زرعی اصلاحات وقت کی ضرورت
اس طرح کی تبدیلیوں سے کمیشن کا زرعی اصلاحات کا منصوبہ سبوتاژ ہوا ہے
سینیٹ کی اطلاعات اور براڈکاسٹنگ کی کمپنی نے بائیں بازوکے رہنما اور سینئر وکیل عابد حسین منٹوکو زرعی اصلاحات پر بریفنگ کے لیے مدعوکرکے زرعی اصلاحات کے معاملے کو پھر تازہ کردیا۔ ملک کی آبادی کی اکثریت زراعت کے شعبے سے وابستہ ہے۔ بڑے بڑے جاگیردار اور وڈیرے ہزاروں ایکڑ زمینوں کے مالک ہیں۔ اس خطے میں زراعت کے آغاز سے کاشت کاری کرنے والے کسان اب بھی حقِ ملکیت سے محروم ہیں۔ اوکاڑہ کے قومی زرعی فارمز کے کسان گزشتہ 16 برسوں سے حقِ ملکیت کے لیے جدوجہد کررہے ہیں۔
پنجا ب کے سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی کے دور میں یہ مسئلہ کچھ حد تک حل ہوا تھا مگر اب بھی بیشتر کسان حقِ ملکیت سے محروم ہیں۔ انھیں زمینوں سے بے دخل کیا جاتا ہے، متحدہ جدوجہد سے وہ اب تک اپنی زمینوں پر موجود ہیں۔ زرعی اصلاحات کا تصورکمیونسٹ منفیسٹو کے ذریعے آیا۔ سوشلزم کے بانی کارل مارکس نے تحریرکیا کہ زمین اس کسان کی ہے جس پر وہ کاشت کرتا ہے۔ پہلی سوشلسٹ ریاست سوویت یونین کے قیام کے دن یکم نومبر 1917ء کو انقلاب کے بانی لینن نے جاگیرداری کے خاتمے اور زمین قومی ملکیت میں لینے کا آغاز کیا۔ ہندوستان میں کمیونسٹ پارٹی نے جاگیرداری کے خاتمے کے لیے تاریخی جدوجہد کی۔ بنگال، پنجاب، سندھ اور تلنگانہ وغیرہ میں کسانوں نے جاگیرداری کے خاتمے کے لیے جودجہد کی۔ سندھ میں سابق آئی سی ایس افسر حیدر بخش جتوئی نے ہاری کمیٹی کے ذریعے کسانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کی۔ نیشنل عوامی پارٹی نے سب سے پہلے اپنے منشور میں جاگیرداری کے خاتمے کے مطالبے کو شامل کیا۔
انڈین نیشنل کانگریس کے منشور میں جاگیرداری کے خاتمے کا نکتہ شامل تھا۔ پنڈت نہرو نے بھارت میں جاگیرداری کو ختم کیا۔ مسلم لیگ پنجاب کے منشور میں بھی جاگیرداری کے خاتمے کا مطالبہ شامل تھا مگر صرف مشرقی بنگال میں جاگیرداری ختم ہوئی۔ سندھ، پنجاب اور سرحد کے جاگیرداروں نے 1947ء سے اقتدار میں شراکت کی، یوں 1947ء سے 1958ء تک جاگیرداری کے خاتمے کا تصور نہیں آیا بلکہ سکھر میں غلام محمد بیراج بننے کے بعد اچھی زمین فوجی اور سول بیوروکریٹس کو الاٹ کرنے کی روایت شروع ہوئی۔ جب جنرل ایوب خان کی حکومت اقتدار میں آئی تو ایوب خان مغرب کو اپنا لبرل چہرہ دکھانا چاہتے تھے، یوں پہلی دفعہ زرعی اصلاحات کا قانون نافذ ہوا۔
