پولیس کانسٹیبل کے قاتل گرفتار کرنے میں پولیس ناکام

والدپولیس مقابلے میں شہید ہوئے،قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،بیٹا ابرار خان.


Staff Reporter February 07, 2013
والدپولیس مقابلے میں شہید ہوئے،قتل کی دھمکیاں دی جارہی ہیں،بیٹا ابرار خان. فوٹو: فائل

نارتھ ناظم آباد کٹی پہاڑی پر 4 ماہ قبل پولیس مقابلے میں جاں بحق ہونیوالے پولیس کانسٹیبل وطن زادہ کے بیٹے ابرار خان نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ میرے والد پولیس کانسٹیبل وطن زادہ شارع نورجہاں تھانے میں تعینات تھے۔

یکم اکتوبر 2012 کو پولیس نے کٹی پہاڑی کے قریب گل صاحب کے منشیات کے اڈے پر چھاپہ مارا جہاں ملزمان کی فائرنگ سے میرے والد وطن زادہ شدید زخمی ہوئے اور بعدازاں عباسی شہید اسپتال میں دم توڑ گئے جبکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے ایک ملزم ہلاک ہوا تھا اس واقعے کا مقدمہ نمبر 481/12 سرکاری مدعیت میں شارع نورجہاں تھانے میں درج کیا گیا جس میں ملزمان گل صاحب ، گل محمد ، اسد ، اقبال اور لائف خان سمیت نصف درجن سے زائد ملزمان نامزد ہیں۔

11

انھوں نے بتایا کہ والد کی موت کا غم نہ سہتے ہوئے میری والدہ بھی چند روز قبل انتقال کر گئیں،ابرار خان نے بتایا کہ تمام ملزمان کوہاٹ فرار ہوگئے ہیں اور 4 ماہ گزرنے کے باوجود انویسٹی گیشن پولیس تاحال ملزمان کو گرفتار کرنے میں ناکام رہی، ملزم لائف خان نے 1999 میں اسلام آباد کے تھانہ آب پارہ کی حدود میں دوران ڈکیتی چینی خاتون کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا اس مقدمے میں بھی ملزم عدالت سے مفرور ہے، ابرار خان نے آئی جی سندھ سے اپیل کی ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کیلیے سنجیدہ اقدامات کے علاوہ مجھے تحفظ اور انصاف فراہم کیا جائے۔