جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا ترمیمی بل آج اسمبلی میں پیش ہوگا

یونیورسٹی کا ترمیمی بل سندھ اسمبلی میں آرڈیننس کی مدت ختم ہونے کے6 ماہ بعد پیش کیا جارہا ہے،بل پر بحث آج شروع ہوگی.


Staff Reporter February 11, 2013
ایس ایم یو میں 350 طالبعلم زیر تعلیم ہیں، فیکلٹی وملازمین تذبذب کا شکار، جناح اسپتال کا ایک گروپ یونیورسٹی کے قیام کا مخالف. فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی کے آج ہونے والے اجلاس میں سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا ترمیمی بل جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پیش کیاجائیگا۔

یہ بل یونیورسٹی کے قیام سے متعلق جاری آرڈینس کی مدت ختم ہونے کے6 ماہ بعد پیش کیا جائیگا، ذرائع کے مطابق سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے مجوزہ بل میں مزید ترمیم کرکے جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا بل متعارف کرایا جائیگا، تفصیلات کے مطابق صدرمملکت کی ہدایت پرگورنر سندھ نے سندھ میڈیکل کالج کو سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق یکم جون 2012 کو آرڈیننس جاری کیا تھا جس کی مدت 30 اگست کو ختم ہوگئی اس دوران سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے نام میں پھرتبدیلی کی گئی جس کے بعد سندھ میڈیکل یونیورسٹی کا نام جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی رکھا گیا۔

 

5

تاہم 6 ماہ گزرنے کے بعد اس ترمیمی بل کو اسمبلی میں پیش نہ کیاجاسکا جس سے مجوزہ یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بھی ختم ہوگئی ،اس دوران ایس ایم یو کے تحت ایم بی بی ایس کے داخلوں کے سلسلے میں پہلے بیج میں 350 سیٹوں پر داخلے دیے گئے اورگزشتہ ماہ فرسٹ پروفیشنل کے سیمسٹر امتحانات بھی منعقد کیے گئے لیکن یونیورسٹی کے قیام کا بل اسمبلی سے منظور نہ ہوسکا،اس تمام صورتحال کے دوران طالبعلم ، ملازمین اوریونیورسٹی کے ارکان فیکلٹی تذبذب کاشکار ہیں، یونیورسٹی کے طالب علموں نے متعدد بار پرامن مظاہرے کیے اور طالب علموں اور ان کے والدین نے وائس چانسلرپروفیسر طارق رفیع سے بھی ملاقاتیں کیں۔

تاہم آج سندھ اسمبلی کے ہونے والے اجلاس میں سندھ میڈیکل کالج کا ترمیمی بل جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی پیش کیے جانے کا امکان ہے جس کے بعد بل پر بحث کی جائیگی، واضح رہے کہ جناح اسپتال کے ملازمین اوراسپتال کی سینئر فیکلٹی نے وائس چانسلر پروفیسر طارق رفیع پر اطمینان کا اظہارکیا ہے جبکہ اسپتال کے ایک گروپ نے یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت شروع کردی ہے،دریں اثنا گورنر سندھ نے کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کو بھی یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق اعلان کیاتھا او راس حوالے سے گورنر سندھ نے27 اپریل کواعلیٰ سطحی اجلاس بھی طلب کیا تھا۔