1959ء میں زرعی اصلاحات کے قانون کے تحت بارانی زمین کی حد 500 ایکڑ اور غیر بارانی زمین کی حد 1000 ایکڑ مقرر ہوئی مگر ایوب حکومت نے اپنی اصلاحات کو عملی طور پر نافذ کرنے میں کوئی زیادہ دلچسپی نہیں لی۔ سندھ اور بلوچستان میں فوجی اور سول بیوروکریٹس کو زرعی اراضی سستی قیمت پر دینے کا سلسلہ جاری رہا۔ 60ء کی دہائی کے وسط میں بائیں بازو کی مزدور تنظیمیں مستحکم ہوئیں۔ سرحد، پنجاب اور سندھ میں کسان اور ہاری منظم ہوئے۔ سرحد میں ہشت نگر میں کسانوں نے تاریخی لڑائی لڑی۔ ایوب خان کی آمریت کے خلاف 1968ء میں شروع کی جانے والی تحریک میں بائیں بازو کی طلبہ تنظیم نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے علاوہ مزدور، کسان، صحافیوں اور پروفیشنل تنظیموں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا، یوں زرعی اصلاحات سب سے بڑا نعرہ بن گیا۔ پیپلز پارٹی، نیشنل عوامی پارٹی اور عوامی لیگ نے زرعی اصلاحات کا وعدہ کیا۔ پیپلز پارٹی کو پنجاب اور سندھ کے دیہاتوں سے بھرپور حمایت ملی، پیپلز پارٹی کے چیئرمین ذوالفقار علی بھٹو نے ہر جلسے جلوس میں زرعی اصلاحات اور صنعتوں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لینے کے وعدے کیے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی نے 20 دسمبر 1971ء کو اقتدار میں آنے کے بعد جامع زرعی اصلاحات کیں۔ بھٹوکی زرعی اصلاحات کے تحت بارانی زمین کی حد 150 ایکڑ اور غیر بارانی زمین کی حد 300 ایکڑ مقررکی گئی۔ایک فیڈرل لینڈکمیشن بنایا گیا۔
پیپلز پارٹی کے بانی رکن اور ساری زندگی کسانوں کے لیے جدوجہد کرنے والے شیخ محمد رشید کو اس کمیشن کا چیئرمین مقررکیا گیا۔ اس کمیشن نے بعض تاریخی فیصلے کیے اور اپنی جماعت کے سردار فاروق لغاری جو بعد میں پیپلز پارٹی کی جانب سے ملک کے صدر بنے کی ہزاروں ایکڑ زمین ضبط کر کے کسانوں میں تقسیم کرنے کا فیصلہ دیا، پھر پیپلز پارٹی کی حکومت نے 1977ء میں نئی زرعی اصلاحات کیں مگر 5 جولائی 1977ء کو جنرل ضیاء الحق نے مارشل لاء نافذ کر کے اقتدار پر قبضہ کرلیا تو زرعی اصلاحات کا معاملہ داخلِ دفتر ہوگیا۔
1988ء میں وفاقی شریعت کورٹ نے یہ متنازعہ فیصلہ دیا کہ اسلام میں زرعی اصلاحات کی گنجائش نہیں ہے۔ اس فیصلے پر سخت تنقیدکی گئی۔ 1970ء میں دائیں بازو کی جماعت اسلامی ذاتی ملکیت کو نصف ایمان قرار دیتی تھی مگر اب جماعت اسلامی قومی صنعتوں کی نجکاری کے خلاف ہے اور بے زمین کسانوں کو زمین دینے کے مطالبے کی حمایت کرتی ہے مگر وفاقی شریعت کورٹ کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں عابد حسین منٹو نے چیلنج کیا۔ یہ مقدمہ جسٹس افتخار چوہدری کے سامنے پیش ہوا۔ اس وقت کی پنجاب، سرحد اور بلوچستان کی حکومتوں نے مزید زرعی اصلاحات کی مخالفت کی۔
