سیاسی جماعتوں کے اندر آمریت…
یہ جمہوریت میں وصیت کے فیصلے کس قدر جمہوری ہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن اب بھی آمریت ہی ہے۔
پاکستان میں ایک عجیب روش ہے جب ملک میں آمریت کا دور ہوتا ہے تو ہم سب جمہوریت کی جدو جہد شروع کر دیتے ہیں اور جب جمہوریت آجاتی ہے تو ہم آمریت کی جدوجہد شروع کردیتے ہیں۔ ہر حکمران کو جانے کے بعد یاد کرتے ہیں۔ آجکل بھی یہی ہو رہا ہے۔
جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورت بات یہی ہے کہ اس میں انتقال اقتدار پر امن ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ کہا جاتا ہے کہ حکومتوں کو اپنی مدت پوری کرنے کا موقع ملنا چاہیے تا کہ وہ سیاسی شہید نہ بن سکیں۔ حکمران بیلٹ بکس سے جائیں تو ان کی واپسی کے راستے محدود ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں جبری طور پر گھر بھیجا جا ئے تو ان کی واپسی کے امکانات روشن رہتے ہیں۔
یہ بھی درست ہے کہ پاکستان میں کمزور جمہوریت کی بنیادی وجہ بھی جمہوری سیاسی جماعتیں ہی ہیں۔ وہ پاکستان میں جمہوری طرز حکومت کی تو خواہاں ہیں لیکن اپنے اندر جمہوریت کے لیے تیار نہیں ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے اندر کی آمریت بھی ملک میں جمہوریت کے استحکام کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔
کراچی کے ضمنی انتخاب کے نتائج نے ایک مرتبہ پھر ثابت کر دیا ہے کہ پانامہ عوام کا مسئلہ نہیں ہے۔کیا تحریک انصاف کو ملنے والے کم ووٹوں سے یہ اخذکیا جا سکتا ہے کہ پانامہ نے ان کی مقبولیت میں کمی کی ہے۔کیا مسلم لیگ (ن) کو ملنے والے کم ووٹو ں سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے پانامہ کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک اتنا کم ہو گیا ہے کہ جیتی ہوئی سیٹ پر ضمانت ضبط ہو گئی ہے۔کیا پیپلز پارٹی کی جانب سے پانامہ میں غیر جانبدار رہنے کے فیصلہ کو عوام نے پسند کیا ہے اور پیپلزپارٹی نے سیٹ جیت لی ہے۔کیا ایم کیو ایم کے ہارنے کی وجہ ایم کیو ایم میں تقسیم ہے۔
یہ نتائج کیا اشارہ دے رہے ہیں؟کیا ان نتائج کا ملک کے قومی منظر نامہ سے کوئی تعلق ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں کسی نظریہ یا سوچ کی بنیاد پر نہیں بلکہ فرد کے گرد گھومتی ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان کا یہ موقف ہے کہ ان کی جماعت کا ووٹ بینک ان کی جماعت کا نہیں بلکہ ان کا ذاتی ہے۔ وہ اپنی جماعت کے لوگوں کو یہ باور کراتے رہتے ہیں کہ اگر وہ نہ رہے تو ووٹ بینک بھی نہیں رہے گا۔ اس لیے سیاسی جماعتیں ان سربراہان کی ذاتی ملکیتیں بن چکی ہیں۔ یہ پرائیوٹ لمیٹڈ کمپنیاں بن چکی ہیں۔ سب کچھ ایک فرد کے ارد گرد گھومنے کی وجہ سے یہ جماعتیں اپنے اندر آمریت کا شکار ہو چکی ہیں۔ سیاسی آمریت ہی دراصل ملک میں جمہوری استحکام کی راہ میں رکاوٹ ہے۔
حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) مکمل طور پر میاں نواز شریف کی ذاتی ملکیت ہے۔ آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن مسلم لیگ (ن) کا کوئی تنظیمی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ کوئی تنظیمی عہدیداران نہیں۔ عرصہ ہوا سینٹرل ایگزیکٹو کا اجلاس نہیں ہوا۔ آپ یقین کریں کہ پانامہ کے اس بحران میں جب ہر طرف جان کی بازی لگی ہوئی ہے۔ ساری سیاست داؤ پر لگ چکی ہے۔مسلم لیگ (ن) نے بطور سیاسی جماعت اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کا کوئی اجلاس بلانے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔کسی نے جماعت کے لوگوں کی کوئی راے جاننے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ بس طے ہے کہ لوگ نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ اس لیے جو وہ کر رہے ہیں ٹھیک ہے۔
