حقوقِ نسواں

اسلامی تاریخ عورت کی ہمت، دانائی، حوصلہ مندی اور دوراندیشی کے شان دار اور قابلِ فخر کردار سے معطر ہے


September 15, 2017
اسلام نے عورتوں کے صرف حقوق ہی نہیں مقرر کیے بل کہ ان کو مردوں کے برابر درجہ دے کر مکمل انسان قرار دیا ہے۔ فوٹو : فائل

ISLAMABAD: دنیا کی تمام اقوام اپنی تاریخ پر ناز کرتی ہیں لیکن اگر ان کی تاریخ سے پوچھا جائے کہ ان کی ان کوششوں میں صنفِ نازک کا کتنا حصہ ہے تو اس کے جواب میں صرف خاموشی ہے۔ اسی طرح اگر قومی تاریخ سے ہٹ کر دیگر مذاہب کی تاریخ دیکھی جائے تو اس کے اوراق بھی صنفِ نازک کے ناموں سے خالی ہی نظر آتے ہیں۔ لیکن اسلام واحد دین ہے جس نے ان پردہ نشینوں کو اپنی آغوش میں پناہ دی اور انہوں نے بڑے عظیم الشان کام سر انجام دیے۔

اسلام نے عورتوں کے صرف حقوق ہی نہیں مقرر کیے بل کہ ان کو مردوں کے برابر درجہ دے کر مکمل انسان قرار دیا ہے۔

'' مرد اپنے اہل کا راعی بنایا گیا ہے اور اس سے اس کے متعلق سوال کیا جائے گا اور عورت شوہر کے گھر کی راعیہ ہے اس سے اس کے متعلق باز پُرس ہوگی۔''

(صحیح بخاری)

اس بنا پر اسلام میں عورت کی جو قدر و منزلت قائم ہوئی ہے وہ نتائج کے لحاظ سے بھی دیگر تمام اقوام و مذاہب سے مختلف ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ عرصہ دراز سے عورت مظلوم چلی آرہی تھی۔ یونان، مصر، عراق، ہند، چین غرض کہ ہر قوم میں ہر خطے میں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں عورتوں پر ظلم کے پہاڑ نہ ٹوٹے ہوں اس میں کوئی شک بھی نہیں کہ بعض مرتبہ عورت کے ہاتھ میں زمام اقتدار بھی رہا ہے اور اس کے اشارے پر حکومت و سلطنت گردش کرتی رہی ہے۔ ویسے تو خاندان اور طبقے پر اس کا غلبہ تھا ہی لیکن بعض مسائل میں مرد پر بھی ایک عورت کو بالادستی حاصل رہی ہے۔ اب بھی ایسے قبائل موجود ہیں جہاں عورتوں کو بالادستی حاصل ہے۔ لیکن ایک عورت کی حیثیت سے ان کے حالات میں زیادہ فرق نہیں آیا۔ ان کے حقوق پر دست درازی جاری رہی اور وہ مظلوم ہی رہی۔

اسلام ایک ایسا دین ہے جس نے عورت پر احسانِ عظیم کیا اور اس کو ذلت و پستی کے گڑھوں سے نکالا، جب وہ اس کی انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اس کے وجود کو گوارا کرنے سے بھی انکار کیا جا رہا تھا تو نبی کریم ﷺ رحمۃ للعالمین بن کر تشریف لائے اور آپؐ نے پوری انسانیت کو اس آگ کی لپیٹ سے بچایا اور عورت کو بھی اس گڑھے سے نکالا۔ اس زندہ دفن ہونے والی عورت کو بے پناہ حقوق عطا فرمائے اور قومی و ملی زندگی میں عورت کی کیا اہمیت ہے اس کو سامنے رکھ کر اس کی فطرت کے مطابق اسے ذمے داریاں سونپیں۔

