آئی جی کراچی کی صورتحال پرسندھ اسمبلی کوکل بریفنگ دینگےاسپیکر

ان کیمرہ بریفنگ کیلیے پولیس سربراہان کو بلایا جائے، پی پی اور متحدہ کی مشترکہ قرارداد منظور


Staff Reporter February 12, 2013
ان کیمرہ بریفنگ کیلیے پولیس سربراہان کو بلایا جائے، پی پی اور متحدہ کی مشترکہ قرارداد منظور فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی نے پیر کے روز ایک قرارداد متفقہ طور پرمنظورکرلی جس میں مطالبہ کیا گیا کہ کراچی کی پیچیدہ صورت حال کے پیش نظرآئی جی سندھ پولیس اور اے آئی جی کراچی سندھ اسمبلی کوان کیمرہ بریفنگ دیں ۔

یہ قرارداد پیپلز پارٹی کے رکن غلام مجدد اسران اورایم کیوایم کے سید خالد احمد نے مشترکہ طور پر پیش کی۔ قائم مقام اسپیکر نے اعلان کیاکہ بدھ کودونوں پولیس افسران سندھ اسمبلی کے ارکان کو ان کیمرہ بریفنگ دیں گے اورجمعرات کوہم فیصلہ کریں گے کہ اس پرکیسے بحث کی جائے۔ قرارداد کے محرک غلام مجدد اسران نے کہا کہ کراچی میں لوگ مارے جارہے ہیں اورہمیں پتہ ہی نہیں کہ حکومت کیا کر رہی ہے ۔ وزیر قانون ایازسومرو نے اس قرارداد کی حمایت کی اور کہا کہ امن وامان کا مسئلہ پیدا کرکے جمہوریت اورسندھ کے خلاف سازشیں کی جارہی ہیں۔



ارکان کو پتہ چلنا چاہیے کہ کیا ہو رہا ہے اور ہم سے اصل بات کیوں چھپائی جا رہی ہے ۔ وزیر ثقافت سسئی پلیجو نے کہا کہ سپریم کورٹ میں پولیس نے یہ رپورٹ دی ہے کہ400 پولیس والے جرائم میں ملوث ہیں ۔ لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آخر یہ کیا ہورہا ہے ۔ اپوزیشن کی رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ 5 برسوں میں کراچی سے 25 ارب روپے کا بھتہ وصول کیاگیا اور 6 سے7 ہزار لوگ مارے گئے۔ آخر وہ کون لوگ ہیں جو دہشت گردی کرتے ہیں اور پکڑے بھی نہیں جاتے؟ ۔ پیپلز پارٹی کے رکن ڈاکٹر سکندر میندھرو نے کہا کہ یہ قرارداد مطالبہ بھی کہ ایوان کواصل حالات سے آگاہ کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے جام تماچی نے کہا کہ ایسی قرارداد دو چار سال پہلے آنی چاہیے تھی لیکن دیرآید درست آید ۔ ڈی جی رینجرز اور انٹیلی جنس اداروں کے افسروں کو بھی اس ان کیمرہ بریفنگ میں بلایا جائے۔

سنیئر وزیر تعلیم پیر مظہر الحق ، وزیر برائے امور نوجوانان فیصل سبزواری اور پیپلز پارٹی کے رکن سید بچل شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اس بریفنگ پرہونے والی بحث کے بھی اصول وضع کردیے جائیں۔ سندھ اسمبلی نے مزیدتین قراردادیں بھی منظور کرلیں۔ صوبائی وزیرترقی نسواں توقیر فاطمہ بھٹو کی پیش قرار دار میں کہا گیا کہ خواتین کو مساوی تعلیم اور مواقع فراہم کرکے ان کی حالت کو بہتر بنانے کے لیے بروقت اقدامات کی ضرورت ہے ۔ پیپلزپارٹی کے اقلیتی رکن سلیم خورشیدکھوکھرکی قرارداد میں حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ مذہبی اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائے۔

ایم کیوایم کے رکن سید خالد احمد اور دیگر کی قرارداد میں حکومت سے سفارش کی گئی کہ دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والے ایم کیو ایم کے ارکان سندھ اسمبلی سید رضا حیدراورسید منظر امام کوان کی خدمات کے اعتراف میں نشان پاکستان دیا جائے۔