ہزاروں این جی اوز کا ریکارڈ دستیاب نہیں چیف جسٹس سندھ

ایس ای سی پی نےجس طرح کمپنیوں کی رجسٹریشن اورمانیٹرنگ کامیکنزم تیارکیا ہے وہ دیگر اداروں کے لیے مثال ہے,جسٹس مشیر عالم


Staff Reporter February 10, 2013
ملک کودہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے ،جسٹس مشیرعالم. فوٹو: فائل

PESHAWAR: چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ جسٹس مشیرعالم نے کہا ہے کہ ملک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔قوم کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے لیکن ہزاروں این جی اوز کا ریکارڈ مرتب نہیں،

سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان( ایس ای سی پی )کوان این جی اوز کا ریکارڈ مرتب کرنے کے لیے حکومت سندھ کی مدد کرنی چاہیے ،ان خیالات کااظہار انھوں نے جمعہ کی شب سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان اور سندھ جوڈیشل اکیڈمی کی جانب سے کارپوریٹ سیکٹر اور کیپٹل مارکیٹ کے قوانین کے نفاذ میں عدالتوں کے کردار اور افادیت کے متعلق مقامی ہوٹل میں منعقدہ سمپوزیم سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ صوبائی رجسٹرار ویلفیئر سندھ کے دفتر کا جائزہ لیا ،وہاں 17ہزار این جی اوز رجسٹرڈ ہیںلیکن ریکارڈ بہت کم کا مرتب ہے ، جبکہ ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے ، ایس ای سی پی نے جس طرح کمپنیوں کی رجسٹریشن اور انکی کارکردگی کی مانیٹرنگ کا میکنزم تیارکیا ہے وہ دیگر اداروں کے لیے مثال ہے ،انھوںنے کہا کہ معیشت کی بہتری اور ملک کی خوشحالی کے لیے گڈگورنس اور شفافیت انتہائی ضروری ہے ،موجودہ صورتحال میں روایتی عدلیہ کارپوریٹ تنازعات کیلیے موثر کردار ادا نہیںکرسکتی بلکہ ہمیں تنازعات کے حل کے لیے ثالثی اور دیگر طریقے اپنا نے ہونگے۔

انھوںنے کہا کہ کارپوریٹ تنازعات نمٹانے کے لیے سندھ ہائیکورٹ میں خصوصی بینچ تشکیل دیے جائیں گے اور کارپوریٹ مہارت کے حامل ججوںکی تقرری کی جائے گی ،جسٹس عقیل احمد عباسی نے تجویز دی کہ کارپوریٹ تنازعات کے حل کے لیے بھارت کی طرز پر خصوصی ٹریبونلز تشکیل دیے جانے چاہیں ،تاکہ عدالتوں میں آنے سے پہلے خصوصی قوانین کے تحت معاملات نمٹائے جاسکیں۔