برہان مظفر وانی شہید سوچ کا سفر

وانی جب تک زندہ رہا، سرآنکھوں پر بٹھایا گیا اورجب دنیا سے رخصت ہوا تو کشمیرمیں ہر انسان کا دل دکھی اور ہرآنکھ نم تھی


آزادی کے لیے سفارتی، قانونی، عسکری، صحافتی اور علمی سطح پر لڑنے والا ہر فرد کشمیریوں کا ہیرو ہے۔ فوٹو: فائل

کامل ایک برس بیت گیا۔ کشمیریوں کے لیے یہ ایک سال شاید ایک صدی پر بھاری گزرا ہے۔ پل پل مرنے والوں کے لیے زندگی کا ہر لمحہ بھاری ہی ہوتا ہے۔ آج برہان مظفر وانی کی برسی ہے اور کشمیریوں سے لگاؤ رکھنے والے افراد دنیا بھر برہان وانی کی برسی منا رہے ہیں۔ پاکستان، برطانیہ، امریکہ، عرب ممالک اور دیگر سینکڑوں جگہوں پر کشمیر کی آزادی کے حامی افراد کے لیے برہان مظفر وانی آزادی کا ایک استعارہ ہے۔

اہلِ کشمیر چاہے آزاد کشمیر کے رہنے والے ہوں یا بھارتی تسلط والے مقبوضہ کشمیر سے اُن کا تعلق ہو، اُن کے لیے 21 سالہ شہید برہان وانی آزادی کی تحریک کے ایک ہیرو کی حیثیت رکھتا ہے۔ وہ جب تک زندہ رہا، اُس کو سر آنکھوں پر بٹھایا گیا اور جب کم عمری میں دنیا سے رخصت ہوا تو کشمیر میں ہر انسان کا دل دُکھی اور ہر آنکھ نم تھی۔ صرف21 برس... یہ بھی کوئی عمر ہے دنیا سے جانے کی؟ وانی کے والد کہتے ہیں کہ اُن کے بیٹے کے جنازے میں 10 لاکھ سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔ جگہ کی تنگی کے سبب متعدد مرتبہ جنازہ پڑھایا گیا۔ آخر یہ کم سن نوجوان ''ہیرو'' کیسے بن گیا؟

جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں ایک اسکول پرنسپل مظفر احمد وانی کے ہاں پیدا ہونے والا بچہ اِس قدر اہم کیوں ہوگیا کہ برمنگھم اور نیویارک کے حکمرانوں کو اُس کی برسی پر ہونے والی دعائیہ تقاریب کھٹکنے لگی ہیں۔ پندرہ سال کی عمر میں گھر چھوڑ جانے والا یہ ہیرو 2010ء میں کشمیر میں ہونے والے فسادات کے بعد آخر کیوں اتنا اُبھر کر سامنے آیا کہ بھارت کی ساڑھے سات لاکھ فوج مقبوضہ وادی میں یرغمال بن کر رہ گئی ہے؟ اور جس کی جدوجہد بھارتی فوجیوں کا دردِ سر بن گئی ہے؟ جس کی آواز پر لبیک کہنے والے200 کے قریب مقامی کشمیریوں نے بھارت کے اداروں کو پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔ اِس کے لیے ہمیں برہان وانی کی جدوجہد پر ایک طائرانہ نگاہ ڈالنا ضروری ہے۔

