جام ساقی کی داستان (دوسرا اور آخری حصہ)

ڈاکٹر توصیف احمد خان  ہفتہ 8 جولائ 2017
tauceeph@gmail.com

[email protected]

1968ء میں میر تھیپوگرفتار ہوئے تو جام اس وقت کے ڈپٹی کمشنر عثمان علی عیسانی سے ملے۔ ڈپٹی کمشنر نے جام کو پیشکش کی کہ اگر تمہیں کلاس ون کی نوکری چاہیے تو حکومت تیار ہے، اگر تم سی ایس ایس کا صرف امتحان دو تو حکومت تمہیں ڈپٹی کمشنر لگا دے گی۔ جام نے کہا کہ سائیں میں کس سے کہوں گا کہ کرسی پر بیٹھ کر عوام کی خدمت کرنی ہے۔ ان ہی دنوں سندھ یونیورسٹی کے وائس چانسلر محمد صالح قریشی نے انھیں بلایا اورکہا کہ اگر ڈھاکا یا پشاور یونیورسٹی داخلہ لینے پر رضامند ہو جاؤ تو حکومت تمہیں 10 ہزار روپے ہر مہینے دینے کے لیے تیار ہے۔ جام نے اس پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ جام ان پیشکشوں کو ٹھکرانے کے بعد ایم اے نہ کرسکے۔ 1985ء میں جام نے حیدرآباد جیل سے پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کیا۔

کتا ب کے دوسرے باب جام ساقی اور طلبہ تحریک کا آغاز یوں ہوا۔ 3 مارچ 1968ء کو جام کی سکھاں سے شادی ہوگئی۔ سکھاں نے جام سے بہت محبت کی۔ جب 1978ء میں جام گرفتار ہوئے اور انھیں مار دیے جانے کی افواہیں پھیلیں تو سکھاں نے کنویں میں چھلانگ لگا کر اپنی جان دیدی، 1970ء میں ملک میں انتخابات ہوئے۔ پیپلز پارٹی نے جو سندھ اور پنجاب میں کامیابی حاصل کی تھی انتقال اقتدارکے پارلیمانی اصول کو تسلیم کرنے سے انکارکیا۔ عوامی لیگ جس نے انتخابات میں مکمل اکثریت حاصل کی تھی کو اقتدار کی منتقلی کی مخالفت کی۔ بھٹو نے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے انکار کیا۔

یحییٰ خان نے اجلاس ملتوی کیا۔  مشرقی پاکستان میں  فوج کشی کے خلاف بنگالی عوام کی جدوجہد کامیاب ہوئی۔ 16 دسمبر 1971ء کو پاکستانی فوج نے بھارتی کمانڈر کے سامنے ہتھیار ڈال دیے۔اس سارے عرصے میں کمیونسٹ پارٹی، اس کے سیاسی، ثقافتی، ادبی، کسان، خواتین اور طلبہ محاذوں کے ارکان قید وبند یا روپوشی کے اذیت ناک دور سے گزرے۔ محقق احمد سلیم نے یہاں اپنی نظم اورگرفتاری کا ذکر کیا۔ احمد سلیم جیسے دانشورکے لیے یہ مناسب نہیں تھا۔ جام کہنے لگے کہ میں نے اپنے طور پر سندھ بھر میں مظاہرے کرنے کی کوشش کی تو اکثر دوستوں نے منع کیا۔ انھوں نے کہا کہ پارٹی ممبرکے طور پر یہ میرا فرض ہے کہ میں یہ خطرہ مول لوں۔ چنانچہ میں نے اپنی ذمے داری پر مظاہرہ منظم کیا ۔ میری شریکِ حیات سکھاں بھی مظاہرے میں شامل تھی۔ اس مظاہرے کی خبریں شایع ہوئیں تو فوج نے گولی مارنے کا حکم دیا۔ جام ساقی دوبارہ روپوش ہوگئے۔اس روپوشی میں یہ افواہ پھیلائی گئی کہ جام ہندوستان چلے گئے۔

پھر 1972ء آگیا، جام کے دوست میر غوث بخش بزنجو بلوچستان کے گورنر بن گئے تھے۔ جام نے روپوشی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور داڑھی  منڈھوا لی ۔ اس وقت ہوٹل شیمریز میں  غلام محمد لغاری اور سید باقی شاہ نیپ کی طرف سے پریس کانفرنس کررہے تھے۔ پولیس نے جام کو گرفتار نہیں کیا۔ پیپلز پارٹی کی سویلین حکومت نے جام کو گرفتار کیا اور سٹی تھانہ لے جایا گیا۔ جام نے 10 دن تک بھوک ہڑتال کی تو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں سے ملتان جیل منتقل کردیا گیا۔ ملتان جیل میں جام نے مارشل لاء کی سزا کو پورا کیا۔ رہا ہوئے تو نیشنل عوامی پارٹی کے رہنما قصورگردیزی نے اپنے بیٹے کے نام پی آئی اے کا ٹکٹ خریدا ور کوئٹہ بھجوادیا۔ جام کوئٹہ کے گورنر ہاؤس چلے گئے۔