موجودہ دور نے اپنی بحث و تمحیص اور احتجاج کے بعد عورت کے کچھ بنیادی حقوق تسلیم کیے اور یہ اس دور کا احسان مانا جاتا ہے۔ حالاں کہ یہ احسان اسلام کا ہے سب سے پہلے اسی نے عورت کو وہ حقوق دیے جس سے وہ مدتِ دراز سے محروم چلی آرہی تھی۔ یہ حقوق اسلام نے اس لیے نہیں دیے کہ عورت اس کا مطالبہ کر رہی تھی بل کہ اس لیے دیے کہ یہ عورت کے فطری حقوق تھے اور اسے ملنا ہی چاہیے تھے۔ اسلام نے عورت کا جو مقام و مرتبہ متعین کیا وہ جدید و قدیم کی فضول روایتوں سے پاک ہے نہ تو عورت کو گناہ کا پتلا بنا کر مظلوم بنانے کی اجازت دی اور نہ ہی اسے یورپ کی عورت کی سی آزادی دی۔ عورت تاریخ کے ہر دور میں مرد کے تابع رہی ہے موجودہ زمانے میں ترقی یافتہ ملکوں میں عورت اور مرد کو مساوی بنانے کی کوشش کی گئیں۔ جب کہ اسلام نے ہی بتایا کہ شریعت اور قانون کی نظر میں مرد اور عورت برابر ہیں اور ان کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں۔ اسلام نے نکاح اور طلاق کے قوانین مقرر کیے اور جہاں جہاں عورت کے ساتھ زیادتی تھی اس کی تلافی کی۔ عورت کو خاوند سے علیحدگی کا حق دیا۔ جائیداد میں حصہ مقرر کیا اور عورت سے اچھے سلوک کا حکم دیا۔ بچیوں کی تعلیم و تربیت کا حکم دیا۔ اس طرح عورت کو معاشرے میں اس کا مقام ملا اور عورت کو ملی اسی آزادی کا نتیجہ تھا کہ ہمیں تاریخ میں عورتیں حکومت، علم و ادب اور تصوف اور تقریباً ہر میدان میں بیش بہا کارنامے انجام دیتی نظر آتی ہیں۔

اسلام کی تاریخ کا آغاز ہی عورت کے تعمیری اور تاریخی کردار سے ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ تو عورت کی ہمت، دانائی، حوصلہ مندی اور دور اندیشی کے شان دار اور قابلِ فخر کردار سے معطر ہے۔ ہمارا نقطۂ آغاز ہی حضرت سیدہ خدیجۃ ُ الکبریٰ ؓ سے ہوتا ہے۔ جب ضعیف و ناتواں سمجھی جانے والی صنفِ نازک ہمت و عظمت کا ایک بلند پہاڑ اور حوصلہ افزائی کا ایک سرچشمہ بن کر نبوتؐ کے حضور کھڑی ہوجاتی ہیں۔ غارِ حرا سے نکل کر ایک نسخۂ کیمیا لے کر اپنی قوم کے پاس جب حضرت محمد مصطفی ﷺ گھر تشریف لے کر آئے تو گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں تھے۔ مگر اپنے شوہر کی پاک بازی، بلند اخلاق اور انسان دوست کردار کی گواہ بن کر نبوت پر سب سے پہلے ایمان لے آئیں اور فرمایا، مفہوم : '' اے مجسمۂ صدق و امانت ! اﷲ پاک آپؐ جیسے بلند کردار کو کبھی پریشانی اور گھبراہٹ میں تنہا نہیں چھوڑ سکتا۔''

اس واقعے پر آپؐ کی پریشانی اور گھبراہٹ فطرتی بات تھی، اس مقام پر اﷲ پاک نے چاہا کہ حوا کی بیٹی کی جس عظمت کو انسان بھول گئے ہیں اس کی عظمتِ رفتہ کو اجاگر کرنے اور عورت کے مرتبے کو ہمیشہ منوانے کی غرض سے خدیجۃُ الکبریٰ ؓ کے کردار کی ضرورت ہے۔ ایسا کردار جس کے سامنے انسانیت ہمیشہ جھکتی رہے۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے حج اور عمرہ مکمل کرنے کے لیے صفا و مروہ کے درمیان سعی کو سیدہ ہاجرہؓ کی سنت کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سیدہ خدیجۃُ الکبریٰ ؓ کے عظیم الشان کردار سے عورت کی عظمت کو ہمیشہ کے لیے تسلیم کرالیا گیا۔

