انسداد دہشت گردی کی 5 عدالتوں کے قیام کیلیے بیرکیں مل گئیں

عدالت عالیہ انسداد دہشت گردی کی 5 خصوصی عدالتیں یہاں منتقل کرے گی،جسٹس سجاد اور دیگر نے بیرکوں کا معائنہ کیا.


Staff Reporter February 20, 2013
چیف جسٹس نے دہشت گردی کی عدالتوں کوفعال کرنے اور سلطان آباد کی عدالتوں کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کا حکم دیا تھا۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ سے متصل محکمہ فنانس کی تین بیرکس خالی کردی گئی ہیں اور سندھ ہائیکورٹ کو مطلع کردیا گیا ہے کہ وہ یہاں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتیں منتقل کرسکتی ہے۔

تاہم جگہ کا قبضہ باقاعدہ سندھ ہائیکورٹ کے حوالے کرنے کی دستاویز تاحال فراہم نہیں کی گئی ہے، منگل کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کے مانیٹرنگ جج جسٹس سجاد علی شاہ ، جسٹس شفیع صدیقی ، رجسٹرار سندھ ہائیکورٹ عبدالمالک گدی، پراسیکیوٹر جنرل شہادت اعوان کے علاوہ پی ڈبلیو ڈی کے افسران نے اس جگہ کا معائنہ کیا اور بیرکس کو عدالتی معیار کے مطابق تبدیل کرنے کاجائزہ لیا،واضح رہے کہ 16فروری کو چیف جسٹس آف پاکستان کی سربراہی میں ملک بھر میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی کارکردگی کا جائزہ لیاگیاتھا، اس اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ دہشت گردی کے سب سے زیادہ مقدمات 1405صوبہ سندھ میں زیر التوا ہیں،سندھ میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا لیکن تاحال اس پرعملدرآمد نہیں ہوسکا۔

3

چیف جسٹس نے سندھ حکومت کو ہدایت کی تھی کہ پہلے مرحلے میں کراچی کی انسداد دہشت گردی کی ان 2 عدالتوں میں جج مقرر کیے جائیں جن کے قیام کا فیصلہ ہوچکا ہے لیکن عدالتیں ججز نہ ہونے کے باعث فعال نہ ہوسکیں، کراچی میں انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالتوںکی منظور شدہ تعداد 5 ہے لیکن طویل عرصے سے یہاں صرف3 عدالتیں کام کررہی ہیں ، چیف جسٹس پاکستان نے حکم دیاکہ کراچی میں انسداد دہشت گردی کی پانچوں عدالتوں کو 2 ہفتے میں فعال کردیا جائے اور سلطان آباد میں واقع یہ خصوصی عدالتیں غیر محفوظ مقام پر ہیں اس لیے انھیں محفوظ مقام پر منتقل کیاجائے۔