پاکستان بھارت نفرت ختم کرنے کے لیے

بچائیں۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد ان فسادات سے متعلق مواد کو اور زیادہ بڑھا بڑھا کر تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا


Dr Tauseef Ahmed Khan August 16, 2017
[email protected]

NEW DELHI: پاکستانی اور بھارتی عوام کے درمیان دوستی کے رشتے کو مضبوط کرکے خطے میں امن اور استحکام آسکتا ہے۔ بھارت اور پاکستان نے 14اور15اگست کو انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کا جشن منایا مگر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی خطے کی ترقی اور استحکام کے لیے بہت بڑا چیلنج ہے ۔ متحدہ ہندوستان کی تاریخ ہزار سال سے زیادہ پرانی ہے۔ اس تاریخ میں زیادہ حصہ مسلمان حکمرانوں کی حکومتوں پر مشتمل ہے مگر اس عرصے میں ہندوستان میں آباد مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن و محبت کا رشتہ قائم رہا۔

انگریزوں کے اقتدار سنبھالتے ہی ہندوستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کا دور شروع ہوا ۔ مسلم لیگ کے آزاد وطن کی جدوجہد کے خلاف مزاحمت پر فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوئی، آزادی کا سال 1947ہندوستان میں قتل عام کا سال ثابت ہوا ۔کہا جاتا ہے کہ تقسیم کے وقت ہونے والے فسادات میں 20 لاکھ کے قریب لوگ جاں بحق ہوئے اور دونوں طرف بڑے پیمانے پر لوگ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ فسادات صرف ایک جگہ محدود نہ رہے بلکہ پورا ہندوستان ان کی لپیٹ میں آیا۔

ان فسادات کے عینی شاہدین جن میں سے اب کچھ زندہ ہیں یہ بات زور دے کر کہتے ہیں کہ پنجاب سب سے زیادہ ان فسادات سے متاثر ہوا، یوں پنجاب میں مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے مرنے کی تعداد سب سے زیادہ رہی مگر ان فسادات میں ایسے انسان بھی موجود تھے جنہوں نے اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کربے گناہ لوگوں کی جانیں

بچائیں۔ بدقسمتی سے آزادی کے بعد ان فسادات سے متعلق مواد کو اور زیادہ بڑھا بڑھا کر تعلیمی نصاب میں شامل کیا گیا اور یہ دونوں طرف ہوا، یوں آزادی کی جدوجہد کرنے والے جاں بازوں اور انگریز حکومت کی ہندوستان کے عوام کو لڑانے کی پالیسیوں کو عیاں کرنے کے بجائے پاکستان اور بھارت کے درمیان نفرت کی خلیج کو بڑھانے پر زیادہ زور دیا گیا۔ دونوں طرف پیدا ہونے والی نسلیں معروضی حقائق سے آگاہ ہونے کے بجائے نفرت آمیز ذہن کے ساتھ ارتقاء پذیر ہوئیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والی جنگوں نے صورتحال کو اور زیادہ بگاڑ دیا۔اس صدی کے آغاز کے ساتھ دنیا بھر میں مذہبی شدت پسندی کی جو لہر آئی تو اس ماحول نے مذہبی شدت پسندی کو مزید تقویت دی۔

گزشتہ صدی کے آخری عشرے تک کوئی تصور نہیں کرسکتا تھا کہ بھارت میں ہندو توا کی سوچ رکھنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی مودی کی قیادت میں اقتدار میں آئے گی اور پھر بھارت میں آباد دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے جگہ محدود ہونے لگی۔ محض گائے کاٹنے اور اس کا گوشت رکھنے پر کئی بے گناہ مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی اور بدھ مت ماننے والے بھی اس صورتحال سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے۔

اسی طرح نائن الیون نے پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ القاعدہ اور طالبان کی تنظیموں نے اپنی لڑائی کا مرکز پاکستان کو بنا لیا۔انتہاپسند نوجوان خودکش حملہ آوروں کے دستے میں شامل ہونے لگے۔ اس انتہا پسندی کانشانہ معصوم عوام، فوج، پولیس اور دیگر سیکیورٹی ایجنسیوں کے افراد ہوئے۔ اس انتہاپسندی نے پاکستانی معاشرے کی ساخت کو پوری طرح متاثر کیا اور دنیا بھر میں پاکستان کا امیج متاثر ہوا۔

قاسم اسلم اور ان کے ساتھیوں نے تاریخ کا ایک پروجیکٹ شروع کیا۔ اس پروجیکٹ کے تحت دونوں ممالک میں بہت سے نوجوانوں نے اس پروجیکٹ میں شرکت کی۔ انھیں اس بات پر سخت حیرت ہوئی کہ مذہبی فسادات نے دونوں طرف نفرت کی آگ بھڑکائی۔ فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی نے اس سال آزادی کی سالگرہ کے موقعے پر بھارت اور پاکستان میں ان لوگوں کے انٹرویو کیے جو ان تاریخ کے پروجیکٹ کے تحت ہونے والی کلاسوں میں شریک ہوئے اور اب متوازن تاریخ سے آگاہ ہوئے۔

ممبئی کی طالبہ منیرا نے بتایا کہ اس نے ان کلاسوں میں شرکت کی۔ اس سے قبل صرف ایک حصے سے آگاہ تھی جو مکمل سچ نہ تھا۔ پاکستان میں لسانیات کے استاد پروفیسر ڈاکٹر طارق رحمن کہتے ہیں کہ تاریخ کو درست کرنے کے اثرات براہِ راست دونوں ممالک کی خارجہ پالیسی پر پڑیں گے اور خارجہ پالیسی بنانے والوں کے مائنڈ سیٹ تبدیل ہونگے۔