2010ء میں کشمیر میں فسادات پھوٹ پڑے، کشمیر کا گوشہ گوشہ بغاوت کی علامت بن گیا۔ کشمیریوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی گئیں۔ کرفیو نے عام آدمیوں کی زندگیوں برباد کردیں، عورتوں کو گھروں سے اُٹھا لیا گیا، یونیورسٹیوں اور کالجوں سے نوجوانوں کو گرفتار کرکے ماورائے عدالت قتل کیا جانے لگا۔ بھارتی فوجیوں نے گھروں میں داخل ہوکر نوجوانوں کو تشدد کے بعد قتل کرنا شروع کیا تو کچھ نوجوان اپنی جان بچانے کے لیے گھروں سے بھاگ نکلے۔ یہ کوئی 10 کے قریب کم سن اور نو عمر نوجوان تھے، پھر اُن کے ساتھ چند افراد اور شامل ہوگئے۔ اُنہوں نے اپنی جان بچانے کے لیے سیلف ڈیفنس کی تربیت لی تو بھارتی فوجیوں نے انہیں جہادی قرار دیا۔

بعد ازاں 2011ء میں اِن میں سے کچھ نوجوان مقبوضہ کشمیر کی مقامی افراد کی تنظیم حزب المجاہدین میں شامل ہوگئے۔ اِن میں ایک برہان مظفر وانی بھی تھے۔ حزب المجاہدین دیگر کشمیری عسکریت پسند تنظیموں کی طرح ہندوستان کے مظالم کے خلاف مسلح جدوجہد کررہی ہے۔ یہ نوجوان باقی نوجوانوں سے ذرا ہٹ کر تھے۔ بھارتی فوجیوں سے اسلحہ چھینتے اور اُنہی پر استعمال کرتے تھے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹ فیس بک، یوٹیوب اور ٹویٹر پر مقبول رہے۔ جہاں وہ اپنی تصاویر اور ویڈیوز بھیجا کرتے تھے۔ اِسی سبب برہان کو پوسٹر بوائے کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ اُن کے بڑے بھائی خالد مظفر وانی اپنے تین دوستوں کے ہمراہ 2015ء میں بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں بے دردی سے قتل ہوئے۔ اِس قتل کے بعد بھارتی حکومت نے برہان کے سر کی قیمت دس لاکھ روپے مقرر کی۔

برہان نے ایک معتدل انسان کے طور پر اپنی شناخت بنائی۔ اسی لیے وہ کشمیری مسلمانوں کے ساتھ ساتھ کشمیری ہندوؤں میں بھی مقبول تھے۔ اپنی ایک ویڈیو میں انہوں نے جنوبی کشمیر کے نوجوانوں کو اِس تنظیم میں شامل ہونے کی اپیل کی اور کہا کہ اب تک اِس تنظیم میں 30 کے قریب نوجوان شامل ہوچکے ہیں۔ برہان کی مختلف ویڈیوز منظرِ عام پر آتی رہیں، جن سے اُن کے نظریات کے بارے میں آگاہی حاصل کی جاسکتی ہے۔

وانی کشمیر میں بھارتی علاقوں میں رہنے والے ایسے ہندؤوں کی آباد کاری کے خلاف تھے جو کہ کشمیری نہیں ہیں۔ وہ کشمیر کو اسرائیل اور فلسطین طرز پر بدلنے کی مخالفت کرتے تھے۔ اُن کے نزدیک کشمیری پنڈت کشمیر میں رہ سکتے تھے۔ انہوں نے بھارت سے آنے والے ہندو زائرین کے قافلے پر حملہ کرنے اور انہیں تکلیف پہنچانے سے سختی سے منع کیا۔ وہ کہتے تھے کہ،
''ہماری جنگ بھارتی فوج کے ظالمانہ قبضے کے خلاف ہے۔ کشمیر میں بسنے والے لوگ کوئی بھی ہوں اور اُن کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو، اُن سے ہماری کوئی جنگ نہیں وہ ہمارے بھائی ہیں''

برہان وانی نے کہا تھا کہ ہم صرف اُن وردی پوشوں کو نشانہ بنائیں گے جو کشمیر کے امن کو تباہ کرنے کے لیے انڈیا کے مظالم کی پشت پناہی کریں گے۔ ہمارا مقصد کشمیر کی آزادی ہے جو کہ ہمارا اقوامِ متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں مانا ہوا حق ہے۔ ہمارا اصل دشمن بھارت ہے جو کشمیر پر ناجائز قبضے کی صورت میں کشمیریوں کا قاتل ہے۔ کشمیر کی سرزمین ہماری ہے اور اِس پر صرف کشمیریوں کا حق ہے۔

