قادری اعلامیے کی قانونی حیثیت ہے نہ پارلیمنٹ عملدرآمد کی پابند سندھ ہائیکورٹ

معاہدہ سرکاری دستاویزنہیں اس لیے اس بارے میں آئینی درخواست دائرنہیں کی جاسکتی، 2رکنی بینچ نے درخواست خارج کردی


Staff Reporter February 13, 2013
صدارتی استثنیٰ سے متعلق درخواست بھی خارج،چیئرمین سینیٹ یااسپیکراسمبلی سے رابطہ کریں،عدالت، درخواست گزارکوہدایت۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ نے قراردیا ہے کہ کچھ سیاسی جماعتوں اورڈاکٹرطاہرالقادری کے درمیان معاہدے کی کوئی قانونی حیثیت ہے نہ ہی پارلیمنٹ اس معاہدے پرعمل درآمدکی پابند ہے۔

جسٹس مقبول باقرکی سربراہی میں2رکنی بینچ نے ڈاکٹرطاہرالقادری اورحکمران سیاسی جماعتوں کے درمیان معاہدے کے خلاف حاجی گل احمدکی درخواست خارج کردی،عدالت نے اپنی آبزرویشن میںکہاکہ یہ معاہدہ سرکاری دستاویزنہیں اس لیے اس بارے میں آئینی درخواست دائرنہیںکی جاسکتی،درخواست گزارحاجی گل احمدکی جانب سے دائرآئینی درخواست میںکہاگیاہے کہ مذکورہ معاہدہ آئین کی دفعات 218,215,213 اور5کی خلاف ورزی ہے،وزیر اعظم نے بھی معاہدے پردستخط کرتے ہوئے آئین کی خلاف ورزی کی۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین کے صدرمخدوم امین فہیم ، ق لیگ کے صدرچوہدری شجاعت، متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینرفاروق ستاراورپاکستان عوامی تحریک کے چیئرمین ڈاکٹر طاہر القادری کے درمیان مذاکرات ہوئے جس کے بعدایک معاہدے کااعلان کیاگیا اور مذاکرات کے شرکانے معاہدے پر دستخط کیے،درخواست میں کہا گیاہے کہ یہ معاہدہ انتخابی اصلاحات اورالیکشن کمیشن تحلیل کیلیے کیا گیاجس کی کوئی ٹھوس وجہ بھی بیان نہیںکی گئی،الیکشن کمیشن کی تحلیل یااصلاحات کیلیے قومی اسمبلی میں قائدحزب اختلاف اوربقیہ اپوزیشن جماعتوں سے بھی مذاکرات نہیں کیے گئے۔

6

درخواست میں مزیدکہا گیا کہ یہ معاہدہ دھمکیوں اوردھونس کے بل بوتے پرکیاگیاجو کہ ملک کیخلاف سازش کرنے کے مترادف ہے چونکہ تمام سیاسی جماعتیں آئین پاکستان اورحلف کی پابندہیں اس کے باوجود معاہدہ کرنے والوں کا یہ عمل آئین کی خلاف ورزی ہے۔ درخواست میں استدعاکی گئی تھی کہ معاہدے پردستخط کرنے والی سیاسی جماعتوں کو آئندی انتخابات میں حصہ لینے سے روکاجائے۔

دریں اثنافاضل عدالت نے صدارتی استثنیٰ سے متعلق آئین کے آرٹیکل248کے خلاف دائردرخواست بھی خارج کردی، عدالت نے قراردیاکہ درخواست گزارچاہے تواس حوالے سے چیئرمین سینیٹ یااسپیکرقومی اسمبلی سے رابطہ کرسکتاہے۔حاجی گل کی جانب سے دائر درخواست میں کہاگیاتھاکہ پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے اور اسلامی قوانین کے مطابق ملک کے سربراہ کوبھی قانون کے سامنے جوابدہ ہوناچاہیے،صدرمملکت کوآئین کے آرٹیکل248کے تحت استثنیٰ غیر اسلامی ہے،صدرمملکت کے استثنیٰ کوغیرقانونی اورغیراسلامی قرادیاجائے۔عدالت نے درخواست خارج کردی۔