ڈاکٹر طارق رحمن کا کہنا ہے کہ پاکستان میں نفرت آمیز مواد کو نصاب سے خارج کرنے کا عمل سست روی کا شکار ہے۔ حکام اس بارے میں بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں ۔ بھارت میں بھی بھارتیہ جنتا پارٹی نے نصاب میں جنگ سنگی کا فلسفہ شامل کرنے کو اپنے ایجنڈا کا حصہ بنالیا ہے مگر بھارت میں باشعور ماہرین کی کوششوں سے ایک تبدیلی رونما ہوئی۔ ایک بھارتی مصنف اروشی بٹالیہ کی ایک کتاب "Other side of silence" شایع ہوئی۔ اس کتاب میں مسلمانوں پر ہونے والے ہندوؤں کے مظالم کے عینی شاہدین کے بیانات شایع کیے گئے۔

مصنف نے 1947ء میں ہونے والے فسادات کے بارے میں پولیس کی رپورٹیں جمع کی ہیں۔ یہ رپورٹیں مسلمانوں کے قتل، عورتوں کے اغواء اور ان پر کیے گئے مجرمانہ حملوں کی داستانیں ہیں۔ بٹالیہ کا کہنا ہے کہ دہلی میں ہمایوں کا مزار اور پرانا قلعہ دو اہم مقامات تھے جہاں فسادات سے جان بچا کر آنے والے ہزاروں افراد نے پناہ لی تھیں۔ بٹالیہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ برسر اقتدار حکومتوں نے پولیس کی ان رپورٹوں کو اس لیے شایع نہیں کیا کہ اس سے صورتحال مزید کشیدہ ہوتی۔

پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے درمیان فرانس، جرمنی، پولینڈ اور برطانیہ وغیرہ کے درمیان شدید کشیدگی پائی جاتی تھی۔ فرانس، برطانیہ اور پولینڈ وغیرہ جرمنی کی توسیع پسندی کے خلاف مزاحمت کررہے تھے۔ جرمنی میں ہٹلر نے نازی ازم کی بنیاد پر اپنی آمریت قائم کی تھی اور جرمن قوم کو دنیا کی سب سے اعلیٰ نسل قرار دے کر یہ فلسفہ پیش کیا تھا کہ جرمنی والوں کو دنیا بھرکے لوگوں کو غلام بنانے کا حق حاصل ہے۔ یوں یہ فلسفہ جرمنی کے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں پڑھایا جاتا تھا۔ اس نصاب میں فرانس اور برطانیہ وغیرہ کے خلاف نفرت آمیز مواد شامل تھا۔

اسی طرح فرانس اور برطانیہ میں جرمنی کے خلاف نفرت پھیلانے اور اپنے ہیروزکے کارناموں کو خوب بڑھا چڑھا کر بیان کیا جانے کی روایت تھی۔ یورپ کے باشندے پہلی جنگ عظیم اور پھر 20 سال کے عرصے میں دوسری جنگ عظیم کا شکار ہوئے۔ اس جنگ میں 2 کروڑ کے قریب افراد جاں بحق ہوئے۔ جرمنی تو جنگ کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوگیا مگر باقی یورپ میں بھی بڑی تباہی آئی۔ ان جنگوں کے نتیجے میں مردوں کی تعداد عورتوں کے مقابلے میں کم ہوگئی۔

دوسری جنگ عظیم کے خاتمے پر یورپ کے دانشوروں نے جنگ کے نقصانات کی گہرائی کا اندازہ لگایا اور پورے یورپ میں اس بات پر اتفاق ہوا کہ اب یورپ جنگ کا میدان نہیں بنے گا۔ فرانس، جرمنی اور پولینڈ کی حکومتوں نے فیصلہ کیا کہ نصاب سے نفرت آمیز مواد نکال دیا جائے گا اور یہ ممالک مشترکہ نصاب تیارکریں گے جو ان یورپی ممالک میں پڑھایا جائے گا۔ ان ممالک میں اس فیصلے پر مکمل طور پر عمل ہوا اور ان ممالک میں صدیوں پرانی نفرت ختم ہوگئی۔

اچھی خبر یہ ہے کہ بھارت کے نوجوان گلوکاروں کے گروپ نے 14 اگست پر پاکستان کا ترانہ گایا۔ پاکستان اور بھارت 70 سال سے کشیدہ صورتحال کا شکار ہیں۔ دونوں ممالک دو بڑی جنگوں اور چار چھوٹی جنگوں میں ملوث ہوچکے ہیں۔ دونوں ممالک کی ایجنسیوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرتی ہیں جس کے نتیجے میں غیر یقینی بڑھتی ہے۔

اب تو مذہبی دہشت گردی ایک سنگین صورتحال اختیار کرگئی ہے۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت اس صورتحال کا شکار ہیں، یوں یہ حکومتں اپنے وسائل دفاع پر خرچ کرنے پر مجبور ہیں۔ اب 70ویں سالگرہ پر یہ ضروری ہوگیا ہے کہ خطے میں امن کو مستحکم کرنے کے لیے نوجوانوں کے ذہنوں کو تبدیل کرنے کا عمل تیز کیا جائے تاکہ جنوبی ایشیائی ممالک کے اس خطے سے غربت و افلاس ختم ہوسکے۔