وہاں گارڈ نے انھیں اندر جانے سے روک دیا۔ وہاں بسم اﷲ کاکڑ آگئے اور گارڈ سے کہا کہ ان جیسے لوگوں کو کیوں روکتے ہو؟ یہی تو وہ لوگ ہیں جن کا میر صاحب انتظارکرتے ہیں۔ 1972ء کے اواخر میں نئے آئین کی منظوری کے معاہدے پر بحث ہوتی تھی جس کوکمیونسٹ پارٹی نے اس بنیاد پر روکا تھا کہ اس معاہدے میں مذہبیت زیادہ اور صوبائی خودمختاری کم ہے۔ بزنجو صاحب کا خیال تھا کہ کمیونسٹ پارٹی کے اس عمل سے قیدوبند کا دور دوبارہ شروع ہوجائے گا۔ جام نے بتایا کہ قید و بند سے ہمیں گریز نہ تھا۔

اب نیپ اور ہمارے اختلافات شروع ہوگئے اور مجھے دوبارہ روپوش ہونا پڑا۔ جام کو یہاں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے تھا کہ میر غوث بخش بزنجو کا تجزیہ درست تھا۔ جام نے طویل عرصہ روپوشی میں گزارا۔ جام نے مولوی کا روپ دھار لیا تھا۔ جام کو روپوشی کے دوران پیغام ملا کہ بابا کے پرانے دوست اور پرانے کانگریسی مور شنکر ملنا چاہتے تھے۔ ملاقات پر مور شنکر نے کہا کہ انڈیا سے پیغام آیا ہے کہ اگر آپ کوپیسے یا سامان وغیرہ کی ضرورت ہو تو ہمیں بتائیں۔ جام نے ان سے کہا کہ انڈیا کے پیغام کو چھوڑیں یہ بتائیں آپ پارٹی کے لیے سو پچاس روپے کا فنڈ دینا پسند کریں گے؟

پھر جنرل ضیاء الحق کا بدترین دور آگیا۔ بھٹو کی سپریم کورٹ میں نواب قصوری کیس میں اپیل کی سماعت ہورہی تھی۔ اس صورتحال میں کمیونسٹ پارٹی صرف اور صرف واحد متحرک قوت تھی جو عوام کو صحیح سوچ اور انقلابی قیادت مہیا کرنے اور انھیں منظم کرنے میں کوشاں تھی۔ اسی وجہ سے جام حکمرانوں کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے تھے۔ 10 دسمبر 1978ء کو جام ساقی حیدرآباد میں اپنے دوست اقبال میمن کے گھر سے گرفتار ہوئے۔ انھیں فوجی یونٹ میں لے جایا گیا۔ اس یونٹ میں جام ساقی رات بھر ٹارچر برداشت کرتے رہے۔ پھر انھیں لاہور کے شاہی قلعے میں منتقل کردیا گیا۔ 30 جولائی 1980ء کو پروفیسر جمال نقوی اور نذیر عباسی کراچی میں پارٹی مرکز سے گرفتار ہوئے۔ نذیر عباسی کو 9 اگست 1980ء کو شہید کردیا گیا۔ جام نے تفصیل سے نذیر عباسی کا ذکر کیا ہے اور جام ساقی کیس کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔ پھر 9 دسمبر 1986ء کو جام ساقی رہا ہوئے۔ انھوں نے 1970ء اور 1988ء میں دوبارہ تھرپارکر سے سندھ اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لیا مگر کامیاب نہیں ہوئے۔

شیخ ایاز نے اپنی ساہیوال جیل کی ڈائری میں لکھا ہے کہ ایک بار حیدرآباد میں ادبی شام کی صدارت کررہا تھا۔ میرے روبرو طالب علم رہنما جام ساقی کو پیغام ملا کہ اس کو حیدرآباد کا ڈپٹی کمشنر بلارہا ہے۔ اس پر جام نے جواب دیا تھا کہ مجھے آج کل اتنی فرصت نہیں کہ کسی ڈپٹی کمشنر سے مل سکوں۔ انھیں مجھ سے ملنے کا شوق ہے تو خود آجائیں یا کسی کالی دفعہ کے تحت میرے گرفتاری کے وارنٹ جاری کردیں۔ احمد سلیم اور نزہت عباسی نے جام کی سوانح عمری کے لیے بہت محنت کی ہے۔دل نشیں اور خوبصورت اردو میں حقائق بیان کیے ہیں۔ فرخ سہیل گویندی کے ادارے نے اعلیٰ معیار کے ساتھ اس کتاب کو شایع کیا ہے مگر اس کتاب میں پہلے سے شایع شدہ مواد کے بجائے کمیونسٹ پارٹی کے اندرونی حالات، وہاں کی فیصلہ ساز اتھارٹی کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتیں تو قارئین کی معلومات میں بے تحاشا اضافہ ہوتا مگرکامریڈ جام ساقی کی زندگی میں اس کتاب کی اشاعت بڑا کارنامہ ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