سب کچھ آئین کے دائرے میں
حزب اختلاف نے وزیر اعظم نواز شریف کو استعفیٰ پر مجبورکرنے کے لیے پارلیمنٹ اور سڑکوں پر آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔
کیا جمہوری نظام کا مستقبل پھر چیلنج ہورہا ہے؟ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (J.I.T) نے اپنی سیکڑوں صفحات پر مشتمل رپورٹ میں وزیراعظم نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں کی دولت اور طرز زندگی میںتفاوت پایاہے اور بعض جعلی مالیاتی دستاویزات تیارکرنے کا مرتکب قرار دیدیا۔ اگرچہ سپریم کورٹ اگلے پیرکو جے آئی ٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے گی مگر مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے اس رپورٹ کو مسترد کردیا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتیں میاں نواز شریف کے فوری استعفیٰ کے مطالبے پر متفق ہوگئی ہیں۔
حزب اختلاف نے وزیر اعظم نواز شریف کو استعفیٰ پر مجبورکرنے کے لیے پارلیمنٹ اور سڑکوں پر آواز بلند کرنا شروع کردی ہے۔ وزیر اعظم اور ان کے ساتھی اس بات پر پرعزم ہیں کہ وہ سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی کی رپورٹ کی دھجیاں اڑادیں گے ، وزیر اعظم کے استعفیٰ کا کوئی جواز نہیں ہوگا۔ پاکستان کی تاریخ میں سیاستدانوں اور منتخب نمایندوں کے احتساب کی روایت بہت پرانی ہے، مگراس دفعہ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔ ماضی میں منتخب نمایندوں کو ان کے عہدوں سے معزول کرکے اور انھیں گرفتار کر کے ان کا احتساب کیا جاتا تھا۔
یہ احتساب مشرقی بنگال کے وزیر اعلیٰ اے کے فضل الحق سے شروع ہوا اور سابق صدر آصف علی زرداری تک پہنچ گیا مگر اقتدار سے محرومی اور جیلوں میں نظر بند ہونے کے باوجود اسٹیبلشمنٹ بیشتر سیاستدانوں کے خلاف ٹھوس شواہد حاصل نہیں کرسکی۔ یہی وجہ ہے کہ بدعنوانی کے الزامات میں گرفتار ہونے والے بیشتر منتخب نمایندے اور سیاستدان کسی عدالت سے سزا نہیں پاسکے اور یہ خیال عملی شکل اختیار کرگیا کہ اسٹیبلشمنٹ جمہوری نظام کے خاتمے اور اپنا اقتدار قائم کرنے کے لیے منتخب نمایندوں اور سیاستدانوں کی کردار کشی کرتی ہے۔ یہ خیال اس لیے بھی تقویت پاگیا کہ برسر اقتدار آنے والے فوجی حکمراں کبھی کسی احتساب کے عمل سے نہیں گزرے۔
تاریخ کا عرق ریزی سے مطالعہ کرنے والے دانشور فیلڈ مارشل جنرل ایوب خان کی مثال دیتے ہیں۔ فیلڈ مارشل نے ساری عمر فوج میں ملازمت کی تھی۔ ان کے دو صاحبزادے گوہر ایوب اور اختر ایوب اپنے والد کے ملک میں پہلا مارشل لاء نافذ کرنے سے پہلے فوج میں افسر بھرتی ہوگئے تھے۔ جب ایوب خان ملک کے صدر بنے تو گوہر ایوب اور اختر ایوب فوج سے مستعفیٰ ہوگئے اور صنعتکاری کا پیشہ اختیارکیا ۔
جب ماہرِ معاشیات ڈاکٹر محبوب الحق نے ملک کے سب سے زیادہ دولت مند 22خاندانوں کی ان کی طرف سے ظاہرکردہ اثاثوں کی بنیاد پر فہرست مرتب کی تو ایوب خان کا خاندان ان 22خاندانوں میں شامل ہوچکا تھا۔ احتساب نہ ہونے کا معاملہ دوسرے فوجی سربراہ جنرل یحییٰ خان، تیسرے سربراہ جنرل ضیاء الحق اور چوتھے فوجی سربراہ جنرل پرویز مشرف تک جاتا ہے۔ سینئر صحافی کہتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر علی عبدالرحمن کے وارثوں کے پاس دولت کی ریل پیل بہت سی کہانیوں کو آشکار کرتی ہے۔ جنرل مشرف سعودی شاہی خاندان اور نامعلوم دوستوں سے ملنے والی خطیر رقم کو اپنی شاہانہ زندگی کی بنیاد قرار دیتے ہیں مگر وہ کسی عدالت کے سامنے پیش ہونے کو تیار نہیں۔
بہرحال پاناما لیکس کے منظر عام پر آنے کے بعد اس فہرست میں شامل افراد کے محاسبہ کا معاملہ عروج پر پہنچا۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی نشری تقریر میں اپنے خاندان کے مالیاتی معاملات کی وضاحت کی مگر بیشتر لوگ اس وضاحت سے مطمئن نہیں ہوئے۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا یہ کریڈٹ ہے کہ گزشتہ 9 برسوں کے دوران کرپشن کو اپنے ایجنڈا پر رکھا، یوں وہ پہلی دفعہ عوام میں مقبول ہوئے۔
اگرچہ انتخابی دھاندلیوں پر اسلام آباد میں ہونے والے طویل دھرنے سے ان کی مقبولیت کا گراف گرا مگر ایک منجھے ہوئے سیاسی کارکن کی طرح انھوں نے کرپشن کا معاملہ اپنی سیاسی بات چیت کا محور رکھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب عمران خان نے پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے اسلام آباد میں دھرنے کا اعلان کیا تو سپریم کورٹ نے بگڑی ہوئی صورتحال کا نوٹس لیا اور اپنے پہلے فیصلے پر نظرثانی کرتے ہوئے پاناما لیکس کی سماعت کرنے کا فیصلہ کیا۔
