکال اپنے بارے میں کوئی بڑہانکتا۔ ایک دن حقہ کا کش لگانے کے بعد ناک سے دھواں نکالتے ہوئے بولا ، لوگ اکثر کہتے ہیں کہ روزہ ہمیں تنگ کرتا ہے آخر کیوں تنگ نہیں کرے گا کہ سحری میں دٹ کر اچھا کھانا تو کھاتے نہیں مجھے دیکھو ابھی میں نے سحری میں دیسی گھی کے دو پراٹھے، پاؤ بھرملائی کے ساتھ کھائے ہیں اور اوپر سے آدھا سیر دودھ پیا ہے، مجال ہے جو دن بھر روزہ ستائے۔
کونے میں اس کا چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ بیٹھا تھا، چپکے سے بولا تو بہ توبہ آدمی اتنا جھوٹ بولے کہ کم از کم ایک ریل گاڑی تو کھینچ سکے، ابھی ہم دونوں نے بینگن کی ترکاری سے روٹی کھا کر سحری کی ہے ۔
اور اب ہم یہی بات دہراتے ہوئے کہنا چاہتے کہ ٹھیک ہے، جھوٹ کسی کے باپ کا نہیں ہے اور اس پر کچھ بھی خرچہ نہیں کرنا پڑتا لیکن کم از کم اتنا جھوٹ تو نہ بولا جائے کہ خود جھوٹ کو پسینے چھوٹ جائیں۔
اور اب ایک مشہور قول جو صرف روزے میں ہر کسی کے زبان پر ہوتا ہے۔ میں کیا روزہ منہ جھوٹ بولوں گا؟ بھئی منہ میں روزہ ہے جھوٹ بالکل نہیں بولوں گا۔ روزے میں جھوٹ بول کر کیا مجھے کافر بننا ہے، سب کچھ کر سکتا ہوں لیکن روزہ منہ جھوٹ ہرگز نہیں بول سکتا ،کوئی مجھے کروڑ روپے بھی دے تو روزہ منہ ایک لفظ جھوٹ نہیں بولوں گا۔
ایسے اقوال زیادہ تر دکاندار لوگ استعمال کرتے ہیں بلکہ ساتھ ہی قسم بھی کھاتے ہیں کیوں کہ قسم ایک ایسی چیز ہے جو ہے تو کھانے کی چیز ہی لیکن اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا کم از کم دکانداروں اور کچھ اور ...لوگوں کا تو یہی خیال ہے۔