بڑی اتھارٹی کون ہے

یعنی میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ چند ’’کفن چوروں‘‘ نے مل کر قبروں کی تقسیم کے لیے ایک ٹولہ بنایا ہوا ہے


Saad Ulllah Jaan Baraq July 20, 2017
[email protected]

دو چار سال پہلے کی بات ہے عید الفطر سے دو چار روز پہلے ہمارے گاؤں سے ایک بوڑھی ضعیف عورت جو بمشکل چل پا رہی تھی نکلی کسی اور گاؤں کی تھی۔ انتہائی خستہ کمزور بے طرح پھولی ہوئی سانس کے ساتھ وہ برا بھلا بھی کہہ رہی تھی کہ اتنے بڑے گاؤں میں کسی نے مجھے فطرانے کا ایک بھی روپیہ نہیں دیا پھر وہ ہمیں دیکھ کر مڑی اور پاس آکر بولی بیٹا تم تو کچھ دے دو میری ایک بیوہ بہواور تین چھوٹے چھوٹے پوتے ہیں اور خدا کے سوا اور کوئی آسرا نہیں ہے۔

ہم نے جو ہو سکا وہ دے تو دیا لیکن اتنے میں ایک اور شخص جو اس کے پیچھے پیچھے آرہا تھا وہ بھی پہنچ گیا وہ کچھ نیم ضبطی سا اور انتہائی منہ پھٹ تھا، ایسی باتیں کرتا تھا جیسے دیوانگی کی بڑ سمجھ لیا جاتا ہے ، بولا ، ماں جی دعاکرو کہ دوسروں کا حق چھینے والے ویران ہو جائیں تو پھر کچھ امکان ہے کہ غریبوں کو بھی کچھ ملے وہ خود بھی غریب تھا۔اس نے جن مقامات کے نام لیے تھے وہ نام ہم نہیں لے سکتے لیکن اتنا بتا سکتے ہیں کہ اس وقت بھی ایک جگہ چندے اور فطرانے کی اپیل ہو رہی تھی۔

حالانکہ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے تو اسلام جیسے انسان دوست اور غریب پرور دین میں '' فطرانے '' کی رقم اس لیے نہیں رکھی گئی ہے کہ اس سے کوئی خوبصورت عمارت تعمیر کی جائے یا کسی کی تنخواہ ادا کی جائے بلکہ یہ اس لیے ہے کہ غریب مفلس لاچار اور مسکین لوگ بھی عید کے لیے کچھ خرید پائیں چنانچہ ''فطرانے ''کے لیے ہدایت ہے کہ رمضان شروع ہوتے ہی دیا جائے تاکہ عید سے پہلے پہلے اس کے مستحق لوگ کچھ مستفید ہو جائیں، زیادہ تر لوگ عید کے دن ہی فطرانہ دیتے ہیں جو بعض کے خیال میں صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ مسکینوں کے لیے عید کا تحفہ ہوتا ہے جو خدا کی طرف سے مخیر اور صاحب نصاب لوگوں پر رکھا گیا ہے لیکن اصل صورت حال کیا ہے کہ فطرانہ ادا کسے کیا جاتا ہے اور لیتے کون لوگ ہیں اور کس کے لیے لیتے ہیں اور لے کر اس کا کیا کرتے ہیں۔علامہ نے اقوام متحدہ کے بارے میں کہا تھا کہ