تاریخ میں یہ پہلی دفعہ ہوا کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ موجود رہی، وفاقی حکومت کے بعض اعلیٰ افسروں اور مختلف شعبے کے ماہرین نے میاں نواز شریف ،ان کے اہل خانہ اور مالیاتی اداروں کے سربراہوں کا آڈٹ شروع کیا۔ یہ الزام لگایا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی کے خلاف ایک بے بنیاد مہم منظم انداز میں چلائی گئی۔ اس کے بعض اقدامات متنازعہ قرار پائے مگر جے آئی ٹی میں شامل افسروں نے بہادری کے ساتھ مالیاتی امور سے متعلق دستاویزات کا معائنہ کیا اور ایک مفصل رپورٹ تیار کی۔ اس رپورٹ میں اقتدار کے محور میں وزیر اعظم اور ان کے اہل خانہ کو مختلف نوعیت کی بندعنوانیوں کا مرتکب قرار دیا گیا۔ جے آئی ٹی میں شامل افسران اپنی مجاز اتھارٹی کا محاسبہ کرنے کے بعد اپنے اپنے محکموں میں واپس چلے گئے۔
بعض حلقوں کو مختصر عرصے میں کئی ہزار صفحات کی رپورٹ کی تیاری پر حیرت ہے یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ ہے۔ اگرچہ ابھی مختلف قانون ماہرین جے آئی ٹی کے بارے میں مختلف نوعیت کی رائے کا اظہارکررہے ہیں۔کچھ کا خیال ہے کہ معاملہ احتساب عدالت میں جائے گا جہاں باقاعدہ مقدمہ شروع ہوگا۔
کچھ کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کا تین رکنی بینچ جس نے جے آئی ٹی قائم کی تھی میاں نواز شریف، ان کے اہل خانہ اور اس مقدمہ کے درخواست گزاروں کے دلائل سننے کے بعد حتمی فیصلہ دے گا مگر حزب اختلاف نے فوری طور پر وزیر اعظم کے استعفیٰ کے لیے دباؤ ڈالنا شروع کردیا۔ وزیراعظم او ران کے ساتھی فوری طور پر استعفیٰ کے لیے تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں منصفانہ دفاع (Fair Trial) کا حق ملنا چاہیے۔
اگرچہ اس طرح کی کشمکش جمہوری ممالک میں معمول کی بات ہے مگر پاکستان میں یہ ایک غیر معمولی صورتحال سمجھی جاتی ہے۔ مارچ 1977ء میں وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قبل از انتخابات کا فیصلہ کیا اور اسمبلی تحلیل کردی۔ حزب اختلاف کی9 سیاسی جماعتیںپاکستان قومی اتحاد (P.N.A) کے پلیٹ فارم پر متحد ہوگئیں۔ پی این اے کی قیادت نے جارحانہ انتخابی مہم چلائی۔ پی این اے کے رہنما گنجے کے سر پر ہل چلے گا جیسے فاشسٹ نعرے کے سائے میں انتخابی مہم چلاتے رہے۔ قومی اسمبلی کے انتخابات میں دھاندلی کے نام پر صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کا بائیکاٹ کیا اور وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے استعفیٰ کے لیے ایک پرتشدد مہم شروع کردی۔
بعد میں ظاہر ہونے والے حقائق سے انکشاف ہوا کہ اس پر تشدد مہم کے پس پشت جنرل ضیاء الحق اور ان کے اہلکار تھے۔ یوں 4 جون 1977ء کو وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو اور حزب اختلاف کے درمیان معاہدے کے ایک گھنٹے بعد جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرلیا، پھر ملک ایک ایسی تباہ کن صورتحال کا شکار ہوا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔
خود میاں نوازشریف جن کے خاندان نے پی این اے کو مالیاتی امداد دی تھی اور جنرل ضیاء الحق نے انھیں سیاسی میدان میں روشناس کرایا تھا یہ اقرار کرتے ہیں کہ جنرل ضیاء الحق کا دور بدترین دور تھا اور ذوالفقار علی بھٹو کو عدالتی پھانسی دیدی گئی تھی۔کچھ گمراہ ذہن رکھنے والے اور مغربی جمہوریت کے پرستاروں کو اس پورے معاملے کے پیچھے کہیں اسٹیبلشمنٹ نظر آتی ہے۔
سینئر سیاست دان جاوید ہاشمی نے بھی ایسے ہی خدشات کا اظہار کیا ہے مگر اس بحث سے قطع نظر ضروری بات یہ ہے کہ نواز شریف وزیر اعظم رہیں یا نہ رہیں مسلم لیگ کو جب تک قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے اس کے نامزد کردہ وزیر اعظم کو اقتدار کی مدت مکمل کرنے کا موقع ملنا چاہیے۔مسلم لیگ کے اراکین اسمبلی میں گروپنگ کی کوشش بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ثابت ہوگی۔ شفاف انتخابات ہونے چاہئیں اور جو جماعت اکثریت حاصل کرنے اس کو اقتدار منتقل ہونا چاہیے۔ یہ سب کچھ 1973ء کے آئین کے دائرے میں ہوگا اور دوسرا راستہ تباہی کا راستہ ہے۔