سینیٹ اور طلبہ یونین کی بحالی

برسراقتدار جماعت مسلم لیگ ن کا فرض ہے کہ اس قرارداد کی روشنی میں پارلیمنٹ سے طلبہ یونین کی بحالی کا قانون منظورکرائیں


Dr Tauseef Ahmed Khan August 30, 2017
[email protected]

KARACHI: سینیٹ کے تمام اراکین پر مشتمل کمیٹی نے طلبہ یونین کی بحالی کی قرارداد منظورکرلی ۔اب برسراقتدار جماعت مسلم لیگ ن کا فرض ہے کہ اس قرارداد کی روشنی میں پارلیمنٹ سے طلبہ یونین کی بحالی کا قانون منظورکرائیں اور دیگر جماعتیں متفقہ طور پر اس تحریک کی حمایت کریں۔ جمہوریت ایک سماجی عمل ہے۔ سماجی ماہرین کہتے ہیں کہ جمہوری عمل بنیادی طور پر انسانی رویہ ہے۔

اس رویے کا ارتقاء خاندان کے ادارے سے ہوتا ہے۔ ماضی میں طلبہ یونینوں نے طلبہ میں جمہوری رویے کی ترویج میں بنیادی کردار ادا کیا تھا مگر جنرل ضیاء الحق نے جمہوریت کی اس بنیادی نرسری کو ختم کر کے جمہوریت کی جڑوں کو کمزورکیا۔ نوجوان طلبہ یونین کے ذریعے برداشت، رواداری، کامیابی اور ناکامی کے تجربے سے گزرتے ہیں اور جب یہ طلبہ عمومی سیاست کا انتخاب کرتے تو ان میں جمہوری رویہ بہت زیادہ گہرا ہوتا تھا۔ طلبہ یونین کا ادارہ برطانوی ہند حکومت میں وجود میں آیا۔

ہندوستان میں قائم ہونے والی یونیورسٹیوں میں طلبہ یونین قائم ہوئی۔ پہلے یونیورسٹی کے وائس چانسلر طلبہ یونین کے صدر ہوتے تھے اور مخصوص کیٹیگریز کے طلبہ کو ووٹ ڈالنے کی اجازت تھی۔ کراچی یونیورسٹی 1954میں فعال ہوئی مگر 60 کی دہائی کے آغاز پر ہرطالب علم کو ووٹ کا حق ملا۔ کراچی یونیورسٹی میں نیشنل اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما حسین نقی جو بعد میں ایک نڈرصحافی کی حیثیت سے مشہور ہوئے اور اسلامی جمعیت طلبہ کے نمایندے مکرم علی خان شیروانی کے درمیان صدارت کے لیے مقابلہ تاریخ کا حصہ بن گیا۔

مکرم علی خان شیروانی سیاسیات کے استاد اور کراچی کے نیشنل کالج کے پروفیسر اور پرنسپل کی حیثیت سے مقبول ہوئے۔ ان انتخابات میں حسین نقی کامیاب ہوئے تھے مگر اس وقت کے وائس چانسلر ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے یہ انتخابات کالعدم قرار دیدیے مگر دوسرے انتخابات میں بھی حسین نقی ہی کامیاب ہوئے۔ ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی نے بلوچ طلبہ سے یکجہتی کے اظہار پر حسین نقی کو یونیورسٹی سے نکال دیا تھا مگر حسین نقی اور پروفیسر مکرم علی خان شیروانی نے رواداری اور برداشت کے کلچر کو فروغ دیا تھا۔ پروفیسر شیروانی مرحوم ہمیشہ اس انتخابی معرکے کا دلچسپی سے ذکر کرتے تھے اور حسین نقی کا احترام سے ذکر کرتے تھے۔

طلبہ یونین کے عہدیداروں نے طلبہ کے حقوق اور جمہوری تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ 50 کی دہائی میں بائیں بازوکی طلبہ کی جمعیت ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن (D.S.F) نے کراچی کے کالجوں کی منتخب طلبہ یونینوں کو انٹرکالجیٹ باڈی (I.C.B) میں متحد کیا۔ آئی سی بی نے 8 جنوری 1953کو قرارداد منظور کی۔ اس قرارداد میں فیسوں میں کمی،کراچی یونیورسٹی کو فعال کرنے، نئے تعلیمی اداروں کا قیام اور بسوں میں طلبہ کو رعایتی ٹکٹ جاری کرنے کے مطالبات شامل تھے۔

ملک کے دوسرے وزیراعظم خواجہ ناظم الدین کے وزیرداخلہ مشتاق گورمانی نے پولیس کی فائرنگ کے ذریعے اس تحریک کو کچلا مگر ناظم الدین حکومت کو طلبہ کے مطالبات تسلیم کرنے پڑے۔ اس تحریک کے نتیجے میں کراچی یونیورسٹی فعال ہوئی، نئی اسکول اورکالج قائم ہوئے، فیسیں کم ہوئیں اور طلبہ کو بسوں کے کرائے میں رعایت ملنے لگی۔ یہ رعایت 90ء کی دہائی تک جاری رہی۔

