پارلیمانی بالادستی جمہوریت کا حسن ہے ہر ادارہ حدود میں رہنا چاہئے صدر زرداری

کچھ ادارے حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں جو ارتقائی عمل کا حصہ ہے، سپریم کورٹ بار کے وفد سے گفتگو


اسلام آباد:صدر آصف علی زرداری ایوان صدر میں سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو کمیٹی کے وفد سے بات چیت کررہے ہیں۔ فوٹو ایکسپریس

صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے، حکومت اقتدارکے تین ستونوں پرکامل یقین رکھتی ہے جن کی آئین میں وضاحت موجود ہے، نظام کی طاقت اور استحکام کیلیے یہ ضروری ہے کہ ریاست کا ہر ادارہ آئینی حدود کے مطابق اپنے فرائض انجام دے۔

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر محمد یاسین آزاد کی سربراہی میں بارکی ایگزیکٹو کمیٹی کے وفد سے ملاقات میں کیا۔ صدر نے جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور عدلیہ کی آزادی کو سربلند رکھنے پر سپریم کورٹ بار کے کردار کو سراہا۔ صدر نے کہا نسبتاََ نو عمر جمہوریتوں میں کچھ ادارے بعض اوقات اپنی آئینی حدود سے تجاوز کرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن یہ ارتقائی عمل کا حصہ ہے۔ حکومت نے ملک میں قانون کی حکمرانی مستحکم بنانے کیلئے کئی اہم اقدامات کئے ہیں۔

1973کے آئین کو اس کی اصل شکل میں بحال کرنا موجودہ حکومت کا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے۔ جمہوری حکومت عدلیہ کا احترام کرتی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ انھوں نے کہا وہ آئین کے مطابق اختیارات کی تین حصوں میں تقسیم اور اداروں کی آزادی پر یقین رکھتے ہیں۔

جمہوری نظام میں عوامی رائے معتبر ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ کی بالادستی جمہوریت کا حسن ہے۔ صدر زرداری نے وفد کو یقین دہانی کروائی کہ وہ حکومت کو ہدایات جاری کرینگے کہ وہ سپریم کورٹ کو فوری طور پر تین کروڑ روپے کی گرانٹس جاری کرے اور بار کے دیگر ایشوز پر بھی ہمدردانہ غور کرے۔ صدر نے امید ظاہر کی کہ بار بالخصوص معاشرے کے کمزور اور پسماندہ طبقوں کیلئے فوری اور سستے انصاف کی فراہمی اور آئین، قانون کی حکمرانی اور جمہوریت کے تحفظ کیلئے اپنا اہم کردار ادا کرتی رہے گی۔