پولیس مقابلے کے دوران خواجہ اظہار پر حملے کا مرکزی ملزم فرار، اہلکار جاں بحق

ویب ڈیسک  پير 4 ستمبر 2017

 کراچی: کنیز فاطمہ سوسائٹی میں پولیس مقابلے میں ایم کیو ایم رہنما خواجہ اظہارالحسن پر حملے کا مرکزی ملزم زخمی حالت میں فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا جب کہ ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

کراچی پولیس اور انٹیلیجنس ایجنسی نے سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن پر حملے کے مرکزی ملزم کی موجودگی کی اطلاع پر کنیز فاطمہ سوسائٹی میں گھر پر چھاپہ مارا تو دہشت گرد نے پولیس کو دیکھتے ہی فائرنگ کردی۔ جھڑپ کے دوران ایک پولیس اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا، جب کہ ملزم فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔  مقابلے میں جاں بحق ہونے والے پولیس اہلکار کی شناخت اعجاز اور زخمی کی خالد کے نام سے کر لی گئی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : خواجہ اظہارالحسن پر قاتلانہ حملہ

پولیس نے فرار ہونے والے دہشتگرد عبدالکریم کی تصاویر اور آئی ڈی کارڈ بھی جاری کردیا ہے۔ ایس ایس پی ملیر راؤانوار نے بتایا کہ کالعدم جماعت کے دہشت گردوں کی اطلاع پر کنیز فاطمہ میں چھاپا مارا گیا، فرار دہشت گرد کی شناخت عبدالکریم سروش صدیقی کے نام سے ہوئی جو انصارالشریعہ کا مرکزی کمانڈر اور خواجہ اظہار پر حملے میں ملوث ہے۔ ملزم عبدالکریم سروش صدیقی جامعہ کراچی میں اپلائیڈ فزکس میں بی ایس سیکنڈ ایئر کا طالبعلم ہے اور اس کی عمر 29 سال ہے۔ پولیس نے ملزم کے والد کو حراست میں لے لیا ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں: وزیراعظم نے خواجہ اظہار پر حملے کا نوٹس لے لیا

ایس ایس پی ملیر راؤ انوار کے مطابق خواجہ اظہار حملے میں ملوث کچھ لوگوں کی نشاندہی ہوگئی ہے اور جلد خوش خبری ملے گی، پولیس کی مخلتف ٹیمیں بعض مقامات پر کارروائی کررہی ہیں جس میں اہم انکشافات سامنے آئیں گے۔ پولیس نے خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر ڈیفنس، سچل، سہراب گوٹھ، ملیر سٹی میں بھی چھاپے مارے اور متعدد افراد کو حراست میں لے کر خواجہ اظہار حملے کے حوالے سے پوچھ گچھ کی ہے۔ یاد رہے کہ انصار الشریعہ نے خواجہ اظہار پر حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