من از یں بیش نہ دانم کہ کفن در دے چند

بہر تقسیم قبور انجمنے ساختہ اند

یعنی میں اس سے زیادہ نہیں جانتا کہ چند ''کفن چوروں'' نے مل کر قبروں کی تقسیم کے لیے ایک ٹولہ بنایا ہوا ہے اور ایسے ہی ٹولے مسلمانان عالم کو تباہ کیے جا رہے ہیں۔ عامۃالناس تو دین کی تعلیمات کی گہرائیوں اور مقاصد سے آگاہ نہیں ہوتے اور جو آگاہ ہوتے ہیں وہ کفن دزد ہو جاتے ہیں تو حالت وہی ہوگی جیسی کہ اب ہے۔ آخر جب رب جلیل نے ایک چیز کو کسی کا حق قرار دیا ہے تو دوسرا کون ہوتا ہے ان کا حق لے کر ان کو پہنچانے کا مدعی بننے والا ۔ کیا ایسی کوئی ہدایت کسی بھی شکل میں اسلام کے اندر، قرآن میں یا احادیث میں موجود ہے کہ زکوٰۃ اور فطرانہ براہ راست اصل حقدار کے بجائے بیچ کے کسی خود ساختہ مدعی کو دیا جائے یا اس سے کوئی ادارہ کوئی عمارت یا کوئی اسپتال بنایا جائے یا چلایا جائے؟ان تمام چیزوں پر جن کے لیے چندے میں فطرانے زکوٰتیں اور قربانی کی کھالیں لی جاتی ہیں اور بڑی دیدہ دلیری بلکہ سنگدلی سے اشتہار دیے جاتے ہیں کہ زکوٰۃ یا فطرانے یا قربانی کی کھالوں کا حقدار بلکہ اصلی حقدار فلاں فلاں تنظیم یا ادارہ ہے۔

کیوں کس نے مجبور کیا تھا کہ تم ایسا ادارہ بناؤ اور اگر بنا لیا ہے ٹھیک ہے اچھا کام ہے خدا آپ کا بھلا کرے اس کا اجر دے لیکن اگر اسے غریبوں مسکینوں اور انتہائی محتاج حق داروں کا حق چھیننا تھا تو کس لیے۔اس پر بات نہیں کریں گے کہ ایسے اداروں اور تنظیموں میں غریب اور مسکین مسلمانوں کے خون سے لتھڑا ہوا ''حق '' چھین کر کیا کیا کیا جاتا ہے اور کسی کو ان سے کتنا فائدہ پہنچا ہے خاص کر ان مسکینوں کو جس کے منہ سے وہ نوالہ چھینا گیا ہو جو رب جلیل اور رازق کائنات نے ان کے لیے مخصوص کیا ہوا تھا۔ عجیب بات ہے اور نہایت درد ناک الم ناک اور رلانے والا بھی کہ انتہائی خبردار دین سے واقف اور شکل و صورت سے حضر صورت لوگ نہایت دھڑل سے ایک طرح سے دین کے نام پر بھتہ وصولی کریں۔

گذشتہ رمضان میں کچھ اداروں کے اعداد و شمار آئے تھے کہ فلاں فلاں ادارے نے اتنے اتنے کروڑ فنڈ ریزنگ کی، ان اداروں میں فنڈ ریزنگ والوں نے کبھی پتہ کیا کہ یہ رقوم کس '' مد'' سے دی گئی تھیں بلکہ پتہ کرنے کی ضرورت ہی کیا کہ انھوں نے اپنے پوسٹروں بینروں اور اشتہاروں میں صاف صاف لکھا تھا کہ زکوٰۃ کے حقدار ہم ہیں ۔ کس ناطے کس حوالے اور کس قاعدے سے ؟بے شک ادارے بنائیں فنڈ ریزنگ کریں کروڑوں کے بینک چیک وصول کریں لیکن زکوٰۃ فطرانے اور قربانی کی کھالوں سے تو نہیں جس کے اصل اور خدا کے بتائے ہوئے حق دار بلکتے رہ جائیں اور آپ ان کے منہ کا نوالہ چھین کر اپنی صوابدید اور مرضی سے اڑاتے پھریں یا اپنے پسندیدہ ''حق داروں'' کو دیں ۔یہ بہت بڑا المیہ ہے جو آج ہمارے پاکستانی معاشرے میں دین اور اللہ کے نام پر چل رہا ہے اور آخر جب خدا نے کسی کو اس کا حق دیا ہے تو اسے چھین کر اسے بطور بھیک دینے والے آپ کس اتھارٹی یا فضیلت کی بنیاد پر ایسا کر رہے ہیں کیا آپ کی اتھارٹی اس خالق کل مالک کائنات اور رب عظیم و جلیل سے زیادہ کہ اس کے بنائے ہوئے طریقہ کار میں مداخلت کریں۔