کراچی کے کالجوں کی طلبہ یونین کے عہدیداروں نے تین سالہ ڈگری کورس کے خاتمے اور ایوب خان کی آمریت کے خلاف تحریکیں چلائیں۔ 1968میں طلبہ تحریک کے نتیجے میں ایوب خان کو اقتدار سے علیحدہ ہونا پڑا۔ 1970کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے جن رہنماؤں کو ٹکٹ دیے ان میں وہ نوجوان بھی شامل تھے جو طلبہ یونین کے عہدیدار منتخب ہوئے یا انھوں نے انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا تھا۔ پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت میں طلبہ کو اپنی یونین کے صدرکے انتخاب کا بھی حق حاصل ہوا۔

کالجوں اور یونیورسٹیوں کی طلبہ یونین کے عہدیداروں کو یونیورسٹی کے بنیادی ادارے سنڈیکیٹ میں نمائندگی دی گئی، یوں پہلی دفعہ طلبہ کے نمایندوں کو یونیورسٹیوں کے بنیادی اداروں میں نمایندگی کا حق ملا اور یونیورسٹی کے انتظامی اداروں کو براہِ راست طلبہ کے مسائل سے آگاہی کا موقع ملا۔ یوں مستقبل کے اساتذہ اور انتظامی ماہرین کی عملی تربیت بھی ایک طرح سے شروع ہوگئی۔

جنرل ضیاء الحق نے اقتدار پر قبضہ کرتے ہی جمہوری ادارے ختم کیے۔ جنرل ضیاء الحق نے انتخابات نہ کرانے اور موت تک اقتدار میں رہنے کا فیصلہ کیا تو طلبہ یونین کے ادارے پر پابندی لگادی۔ 80کی دہائی میں کراچی اور لاہور کی یونیورسٹیوں پر اسلامی جمعیت طلبہ کی اجارہ داری تھی۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے طلبہ یونین پر پابندی کے خلاف احتجاجی تحریک منظم کی ،پھر جنرل ضیاء الحق نے دائیں بازوکی طلبہ تنظیموں کو کام کرنے کی اجازت دیدی، یوں طلبہ سیاست پر دائیں بازو کا غلبہ ہوگیا۔

اس عرصے میں طلبہ تنظیموں کے درمیان خون ریز تصادم ہوئے۔ تعلیمی اداروں اور پورے ملک میں طلبہ سیاست بدنام ہوئی۔ اس دور میں ایک مخصوص نظریہ کے حامل افراد یونیورسٹیوں میں اساتذہ کے عہدے پر فائز ہوئے جنہوں نے رجعت پسند نظریات کے ذریعے یونیورسٹیوں کی اہمیت کم کی۔

وزیر اعظم جونیجوکے دور میں سپریم کورٹ کے اس وقت کے ججوں نے طلبہ یونین پر پابندی کو جائز قرار دیدیا۔ وفاقی حکومت نے ملک بھرکی یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں سے طلبہ یونین کی بحالی کے لیے رائے طلب کی مگر وائس چانسلروں کی اکثریت نے اس تجویزکی مخالفت کی۔

ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے طلبہ یونین کی بحالی کا عندیہ دیا مگر خفیہ ایجنسیوں نے اس تجویزکے خلاف رائے دی۔ سابق وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد قومی اسمبلی میں اپنی پہلی تقریر میں طلبہ یونین کی بحالی کا اعلان کیا مگر خفیہ ایجنسیوں نے پھر معاملے کو ویٹو کردیا۔ طلبہ یونین کے ادارے کو ختم ہوئے 22 سال کے قریب کا عرصہ ہوچکا۔ اب طلبہ اپنی یونین کی افادیت سے واقف نہیں ہیں۔

یوں انھوں نے اس معاملے میں کوئی خاطرخواہ جدوجہد نہیں کی۔ سینیٹر میر حاصل بزنجو اور رضا ربانی کی کوششوں سے گزشتہ سال سینیٹ نے طلبہ یونین کی بحالی کی قرارداد منظورکی مگر یونیورسٹیوں میں طلبہ اور اساتذہ نے اس اہم مسئلے پر بحث نہیں کی۔ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلروں نے بھی طلبہ یونین کی اہمیت کو محسوس نہیں کیا۔

ابلاغ عامہ کے ماہر اردو یونیورسٹی کے استاد ڈاکٹر عرفان عزیزکا کہنا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ یونیورسٹیوں میں کلاس رومز سے لے کر اعلیٰ ترین اداروں تک میں اس مسئلے پر بحث و مباحثہ ہو، طلبہ کو طلبہ یونین کی اہمیت سے اگاہ کیا جائے اور طلبہ ،اساتذہ اور وائس چانسلر مل کر قانون کا مسودہ تیار کریں۔ یہ مسودہ سرکاری اور غیر سرکاری یونیورسٹیوں میں بحث کے لیے پیش کیا جائے اور ایک متفقہ مناسب بل جلد ازجلد نافذ کیا جائے۔