چندہ اور اس کا موجد
کبھی کبھی تو ہم سوچتے ہیں کہ جس زمانے میں چندہ ایجاد نہیں ہوا تھا بچارے لوگ کیا کرتے ہوں گے۔
تحقیق کا ایک بڑا مشکل ٹاسک ہمیں ملا ہے ،یہ ٹاسک دو چیزوں کی جان کاری کے بارے میں ہے' کام خاصا مشکل ہے لیکن کیا کیا جائے کہ ہم اکثر مشکل کام کرنے کے بارے میں سوچتے رہتے ہیں' جس تحقیق کا مشکل ٹاسک ہمیں دیا گیا ہے ، ہم خود بھی ایک عرصے سے ان دونوں چیزوں کے بارے میں ''از خود نوٹس''لینے کے بارے میں سوچ رہے تھے جنہوں نے ہماری زندگی کو گل و گلزار ، باغ و بہار اور ہر دم بیدار کیا ہوا ہے۔
لیکن ڈرتے تھے کہ ''کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے'' لیکن اب تو ایک قاری نے بھی '' توجہ دلاؤ نوٹس '' کے ذریعے خواہش کی ہے کہ ہم ان دو نہایت مفید پھل دار اور میوہ دار چیزوں کے بارے میں پتہ کریں کہ ان کا موجد کون تھا۔لہٰذا اب یہ بیڑا اٹھانے کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ہم نے سوچا کہ چلو یہ کام بھی کر ہی لیتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو اگر دو کہا جائے تو پھر بھی ٹھیک ہے لیکن اصل میں ان دونوں کا آپسی رشتہ اتنا گہرا ہے کہ من '' تو شدی تو من شدی ''والا معاملہ ہے، ان میں ایک چیز کا نام ''چندہ '' ہے اور دوسری کا نام نامی اسم گرامی لاؤڈسپیکر ہے، باقی تو آپ جانتے ہیں کہ یہ دونوں آج خدمت خلق، بہبود عوام اور افادٔہ عام کے سلسلے میں کتنی گراں قدر'' خدمات ''سر انجام دے رہے ہیں۔گھر گھر میں اس کا شہرہ ہے۔
ہمارے اس قاری نے تو عندیہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان دونوں کے موجد یا موجدوں کا پتہ چل جائے تو ان دونوں کی زیارت کے لیے کچھ بھی کرنا پڑے اور کیسے بھی کرنا پڑے،زیارت کے لیے جانا پسند کریں گے، اگر یہ موجد صاحب زندہ ہوں تو ان کی ''بلائیں '' لے لیں گے'صدقے واری جائیں گے اور بلائیں لینے اور صدقے واری جانے کے لیے انھوں نے ایک عدد جدید ترین کلاشن کوف اور ستر عدد راؤنڈ پہلے ہی سے جمع کیے ہوئے ہیں تاکہ بروقت ضرورت کام آئیں اور اگر یہ دونوں اپنی خوش قسمتی اور ہماری بد قسمتی سے فوت ہو چکے ہیں تو ان کی آخری آرام گاہ پر جا کر عقیدت کا اظہار کریں گے اور اسی کلاشنکوف کے ذریعے ہی کریں گے۔ان صاحب کے نیک ارادوں سے متاثر ہو کر ہم نے بھی ٹاسک پورا کرنے کے لیے کمر باندھ لی ہے کہ یہ پتہ لگا کر چھوڑیں گے کہ ان دونوں پھل دار درختوں کو بویا کس نے ہے ۔ جس کے پھل آج پوری انسانیت کا نصیب ہو رہے ہیں۔
ہم نے جب تحقیق کا ٹٹو اس میدان میں بے لگام چھوڑدیا تو چندے کے موجد کا تو فوری طور پر پتہ چلا وہ ایک پولیس میں بھرتی ہونے کا امیدوار تھا،افسران نے انٹرویو لیتے ہوئے اس سے پوچھا کہ اگر تم پولیس میں بھرتی ہو گئے اور ڈیوٹی کے دوران ایک بہت بڑے ہجوم کو منتشر کرنے کا مسئلہ درپیش ہوا تو تم کیا کروگے ؟امیدوار نہایت معصومیت سے بولا۔
میں چندہ مانگنا شروع کر دوں گا،افسران نے نہ صرف بھرتی کر لیا بلکہ اس کے اس ایجاد کو سرکاری طور پر تھانوںکے لیے ''منظور '' بھی کرلیا ، لیکن قانونی ضرورت کے تحت اس کا نام کچھ اور رکھا۔ابھی پچھلے دنوں اس ایجاد کا ایک زبر دست اور کامیاب مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا بلکہ ہم نے خود اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کیا عید کے موقع پر یہ بے مہار قسم کے نو جوان کچھ زیادہ بے مہار ہو جاتے ہیں اور جب خرچ کرنے کو پیسہ بھی ماں باپ کا جا رہا ہو تو پھر تو...''نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں ...ان نوجوانوں کا زیادہ زور اٹک پر رہتا ہے پورے صوبہ خیبر پختون خوا اور پنجاب کے نوجوان دریا کنارے مستی کرتے ہیں لیکن گذشتہ چند سالوں میں ڈوبنے کے واقعات کچھ زیادہ پیش آئے اس لیے اب عید کے موقع پر یہاں دفعہ 144نافذ کر دیا جاتا ہے۔
