رینجرز نے اسٹریٹ کرمنلز کیخلاف دہشت گردی کی دفعہ لگانے کی سفارش کر دی

کرمنل کے سب سے بڑے سہولت کار موبائل مارکیٹ کے کچھ دکاندار ہیں


Staff Reporter July 08, 2017
661 مقامات پر 2 ہزار 841 کیمرے نصب ہیں، 250 خراب ہیں، رینجرز 550 مقامات پر چیکنگ کرتی ہے، اپیکس کمیٹی میں بریفنگ فوٹو: فائل

رینجرز نے اسٹریٹ کرمنلز کے خلاف دہشت گردی کی دفعہ لگانے کی سفارش کر دی ، رینجرز کی جانب سے گزشتہ دنوں منعقدہ اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں پر اعداد شمار کے ساتھ تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ رینجرز کی تعداد پولیس کے مقابلے میں ایک تہائی ہے ، رینجرز اختیارات رواں ماہ 14 جولائی کو ختم ہو رہے ہیں ،2014 سے 2017 تک جب جب رینجرز کے اختیارات ختم ہوئے جرائم میں اضافہ ہوا ، زیادہ تر جرائم کی وارداتیں اختیارات ختم ہونے سے لیکر ملنے تک کے وقفے کے درمیان ہوئیں ، اختیارات ختم ہونے سے رینجرز کے ساتھ مل کر چلنے والے '' ذرائعے'' پیچھے ہٹ جاتے ہیں جس کی وجہ سے جرائم کی روک تھام میں اثر پڑتا ہے، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں دی جانے والی بریفنگ میں بتایا گیا کہ رینجرز نے آپریشن شروع ہونے سے اب تک ساڑھے7 ہزار سے زائد جرائم پیشہ عناصر گرفتار کر کے پولیس کے حوالے کیا گیا ۔

جس میں صرف 400 ملزمان کو سزائیں ملی سکیں جبکہ رینجرز اب تک 828 اسٹریٹ کرمنلز کو پکڑکر پولیس کے حوالے کر چکی ہے ، رینجرز نے جنوری سے لیکر اب تک کراچی کے مختلف مقامات پر نفری تعینات کی ہوئی ہے ، رینجرز کی نفری جہاں موجود ہو وہاں سے اسٹریٹ کرمنل اپنا رخ بدل لیتا ہے ، رینجرز کی جانب سے550 مختلف مقامات پر چیکنگ کی جاتی ہے جبکہ رینجرز کی جانب سے رمضان المبارک میں شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا گیا ، اپیکس کمیٹی کے اجلاس میں اسٹریٹ کرائمز کے حوالے تجاویز پیش کی گئیں جبکہ وارداتوں کی وجوہات کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ اسٹریٹ کرائمز کی وارداتیں زیادہ تر رش والے مقامات یا ٹریفک جام کے دوران کی جاتی ہیں ۔

اسٹریٹ کرائمز کی ایک بڑی وجہ پانی ، بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر کیے جانے والے احتجاج سے ٹریفک جام کے ہونے پر اسٹریٹ کرمنلز کو موقع مل جاتا ہے جبکہ لوڈشیڈنگ والے علاقوں میں بھی وارداتیں کی جاتی ہیں ، شہر میں661 مقامات پر 2 ہزار 841 سی سی کیمرے نصب ہیں جس میں سے 250 کے قریب کیمرے خراب ہیں ،70 فیصد اسٹریٹ کرمنل منشیات کے عادی ہوتے ہیں ۔

جب تک اسٹریٹ کرمنل کو سخت سزا نہیں ملے گی اس میں کمی نہیں آسکے گی ، اسٹریٹ کرمنل کے سب سے بڑے سہولت کار موبائل مارکیٹ کے کچھ دکاندار ہیں ، اگر وہ چوری کے موبائل نہ خریدیں تو ان وارداتوں میں کمی آسکتی ہے ، بینک ڈکیتیوں کی سب سے بڑی وجہ اسٹیٹ بینک کے قوانین پر عمل نہیں کیا جاتا ، کوئی بھی کرمنل بغیر بیک اپ کے ڈکیتی نہیں کرتا ، چوری کی جانے والی موٹر سائیکلیں اور گاڑیوں کے پارٹس کون خریدتا ہے اگر مارکیٹوں میں بھی کیمرے لگائے جائیں تو اس سے بھی فرق پڑ سکتا ہے، رینجرز حکام کے مطابق اسٹریٹ کرائمز کی سب سے زیادہ وارداتیں جون 2012 میں ہوئی تھیں۔