کمرشلائزیشن فیس کی عدم ادائیگی بلدیہ عظمیٰ نے6شادی ہال سیل کر دیے

مالکان کمرشل استعمال کی جگہ کو کمرشلائز کرائیں،مالکان کو کئی نوٹس جاری کیے گئے.


Staff Reporter February 17, 2013
فوٹو: فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ماسٹر پلان نے ایڈمنسٹریٹر محمد حسین سید کی ہدایت پر کمرشلائزیشن فیس کی وصولیابی کی مہم کے دوران شارع پاکستان پر واقع 6 شادی ہالوں کو سربمہر کردیا۔

اس مہم میں محکمہ ماسٹر پلان کے افسران، اسسٹنٹ کمشنر گلبرگ ٹائون سید ارشد وارث، ڈی ایس پی گلبرگ ٹائون طارق مغل اور دیگر افسران شریک تھے، ان شادی ہالوں میں افشاں لان، بلال گارڈن میرج لان، صدف لان، روسا بیل لان، ریحانہ پیلس، ایان کلب لان شامل ہیں، اس مہم کے ذریعے بلدیہ عظمیٰ کراچی کو خطیر آمدنی متوقع ہے ۔

بلدیہ عظمیٰ کراچی کے چیف آفیسر متانت علی خان نے کہا کہ گذشتہ 8 سال سے متعدد بار ان شادی ہالوں کے علاوہ شورومز، اسکولز، ہوٹلز، ریسورینٹس، اسپتالوں کو کئی نوٹس جاری کیے گئے اور کئی اجلاس بھی منعقد کیے گئے ان تمام املاک کے مالکان کے اپنے مفاد میں بہتر ہے کہ وہ انھیں کمرشلائز کرائیں۔



انھوں نے کہا کہ جن ہالوں کو سربمہر کیا گیا اگر وہ حکومت کی جانب سے لگائی گئی سیل توڑتے ہیں تو ان کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی کی جائے گی اس مہم سے قبل اخبارات کے ذریعے شائع کردہ اشتہارات میں ان تمام مقامات کی فہرست شائع کردی گئی تھی، متانت علی خان نے کہا کہ کمرشلائز کرانا مالکان کے اپنے حق میں بہتر ہے اس کے ذریعے وہ رہائشی استعمال کی جگہوں پر تجارتی سرگرمیاں قانونی طور سے کرسکتے ہیں۔

انھوں نے تمام اداروں کے مالکان سے درخواست کی ہے کہ وہ قانونی چارہ جوئی سے بچنے کے لیے اپنے بقایاجات فوری طور پر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے محکمہ ماسٹر پلان میں جمع کرادیں، یہ مہم شہر کے دیگر اضلاع میں جاری رہے گی اور اگلے مرحلے میں ضلع شرقی کے شادی ہالوں سمیت مختلف اداروں سے کمرشلائزیشن فیس کی وصولی کی جائے گی۔