دعوت اسلام میں سب سے زیادہ اذیت بھی خواتین نے ہی اُٹھائی۔ دعوت الی اﷲ کی خاطر سب سے پہلی شہادت بھی عورت کے حصہ میں آئی۔ جب حضرت سمیّہؓ نے شہادت قبول کر کے ظلم کو ٹھکرا دیا تھا۔ سب سے پہلے ہجرت کرنے والوں میں بھی خواتین پیش پیش تھیں۔ ہجرت کے بعد قیام حبشہ کے دوران مسلم خواتین کا کردار بھی تاریخ ساز ہے۔ نبی پاک ﷺ کے عہد مبارک میں مسلم خواتین نے زندگی کے ہر شعبے میں بھرپور کردار ادا کیا اور آزادی سے اپنا کردار ادا کیا۔ علم سیکھنے سکھانے کا میدان ہو یا معاشرتی خدمات کا میدان، اﷲ کی راہ میں جہاد کا موقع ہو یا سیاست و حکومت کے معاملات سب میں خواتین کا واضح، روشن اور اہم کردار نظر آتا ہے۔

نبی پاک ﷺ کی مجلس میں صحابہ کرام ؓ اور صحابیات ؓ سب شریک ہوتے تھے اور دین کی باتیں پوچھتے اور سمجھتے تھے۔ صحابیاتؓ نے شکایت کی کہ خواتین سے متعلق کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو ہم اپنے باپ، دادا اور بھائیوں کی موجودی میں نہیں کرسکتیں۔ چناں چہ نبی پاک ﷺ نے خواتین کے لیے ایک دن الگ سے مخصوص کردیا۔ جس میں مرد شریک نہیں ہوتے تھے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ نبی پاک ﷺ کے نزدیک خواتین کو تعلیم و تربیت مردوں سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل تھی۔

میدان ِ جنگ میں مسلم خواتین مجاہدین کو پانی پلاتی تھیں۔ زخمیوں کی مرہم پٹی کرتی تھیں۔ حتیٰ کہ غزوہ احد میں حضرت سیدہ عائشہؓ نے بھی اس کارِ خیر میں حصہ لیا۔ غزوہ ٔ خندق کے موقع پر بھی مسلم خواتین نے ایسے ہی کارہائے خیر میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا۔ ابتدائی عہدِ اسلام میں مسلم خواتین نے مشاورت میں بھی اپنا تعمیر ی کردار ادا کیا۔

وصالِ نبویؐ کے بعد بھی خواتین اسلام نے قرآنِ پاک کی تعلیم کے ساتھ بچوں اور بچیوں کو دین کے اہم مسائل کی تعلیم بھی دینی شروع کر دی۔ اس طرح علم کی تدریس، تعلیم کے فروغ اور حدیث کی روایت میں ابتدائی دور کی مسلم خواتین نے سرگرم کردار ادا کر کے قیامت تک کے لیے ایک اعلیٰ نمونہ اور قابلِ تقلید مثالیں قائم کیں جو آج کی مسلمان عورت کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

موجودہ دور زوال میں درپیش چیلینجیز کے پیش نظر خواتین کے کردار کی اہمیت اور انہیں ان کی ذمے داریوں کا احساس دلانے کے لیے خواتین میں اسلامی تنظیم کا قیام ضروری ہے۔ تاکہ خواتین میں یہ شعور اجاگر ہو کہ اسلامی اقدار کا تحفظ ہی ان کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

عظمیٰ علی