اسپتالوں میں ڈینگی اور چکن گنیا کے مریض طبی سہولتوں سے محروم

ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کسی بھی سرکاری ادارے نے موثر اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے


Staff Reporter June 30, 2017
حکومت کے دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے،اسپتالوں میں مریضوں کوپلیٹ لیٹس کی فراہمی بھی نہیں کی جارہی ہے فوٹو فائل

کراچی میں مون سون کا موسم اور بارشوں کے نتیجے میں ڈینگی،چکن گنیا اورملیریا کسی بھی وقت وبائی صورت اختیار کرسکتا ہے۔

اسپتالوں میں ڈینگی اور چکن گنیا کے مریض طبی سہولتوں سے محروم ہیں ،ڈینگی اور چکن گنیا وائرس کا سبب بننے والی مادہ مچھر ایڈیز کے انڈوں سے لاروے نکلنے کا موسم شروع ہوگیا، مون سون موسم میں انڈوں سے لاروے نکلتے ہیں جو ایک ہفتے کے اندر مکمل مچھرکی صورت اختیار کرتے ہیں، موجودہ موسم میں تیزی سے مچھروں کی افزائش نسل ہوتی ہے جس سے ڈینگی،چکن گنیا وائرس اور ملیریا تیزی سے جنم لے سکتا ہے۔

کراچی میں گزشتہ 6ماہ کے دوران 4ہزار افراد چکن گنیا جبکہ ڈینگی وائرس سے بھی ہزاروں افراد متاثرہوئے ، ماہرین صحت نے کہاکہ موجودہ موسم میں ایڈیز ایچپٹی اور دیگر مچھروں کی نسل کی تیزی سے افزائش نسل کرتا ہے جوجان لیوا بھی ہوتے ہیں،کراچی میں بارشوں سے پیدا ہونے والی صورتحال سے نمٹنے کے لیے کسی بھی ادارے نے موثر اور ٹھوس اقدامات نہیں کیے صرف اخباری بیانات کی حد تک صفائی کے دعوی جاری ہیں،ماہرین صحت نے بتایا کہ جہاں سرکاری اسپتالوں میں ڈینگی اور چکن گنیا کے مریضوں کے علاج کیلیے کوئی سہولتیں میسر نہیں،سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کوپلیٹ لیٹس کی فراہمی بھی نہیں کی جارہی لیکن محکمہ صحت سمیت دیگر متعلقہ حکام نے بچاؤکیلیے کوئی حفاظتی اقدامات نہیں کیے،متعلقہ حکام نے ندی نالوں میں لاروں کے خاتمے کیلیے کیمیکل اسپرے بھی نہیں کیا ۔

جس کی وجہ سے کراچی میں گزشتہ8 سال سے ڈینگی وائرس سے متاثرہ افرادکی تعداد میں مسلسل غیر معمولی اضافہ ہورہا ہے،ڈینگی پروینشن کنٹرول پروگرام کے جاری کردہ اعداد وشمارکے مطابق 818 افراد تاحال وائرس سے متاثر ہوئے،ماہرین کے مطابق کراچی میں مون سون موسم کے ساتھ ڈینگی وائرس اور ملیریا قابو سے باہر ہورہا ہے،چکن گنیا وائرس بھی تباہی پھیلا سکتا ہے،لیکن محکمہ صحت اور دیگر حکام نے اس مسئلے پر چپ ساد رکھی ہے،محکمہ کے ایک افسر کے مطابق کسی بھی سرکاری اسپتال میں ڈینگی اور ملیریا سے متاثرہ افراد کے علاج کیلیے کوئی سہولتیں میسر نہیں،غریب متاثرہ مریض اپنے علاج کیلیے نجی اسپتالوں کا رخ کرتے ہیں جہاں مہنگا علاج ہونے کی وجہ سے بیشترافراد علاج کرانے سے بھی قاصر ہیں۔