سندھ کے سابق ایڈووکیٹ جنرل خالد جاوید نے حکومت سندھ کی جانب سے جواب میں زرعی اصلاحات کی مخالفت کی مگر تاج حیدر اور ان کے ساتھیوں کے احتجاج پر خالد جاوید مستعفی ہوگئے اور حکومت سندھ نے نیا جواب داخل کیا، مگر سپریم کورٹ نے اس معاملے کو التواء میں ڈال دیا۔ منٹو صاحب نے سینیٹ کی کمیٹی کے سامنے تجویز پیش کی کہ سینیٹ اس مقدمے میں فریق بن جائے۔ اٹارنی جنرل اشتر اوصاف علی نے انتہائی اہم نکتہ اٹھایا کہ اگر سینیٹ سپریم کورٹ کے سامنے فریق بنے گی تو پارلیمنٹ کی خودمختاری کا تصورکمزور ہوجائے گا۔ سینیٹ کو اس بارے میں قانون سازی کرنی چاہیے۔ سینیٹ کی کمیٹی نے فیڈرل لینڈ کمیشن کے افسروں کو طلب کیا۔ ان افسروں نے بتایا کہ کمیشن آج کل وزار ت اور قومی ورثے سے منسلک ہے، مگرکئی برسوں کے دوران مختلف وزارتیں فیڈرل لینڈ کمیشن کی نگرانی پر مامور ہیں۔
اس طرح کی تبدیلیوں سے کمیشن کا زرعی اصلاحات کا منصوبہ سبوتاژ ہوا ہے۔ پیپلزپارٹی کے کریم خواجہ نے اپنے زرعی پس منظرکے تناظر میں کہا کہ کم زرعی رقبے پر پیداوار زیادہ بہتر ہوتی ہے۔ تاج حیدر کہتے ہیں کہ مختلف حکومتوں نے فوجی جنرلوں کو بڑی بڑی اراضیاں الاٹ کی ہیں۔ یہ جنرل صاحبان زرعی اصلاحات کے شدید مخالف ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زرعی اصلاحات پر عملدرآمد نہیں ہورہا۔ سابق کمیونسٹ ماہر معاشیات ڈاکٹر اکبر زیدی کا مشاہدہ ہے کہ اب زرعی زمینیں خاندانوں میں بٹ گئی ہیں، یوں روایتی طور پر جاگیردار خاندان کا تصور نہیں رہا۔ سوشل سائنٹسٹ عارف حسین بھی اس تجزیے سے متفق ہیں، مگر کمیونسٹوں اور ترقی پسندوں کی اکثریت ڈاکٹر اکبر زیدی کے تجزیے سے متفق نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بڑے خاندان ہزاروں ایکڑ زمینوں پر قابض ہیں۔ ہاریوں کی اکثریت کو زمین کی ملکیت کے بغیرکسی قسم کا سماجی و اقتصادی تحفظ حاصل نہیں کرسکی۔ سندھ کے کچھ علاقوں میں بانڈڈ لیبر بڑی تعداد میں موجود ہیں۔ یہ ہاری غلاموں سے بدترین زندگی گزارر ہے ہیں۔ پھر بڑے زمیندار زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے سائنسی فکر پر علمدرآمد نہیں کرتے جیسا کہ سینیٹر کریم خواجہ کہتے ہیں کہ اگر زرعی اراضی چھوٹی ہو تو جس شخص کی زمین ہے وہ کاشت کررہا ہے تو زرعی پیداوار بڑھتی ہے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ غربت کی لکیر کے نیچے آباد لاکھوں افراد کے مستقبل سے وابستہ ہے۔ اگر بے زمین کسان زمینوں کے مالک ہونگے اور انھیں قرضے اور تکنیکی مدد حاصل ہوگی اور ٹیوب ویل چلانے کے لیے بجلی یا ڈیزل مہیا ہوگا اور پولیس اور یاستی ادارے عام آدمی کی زندگی میں مداخلت نہیں کریں گے تو چھوٹے ہاری ترقی کی دوڑ میں اہم کردار ادا کریں گے۔
اسلامیات اور ذرایع ابلاغ کے ماہر پروفیسر سعید عثمانی کا کہنا ہے کہ زرعی اصلاحات معاشی معاملہ ہے۔ اس کو مذہبی معاملہ بنانے سے معاملات پیچیدہ ہونگے۔ زمین اس کی ہے جو کاشت کرتا ہے۔ بے زمین کسانوں کو زمین دینے اور نئی زرعی اصلاحات سے زرعی معیشت بہتر ہوسکتی ہے اور جاگیردارانہ کلچر تبدیل ہوسکتا ہے۔