اب بچے نہا تو سکتے نہیں اس لیے یہاں وہاں کناروں پر یا دور دور سے نظارہ کرتے ہیں لیکن آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے ہاں کے قانون نافذ کرے والے ادارے کتنے مستعد ہیں؟اس لیے اس مرتبہ نہانے اور کنارے جانے کی جرأت تو کسی نے نہیں کی لیکن کیجیے نظارہ دور دور سے والے بھی پکڑے گئے ۔ ہمارے دوست کا ایک بیٹا بھی لسٹ میں آیا تھا مجبوری تھی ساتھ چل پڑے لیکن وہاں جا کر پتہ چلا کہ ہمارا جانا فضول ہی تھا ۔ قائد اعظم کی تصویر والے کاغذ ہم سے پہلے پہنچے یا تھا نے والوں نے بلا لیا تھا۔چنانچہ پندرہ ہزار فی کس کے حساب سے چندے جس کا نام کچھ اور ہے، بازار گرم تھا ، صرف وہی بد نصیب رہ گئے تھے جن کے پیچھے یہ کمک نہیں پہنچی تھی ۔یہیں پر ہمیں احساس بلکہ ادراک بلکہ گیان حاصل ہو گیا کہ چندہ کتنی با برکت چیز ہے اسے اگر ''ملٹی پرپز ''چیز کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔
یہ لڑکے جو دریا کو قطعی ناجائز اور غیر قانونی طور پر دیکھنے کے مرتکب ہوئے تھے، سیدھی طرح سیدھے ہونے والے تو تھے نہیں نہ والدین کی نصیحت مانتے تھے نہ بزرگوں کی فصیحت اور نہ حکومت کا انتباہ کہ ڈوب جاؤ گے، اس کے باوجود بھی گئے اور جرم کا ارتکاب کر گئے۔
بات صرف یہی نہیں ہے کہ پندرہ ہزار روپے کے عوض ان کو اور بھی بہت کچھ حاصل ہو گیا ، ان میں اب زیادہ تر تو اس طرف کبھی بھول کر رخ نہیں کریں گے بلکہ بس کی کھڑکی سے بھی دریا کی طرف دیکھنے کی جرأت نہیں کریں گے اور کچھ ایسے بھی نکل آئیں گے جو چندے کی اہمیت سے آگاہ ہو کر آیندہ کے لیے حرز جان بنالیں گے اور پولیس اور عوام کے درمیان تعاون اور خیر سگالی کے رازو رموز سے آگاہ ہو جائیں گے، عین ممکن ہے کہ پولیس تھانے اور 188-144کے ساتھ دیگر دفعات سے بھی واقف ہو جائیں گے اور کسی بھی وقت کسی بھی مسٔلے کو بذریعہ ''چندہ '' حل کرنے کے ماہر ہو جائیں گے۔
تیسرا بڑا فائدہ ان نوجوانوں کے والدین کو حاصل ہو گیا، صرف پندرہ ہزار روپے میں یہ سبق مہنگا نہیں ہے کہ اپنے سپوتوں کے ویراباؤٹ سے واقف ہونے کے عادی ہو جائیں گے،اور آخر پولیس کو بھی اپنی اس جا نکاہ محنت کا صلہ مل گیا جو وہ دریا پر نظر رکھنے بلکہ دریا سے زیادہ دریا پر نظر ڈالنے کو نظر میں رکھنے کی محنت و مشقت عید کے دنوں بھی کر رہے تھے۔
مطلب یہ کہ چندہ ہر لحاظ سے ایک کثیر الفوائد ایجاد ہے، کبھی کبھی تو ہم سوچتے ہیں کہ جس زمانے میں چندہ ایجاد نہیں ہوا تھا بچارے لوگ کیا کرتے ہوں گے، اپنے ''مسائل'' کیسے حل کرتے ہوں گے اور خلق خدا کی خدمت کیسے کرتے ہو ں گے۔چندے کے ساتھ ساتھ اس کے دوسرے ساجھے دار لاؤڈسپیکر کی تحقیق ادھوری رہ گئی ہے لیکن اس پر کبھی دوسرے وقت تحقیق کریں گے ۔
فی الحال تو ہم اپنے اس قاری کو مشورہ دیں گے کہ اب چندے کے موجد کا پتہ یا اس کی قبر کا پتہ لگانا توممکن نہیں ہے لیکن اگر عقیدت کا اظہار لازماًکرنا چاہتے ہو ں تو پاکستان میں اس کے مواقع کم نہیں ہے ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں بلکہ ہمیں تو ڈر ہے کہ کہیں ایک دن ایسا بھی نہ آجائے کہ سارے ہی لوگ اکٹھے ہی چندے کی مہم پر نکل جائیں اور سڑکوں پر جھنڈوں سے مزین چارپائیاں اتنی بڑھ جائیں کہ گزرنے والوں کے لیے راستہ ہی باقی نہ بچے کیونکہ مسجد تو ڈیڑھ اینٹ کی بھی بنائی جا سکتی ہے۔