نفرتوں کے سوداگر

ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں صرف نفرتوں کے سوداگر ہی پیدا ہوتے ہیں


Saad Ulllah Jaan Baraq July 25, 2017
[email protected]

اس طرح کے کاموں میں ہمیشہ ایسا ہی ہوتا ہے، کچھ روز پہلے کسی بیوقوف نے پشتونوں کے حوالے سے شاعرانہ انداز میں کچھ نامناسب کہا ہو گا یا بکا ہوگا، اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ نہ ہی اس کے الفاظ سے پشتونوں کا کچھ بگڑا یا سنورا ہے لیکن جو بات ہوئی ہے کہ ''نفرت ''کا وہ پیڑ جسے ہمارے قوم پرست لیڈروں نے پہلے سے ہی اچھا خاصا پالا پوسا ہوا تھا وہ مزید پھلنے پھولنے اور پھیلنے لگاہے۔ایسے لیڈروں کا کیا ہے، ان کے لیے تو یک گونہ بے خودی دن رات چاہیے ہوتی ہے۔نہ قوم پرست ہوتے ہیں نہ جمہوریت پرست ہوتے ہیں، نہ اسلام پرست صرف کرسی پرست ہوتے ہیں اور اس کے لیے کچھ بھی کرنے بولنے اور سننے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

نہ ان کا کوئی مذہب ہوتاہے نہ قوم نہ نسل نہ زبان اور نہ زمین۔چنانچہ وہ پہلے ہی پاکستان میں نفرت کے اس زہریلے پیڑ کو اچھا خاصا بلند اورچھنتارکر چکے ہیں اور اب اوپر سے ایک بیوقوف نے تھوڑی واہ واہ اور ایک چیک کے لیے ایک مرتبہ پھر اس پیڑ کو کھاد پانی ڈال دیا۔ نتیجے میں اب وہ تو آرام سے کہیں بیٹھا ہوگا' چینل والے بھی معاملے کو گول کردیں گے لیکن جو باقی رہ جائے گا، وہ نفرت کا پیڑ ہے جو کچھ اور چوڑا اور گھنا ہو گیا ہے۔

پشتو میں ایک کہاوت ہے کہ کچھ لوگ ''خود شرمے ''ہوتے ہیں ،کچھ خاندان شرمے ہوتے ہیں اور کچھ قوم شرمے ہوتے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ''سب کچھ'' شرمے ہوتے ہیں یعنی ایک اپنے کرتوت سے صرف خو کو رسوا کرتا ہے، دوسرا خاندان کا نام ڈبوتا ہے اور تیسرا قوم کو رسوا کر دیتا ہے۔اس بیوقوف نے بھی ایسا ہی کر دکھایا ہے۔

نفرت کا جو لاوا نام نہاد قوم پرستوں نے پشتونوں کے دلوں میں پیدا کیا ہوا ہے ' اب اس کا رخ موڑ مڑا کر پنجابی کی طرف کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کیونکہ ہم نے جلسے جلوسوں اور نعروں وغیرہ میں یہی پایا ہے بلکہ اکثر کچھ حضرات کے ساتھ بحث و مباحثہ بھی ہوتا رہا ہے کہ ایک فرد کی لاعلمی یا بیوقوفی کی آڑ کے کر کسی قومیت کے خلاف نفرت پھیلاناقومی پرستی ہے نہ اصول پرستی۔ ابھی کل ہی ہم دوسرے صوبوں میں پشتونوں کی پکڑ دھکڑ پر ہی تو یہ کہہ رہے تھے کہ چند لوگوں کی غلط حرکات سے ساری قوم کو مورد الزام نہیں ٹہرایاجاسکتا لیکن جذبات و احساسات کسی بھی دلیل یا منطق کو ماننے سے انکار کر دیتے ہیں چنانچہ نفرت کے سارے دلائل نشیب کی طرف بہتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ کہ لوگوں کو پتہ بھی نہیں کہ وہ مسخرہ پن دکھانے والا کون تھا،اس کی ذات کیا تھی' قوم کیا تھی، کہاں رہتا ہے،کیا کرتا ہے لیکن نفرت کے سوداگر کہانی کو سمیٹ کر اس ایک نقطے پر لانے کے جتن کررہے ہیںکہ وہ پنجابی ہے۔ بھلا یہ بھی کوئی بات یا دلیل ہوئی' یہ تو بیوقوفی کی انتہا ہے۔فتح خان رابیا ایک لوک کہانی ہے۔ اس میں میرو، فتح خان کا ایک دوست ہے ''کرم '' لیکن اپنے جگت بازی کی وجہ سے ''کرمے ڈم '' یعنی کرمے میراثی کہلاتا ہے۔ شاعر نے کرمے کے بارے میں ایک جگہ کہا ہے

دا کرمے ڈم ہر گز د بدو ناوڑی

چہ چرتہ بد وی د فتح سر لہ بہ ئے راوڑی

یعنی یہ جو کرمے میراثی یا مسخرہ ہے، یہ برائی سے ہر گز باز نہیں آتا ، دور جہاں کہیں کوئی '' برائی ''ہوتی ہے، اسے لاکر ''فتح'' کے سرمڑھ دیتا ہے۔

چنانچہ اب اس ''کرمے میراثی'' نے بھی وہ حرکت کی ہے کہ فتح خان کو پتہ بھی نہیں اور اس نے اس کی رسوائی کا پھرپور سامان کرلیاہے۔اس نفرت و محبت کا چکر ہی کچھ ایسا ہے کہ جب اس کا سلسلہ شروع ہوتا ہے تو بڑھتا چلا جاتا ہے، بغیر کسی جواز دلیل یا ثبوت کے۔اب اس کم بخت میراثیے کو پنجابیوں نے تو نہیں کہاتھا کہ تو جا اور ٹی وی پر کچھ اول فول بول کے آ۔ ایک بھی پنجابی نے نہیں کہا ہوگا بلکہ کسی پنجابی سے پوچھیں تو وہ حیرانی سے آپ کی طرف دیکھے گا اور پھر پوچھے گا کہ بھائی ہوا کیا ہے ، مجھے تو کچھ پتہ نہیں ہے، لیکن بندر کا گناہ طوطے کے سر پر پہنچ گیا'ہمارے ہاں کچھ لوگوں کو پراپیگنڈا کا موقع ملا گیا کہ یہ پنجابی ہیں نا؟ یہ پنجابی ہیں ہی ایسے۔

اب کوئی اس کرمے ڈوم سے جاکر پوچھے کہ یہ آگ لگا کر تم نے آخر کس کا اور کتنا بھلا کر دیا۔ کیا پشتونوں کا کچھ بگڑا ؟ کیا پنجابیوں کا کچھ سنورا؟۔ایسا لگتا ہے جیسے پاکستان میں صرف نفرتوں کے سوداگر ہی پیدا ہوتے ہیں ۔محبتوں کا دکاندار اپنی دکان ہی بڑھا گیا' ہو نفرتیں پھیلانے والے لیڈر کیا کم تھے کہ اب اگر شاعر و صورت گرو افسانہ نویس بھی نفرتوں کا کاروبار کریں گے توخدا کے سیدھے اور سادہ دل بندے کہاں جائیں گے؟