پیپلزپارٹی میں قیادت کا انتقال اقتدار ہوا ہے۔ بھٹو سے آصف زرداری اور بلاول تک قیادت منتقل ہوئی ہے۔ لیکن یہ انتقال اقتدار بھی پر امن نہیں رہا۔بانی قائد ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی ہوئی۔ پیپلزپارٹی کا اقتدار گیا۔ لیڈر گیا لیکن جماعت میں ایسا کوئی تنظیمی ڈھانچہ نہیں تھا کہ صورتحال پر غور ہو سکتا۔بس سب لیڈر کے ساتھ ہیں۔ جو لیڈر کا غدار ہے وہ گھر جائے۔ بھٹو کے بعد بے نظیر آگئیں۔ آمریت ہی آمریت جس نے اختلاف کیا گھر جائے۔ ان کی موت کے بعد بھی پارٹی نے فیصلہ کیا۔ وصیت نے فیصلہ کیا۔
یہ جمہوریت میں وصیت کے فیصلے کس قدر جمہوری ہیں، یہ الگ بحث ہے لیکن اب بھی آمریت ہی ہے۔ یہی آمریت تو بلاول کو چلنے نہیں دے رہی کیونکہ جماعت کی مکمل قیادت ابھی بلاول کے پاس بھی نہیں۔ اور پر امن انتقال اقتدار کا کوئی طریقہ نہیں ہے۔ عمران خان کی جماعت نے تو سب سے زیادہ ناامید کیا ہے۔
ا نہوں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی جماعت میں مکمل جمہوریت قائم کریں گے۔ پارٹی میں انتخابات کرانے کا وعدہ کیا گیا۔ شائد انھوں نے کوشش بھی کی لیکن انھیں بھی اندازہ ہو گیا کہ یہ آسان کام نہیں۔ ان کی اپنی لیڈر شپ خطرے میں پڑ جائے گی جو جیت کر آئے گا وہ غلام نہیں ہو گا۔ صرف جماعت اسلامی ایک ایسی جماعت ہے جس کے اندر جمہوریت ہے۔ لیکن اس کی جمہوریت بھی اس کے لیے اعزاز کم اور طعنہ زیادہ ہے۔
یہ دلیل دی جاتی ہے کہ جماعت اسلامی کو اس کی جمہوریت کی وجہ سے لوگوں نے کونسے ووٹ دے دئے ہیں۔ اس لیے یہ جماعتوں کے اندر جمہوریت کی کوئی اہمیت نہیں۔آج ملک جس بحران کا شکار ہے بلکہ ہماری جمہوریت جب بھی بحران کا شکار ہوئی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ سیاسی جماعتوںکے اپنے اندر کی آمریت ہے۔جب سیاسی جماعتوں کے اندر لیڈر بدلنے کا کوئی نظام ہی موجود نہیں۔ تو کیا ہو گا۔ مصنوعی اور جبری تبدیلیوں کی ضرورت محسوس ہو گی۔
میں یہ نہیں کہتا کہ میاں نواز شریف کو عوام سے نئے مینڈیٹ کی ضرورت ہے۔ یہ درست ہے کہ ان کے پاس مئی 2018 تک کا مینڈیٹ ہے۔ لیکن کیا انھیں اپنی جماعت سے نئے مینڈیٹ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ جا رہے ہیں تو متبادل کون ہو گا ؟کیا یہ طے کرنے کے لیے ن لیگ میں باقاعدہ کوئی پلیٹ فارم موجود ہے۔
یہ درست ہے کہ میاں نواز شریف کی نااہلی کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مسلم لیگ (ن) کا مینڈیٹ ختم ہو گیا ہے۔ لیکن اس کے لیے مسلم لیگ (ن) کو بطور ایک سیاسی جماعت اپنی اہلیت ثابت کرنا ہو گی۔ مسلم لیگ کو اپنے اندر نئے وزیر اعظم لانے کے عمل کو اس قدر جمہوری بنانا ہو گا تا کہ جمہوریت پر اٹھنے والے سوالات ختم کیے جا سکیں۔
ہمیں یہ ماننا ہو گا کہ سیاسی جماعتوں کو پرائیوٹ لمیٹڈ بنا کر جمہوریت کو مستحکم نہیں بنایا جا سکتا۔فرد واحد کے گرد گھومنے والی سیاسی جماعتیں بے شک جمہوری طریقہ سے اقتدار میں آتی ہیں۔ لیکن وہ بھی آمریت کی ہی ایک شکل ہیں۔ اسی لیے جمہوریت کے دشمنوں کو جمہوریت پر شب خون مارنے کا موقع مل جاتا ہے۔