جب پاک بحریہ کی ایک آبدوز نے بھارتی بحریہ کو بے بس کردیا

ویب ڈیسک  بدھ 6 ستمبر 2017

تازہ ترین خبروں اور تجزیوں کیلئے سبسکرائب کریں

ویسے تو 1965 کی جنگ میں بھارتی افواج اپنی تعداد اور ہتھیاروں کے حساب سے پاکستان کے مقابلے میں 8 تا 10 گنا بڑی تھیں لیکن بحریہ کے معاملے میں یہ تناسب اور بھی زیادہ تھا۔

سینئر صحافی امجد چودھری کے مطابق پاک بحریہ نے بھارتی بحری فوج کے مقابلے میں کم تر ہونے کے باوجود 1965 کی جنگ میں بہادری اور پیشہ ورانہ مہارت کی نئی تاریخ رقم کی۔ اگرچہ پاک بحریہ کے پاس اب تک طیارہ بردار جہاز نہیں لیکن بھارتی بحریہ 1965 میں بھی طیارہ بردار جہاز سے لیس تھی جس کا نام ’’وکرانت‘‘ تھا۔

بھارت کے بڑے بحری بیڑے کے مقابلے میں پاک بحریہ کے پاس صرف چند جہاز تھے اور صرف ایک آبدوز ’’غازی‘‘ تھی؛ جس نے اپنے نام کی طرح اس جنگ میں وہ کارنامہ انجام دیا جس پر ساری دنیا حیران رہ گئی۔

واقعہ یہ ہے کہ زمینی اور فضائی حملوں میں پہل کے برعکس بھارتی بحریہ نے ابھی حملہ نہیں کیا تھا۔ مگر بھارتی عزائم سامنے آچکے تھے چنانچہ پاک بحریہ نے دشمن کو یہ موقع نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ تعداد اور بحری بیڑے کے لحاظ سے دشمن کی سبقت واضح تھی، لیکن پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل واحد آبدوز غازی کو بھارتی بحریہ کے ہیڈ کوارٹر بمبئی کے قریب نگرانی کے لئے تعینات کردیا گیا۔

اس تعیناتی کا مقصد بھارتی بیڑے کی نقل وحرکت پر نظر رکھنا تھا لیکن اس اکیلی آبدوز نے دشمن کوعملی طور پر بمبئی میں ہی محصور کردیا؛ اور اسے اپنے مستقر سے باہر نکلنے کا موقع ہی نہ دیا۔ آبدوز غازی نے دشمن کے دلوں پر ایسی دھاک بٹھائی کہ بھارتی بحریہ سمجھ ہی نہیں پا رہی تھی کہ یہ کونسی طاقت ہے جو اس کا راستہ روک کر کھڑی ہوگئی ہے۔

مثلاً بھارتی بحریہ کے ایک جہاز نے جب باہر نکلنے کی کوشش کی تو غازی سے اس پر تارپیڈو داغے گئے جس سے بھارتی جہاز میں آگ لگ گئی۔ اس حملے نے بھارتی بحریہ کے رہے سہے حوصلے بھی توڑ دیئے اور وہ دو ہفتوں کی جنگ کے دوران کھلے سمندر میں نکل کر مقابلہ کرنے یا پاک بحریہ پر حملہ آور ہونے کی جرأت ہی نہ کرسکی۔

غازی آبدوز نے تن تنہا بھارتی بیڑے کا محاصرہ کئے رکھا اور اسے باہر نکلنے نہ دیا۔ دوسری جانب پا ک بحریہ کے جہازوں نے کموڈور ایس ایم انور کی قیادت میں ’’معرکہ دوارکا‘‘ کرکے دشمن کے چھکے چھڑادیئے۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