لیاری جنرل اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی مریضوں کومشکلات کا سامنا

امراض نسواں،بیہوشی اوردیگر شعبوں میں 50 ڈاکٹروں کی کمی،شعبہ حادثات میں آپریشن تھیٹرنہ ہونےسےزخمیوں کا علاج ممکن نہیں.


Staff Reporter February 13, 2013
کارڈک سینٹر ایمرجنسی سہولتوں سے محروم،اوپی ڈی میں یومیہ 4 ہزار مریض آتے ہیں،ادویات کا بجٹ 12کروڑ سالانہ ہے،ڈاکٹر خادم۔ فوٹو : فائل

صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے لیاری جنرل اسپتال میں ڈاکٹروں کی کمی ہوگئی، 50 ڈاکٹروں کی اسامیاں خالی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت چلنے والے450 بستروں پر مشتمل سندھ گورنمنٹ لیاری جنرل اسپتال مختلف مسائل سے دوچار ہے، لیاری میں امن وامان کی غیر یقینی صورتحال نے اسپتال کی کارکردگی متاثر کررکھی ہے جبکہ محکمہ کے افسران کی عدم دلچسپی کی وجہ سے اسپتال میں بے ہوشی کے ڈاکٹر، امراض نسواں سمیت دیگر شعبوں کے ڈاکٹروں کی شدید کمی ہے۔

اسپتال میں گزشتہ سال قائم کیاجانے والا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سینٹر میں بھی ایمرجنسی کی سہولتیں میسر نہیں کیونکہ اس سینٹر میں امراض قلب کے ڈاکٹروں کی تقرری تاحال نہیں کی جاسکی،اسپتال کے شعبہ حادثات میں ایمرجنسی آپریشن تھیٹرکی سہولتیں نہ ہونے کی وجہ سے شدید زخمی مریضوں کو سول اسپتال بھیجا جاتا ہے، اسپتال میں ڈاکٹروں کی 134اسامیوں پر84 ڈاکٹر تعینات ہیں جبکہ 50 اسامیاں 2 سال سے خالی ہیں۔

1

گزشتہ سال 50 بستروں کا انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی سینٹر قائم کیاگیا، لیکن دل کے اس سینٹر میں ایمرجنسی سروسز شروع نہیں ہوسکیں جبکہ امراض قلب کے ماہرین اور تربیت یافتہ پیرامیڈیکل عملہ بھی تعینات نہ ہوسکا جہاں انجیوگرافی کی بھی سہولت میسر نہیں،اسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر خادم نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کے لیے12کروڑ روپے کا بجٹ فراہم کیاجاتا ہے۔

اسپتال کی اوپی ڈی میں یومیہ 4 ہزار تک پہنچ گئی ہے جبکہ داخل مریضوں کی تعداد4 سو سے زائد ہوگئی لیکن اسپتال میں ڈٖاکٹروںکی شدید قلت کی وجہ سے مریضوںکو حصول علاج کیلیے پریشانی کاسامنا کرنا پڑرہا ہے،انھوں نے بتایا کہ اسپتال میں مریضوں کو تمام ادویات فراہم کی جارہی ہیں،علاقے کے مکین اپنی مدد آپ کے تحت بھی اسپتال انتظامیہ سے تعاون کررہے ہیں۔