زکوٰۃ کا حق دار کون

زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے رب تعالی نے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا ہے، زکوٰۃ صرف دینا نہیں بلکہ اصل حق دار کو دینا ہے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq July 19, 2017
[email protected]

ہم نے خود تو نہیں پڑھا ہے لیکن اکثر لوگ بتاتے ہیں کہ علامہ عنایت اللہ خان مشرقی نے کسی جگہ باقاعدہ حساب کتاب اور اعداد و شمار کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ اگر مسلمان زکوٰۃ کو مکمل اور صحیح طریقے پر دینا شروع کر دیں تو اسلامی معاشرہ میں کوئی غریب نہیں رہے گا اور نہ ہی اتنا امیر ہو سکتا ہے جتنے کہ آج کل ہوتے ہیں کیونکہ مسلسل اور باقاعدہ زکوٰۃ دینے والے کے پاس دولت ایک حد سے زیادہ بڑھ ہی نہیں سکتی اور مسلسل ہر کوئی اگر زکوٰۃ دیتا ہے تو کوئی بھوکا ننگا اور ہر حد درجہ مفلس نہیں ہو سکتا یعنی قدرت کے اصول نشیب و فراز کے مطابق اگر کہیں اونچ نیچ موجود ہے تو وقت کے ساتھ اونچائی بارشوں وغیرہ سے بہہ بہہ کر نشیب کو اونچا کرتی جا تی ہے حتیٰ کہ ایک دن دونوں ایک ہی سطح کے ہو جاتے ہیں اور اگر غور سے موجودہ اسلامی دنیا کو دیکھا جائے تو تمام مصیبتوں ، افلاس ، غربت سود خوریوں اور استحصال کی اصل جڑ اسلام کے اس چوتھے اور ضروری رکن زکوٰۃ کو نظر انداز کرنے یا کسی کی غلط تقسیم کا نتیجہ ہے۔

زکوٰۃ تمام عبادات اور شعائر میں ایک ایسا رکن ہے جو ''دکھایا '' نہیں جا سکتا ہے اور اس کی '' تشہیر'' کی کوشش سے اس کی تقسیم میں غلطی ہو جاتی ہے اور ''حق'' بجائے حقدار کے غلط لوگوں کو مل جاتا ہے۔ اسلام کے پانچ ارکان میں یہی وہ واحد رکن ہے جس کا تعلق حقوق العباد ہے اور رب عظیم نے فرمایا ہے کہ میں کسی کو اپنے حقوق تو بخش سکتا ہوں یعنی وہ حقوق اللہ جو ''عبادت '' کے ذیل میں آتے ہیں لیکن اپنے بندوں کے حقوق یعنی حقوق العباد میں کوئی رورعایت نہیں کرسکتا کیونکہ ان کے مالک وہ ہیں جن کے یہ حقوق ہیں ۔

اب ان پانچ ارکان میں ایک یعنی کلمہ طیبہ تو بہت بڑا موضوع ہے اور ایمان کی بنیاد ہے اس لیے اس پر کبھی تفصیل سے بات کریں گے یہاں صرف اتنا کافی ہے کہ اس رکن سے تو آدمی مسلمان ہو جاتا ہے، اب آگے دو عبادتیں اللہ کے لیے ہیں لیکن وہ چونکہ دکھائی جا سکتی ہیں اور دکھائی جاتی ہیں اس لیے ان پر زیادہ زور دیا جاتا ہے بلکہ ان میں کچھ مالی منعفت بھی ہے اس لیے زور شور سے دکھائی جاتی ہے کہ اس کے لیے ایک پیسہ خرچ کرنا بھی ضروری نہیں ۔پانچواں رکن تو سراسر دکھایا بھی جا سکتا ہے اور نام کا حصہ بھی بنایا جا سکتا اس لیے اس پر بہت زور شور اور تشہیر کر کر کے عمل کیا جاتا ہے۔لیکن بیچ میں زکوٰۃ کا رکن چونکہ دکھایا نہیں جا سکتا اور اس میں حق دار کو اس کا ''حق '' دینا پڑتا ہے اس لیے بعض مالدار حضرات سے بھی بچنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ بعض لوگ اس کی تشہیر کر کے اس کی روح ہی نکال دیتے ہیں ۔

تعجب کی بات تو یہ ہے کہ ''قربانی اور عمرہ ''کو بڑے زور شور سے ادا کیا جاتا ہے کیونکہ اس میں دکھاوا، شہرت اور نام بھی ہوتا ہے ۔لیکن زکوٰۃ جو اگر لاگو ہوجائے تو مسلمانوں کے تمام مسائل ایک دم حل ہوجائیں۔ ''سود '' جس پر کبھی کبھی محض شہرت حاصل کرنے بلکہ خود کو چھپانے کے لیے ''زور شور '' سے نعرہ بازی بھی کی جاتی ہے، اگر دولت مند مسلمان ایمان داری سے زکوٰۃ کا فریضہ ادا کریں تو سود خود بخود ختم ہوجائے۔

سب سے بڑی بے قاعدگی، نا انصافی اور ظلم زکوٰۃ کی تقسیم میں ہوتی ہے۔ ہم حیران ہیں کہ آخر کس بنیاد پر حکومت زکوٰۃ کی حقدار بن چکی ہے جب کہ اس کی سرکاری تقسیم کی حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے لیکن حکومت کے علاوہ بہت بڑے بڑے مخیر ادارے بھی خود کو زکوٰۃ کا اصل حقدار بنائے ہوئے ہیں، زور شور سے اس کی تشہیر کرتے ہیں کہ زکوٰۃ ہمیں دی جائے، زکوٰۃ کا مستحق فلاں ادارہ یا تنظیم یا اسپتال یا یتیم خانہ یا مدرسہ ہے۔

یہ سب کے سب نہ صرف غلط ہیں بلکہ بہت بڑا ظلم کرتے ہیں ٹھیک ہے اگر یہ ادارے عوام کی خدمت کر رہے ہیں تو کرتے رہیں لوگوں سے چندے خیرات بٹورتے ہیں تو بٹورتے رہیں کیونکہ چندے، خیرات، صدقے وغیرہ کا اختیار دینے والے کے پاس ہے اور وہ اپنا مال کسی کو بھی دینے کا اختیار رکھتا ہے،لیکن زکوٰۃ تو بالکل ہی الگ چیز ہے۔ یہ نہ خیرات ہے نہ صدقہ ہے نہ چندہ ہے بلکہ باقاعدہ ایک شرعی حق ہے اور حق صرف حقدار کو دیا جا سکتا ہے اور حق دار کو پہچاننا کوئی مشکل نہیں، ہر صاحب نصاب جانتا ہے کہ اس کے ارگرد ،عزیزوں میں پڑوسیوں میں ، جاننے والوں میں ان کا حلقہ عمل میں کون زکوٰۃ کا مستحق ہے او وہ خود بھی اگر اپنے حقدار پڑوسی یا عزیز کا یہ حق کسی او جگہ جا کر دیتا ہے تو یہ غلط ہے ۔ زکوٰۃ کی تقسیم کے لیے رب تعالی نے باقاعدہ طریقہ کار وضع کیا ہے۔ زکوٰۃ صرف دینا نہیں بلکہ اصل حق دار کو دینا ہے۔