وانی نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ بھارتی میڈیا اُن کی تحریک آزادی کو دہشت گردی قرار دے رہا ہے۔ اگر یہ لوگ واقعی سچ کہنا چاہتے ہیں تو انہیں کشمیر کی تاریخ کا مطالعہ کرنا چاہیئے تاکہ انہیں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کا پتہ چل سکے۔ حقیقت یہی ہے کہ بھارتی میڈیا جھوٹ کی کاشت کر رہا ہے۔ سچ کہنا اور بولنا بھارت جیسے جمہوریت کے چیمپئن کے ہاں شاید غیر جمہوری روایت ہے۔

8 جولائی کو ٹھیک ایک سال قبل وانی کو دو ساتھیوں کے ہمراہ شہید کیا گیا۔ برہان مظفر وانی کی شہادت کی خبر پوری ریاست میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی، جبکہ نوجوانوں کی جانب سے اِس قتل پر شدید ردِعمل بھی دیکھنے میں آیا۔ احتجاج شروع ہوا تو سیکیورٹی فورسز اور نوجوانوں میں تصادم ہوگیا۔ 2 روز کے دوران احتجاج میں 17 سے زائد افراد کو شہید کیا گیا۔ کشمیری نوجوانوں کی جانب سے فورسز پر پتھراؤ کیا گیا جبکہ ہندوستانی فوج نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پہلے آنسو گیس استعمال کی مگر احتجاج قابو نہ ہونے پر فائرنگ کی گئی جس کے بعد کئی افراد جاں بحق ہوئے۔ اُن کی شہادت پر کشمیر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں اب تک 200 سے زائد افراد شہید جبکہ 2 ہزار افراد کی آنکھیں ضائع ہوچکی ہیں۔ 20 ہزار افراد ایک سال میں زخمی ہوچکے ہیں۔

پاکستانی وزارتِ خارجہ نے بھی برہان کی شہادت کی مذمت کی اور مظاہرین کی شہادتوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔وزیراعظم پاکستان نے برہان مظفر وانی کو آزادی کا سپاہی قرار دیا۔ انہیں پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفنایا گیا۔ برہان وانی کے والد مظفر وانی نے گزشتہ سال ہندوستان ٹائمز کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ
''برہان صرف اِس لیے عسکریت پسند نہیں بنا کہ اُس کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا بلکہ اُس نے اِس لیے ہتھیار اٹھائے کہ برہان نے ہندوستانی فوج کو دیگر افراد کو تشدد کا نشانہ بناتے ہوئے دیکھا۔ اُن کا مزید کہنا تھا کہ ہندوستان سے آزادی حاصل کرنا صرف اُس کا ہی نصب العین نہیں تھا بلکہ یہ ہر کشمیری کا مطالبہ ہے، یہاں تک کہ میرا بھی''

بھارت نے پہلے پیلٹ گن اور اب ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں سے وحشیانہ حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ دنوں میں ایک بار پھر مسلح جدوجہد تیز ہوگئی ہے۔ کشمیر میں ہندوستانی فوج پر حملوں میں بھی اضافہ ہوا ہے اور کشمیریوں کے مظاہروں میں بھی شدت آگئی ہے۔ اُن میں طلبہ و طالبات بھی سرگرم ہیں۔ کشمیری نوجوانوں کے نزدیک برہان وانی حریت پسند اور ایک ہیرو ہیں۔ برہان تو کشمیر کی آزادی کی ایک علامت ہے، آزادی کے لیے سفارتی، قانونی، عسکری، صحافتی اور علمی سطح پر لڑنے والا ہر فرد کشمیریوں کا ہیرو ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیولنکس بھی۔