آزادئ صحافت اور عوام کی طاقت

امن وامان کے بارے میں جو پریس نوٹ جاری کریں گے وہ بغیر کسی ادارت کے شایع ہوگا


Dr Tauseef Ahmed Khan September 20, 2017
[email protected]

اخبارات کی آزادی کو پابند کرنے کے لیے ایک مسودہ کی بازگشت گزشتہ دنوں سنی گئی۔سینئرصحافی خورشید تنویر اس مسودہ قانون کا مطالعہ کر کے دنگ رہ گئے، پریس کلب میں صحافیوں اور آزادئ صحافت کی اہمیت کو محسوس کرنے والے صاحبان نے بھی یہ مسودہ پڑھا۔ اس مسودہ قانون کو پڑھ کر اخبارات کی 200 سال کی تاریخ نظروں کے سامنے سے گزر گئی

۔ برصغیر میں 1780ء میں کلکتہ سے پہلا اخبار ہکی گزٹ جاری ہوا۔ پھر متعدد انگریزی زبان کے اخبارات کلکتہ، بمبئی اور مدراس سے شایع ہونے لگے۔ کچھ عرصے بعد فارسی، اردو، ہندی اور دیگر مقامی زبانوں میں ہندوستان بھر سے اخبارات شایع ہونا شروع ہوگئے۔ 19ویں صدی کے ابتدائی عشروں میں مقامی زبانوں میں اخبارات کی اشاعت بڑھ گئی۔ یہ وہ وقت تھا جب ٹیپو سلطان انگریز استعماریت کے خلاف مزاحمتی جنگ لڑ رہے تھے۔ ہندوستان کے دیگر علاقوں میں کچھ راجے مہاراجے بھی ایسٹ انڈیا کمپنی کی توسیعی پالیسی کے خلاف مزاحمت کررہے تھے۔

مقامی اخبارات میں کمپنی کے اہلکاروں کی لوٹ مار اور مزاحمتی سرگرمیوں کی خبریں شایع ہوتی تھیں ۔ اس صورتحال میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسروں نے اخبارات کی اشاعت کو محدود کرنے کے بارے میں سوچنا شروع کیا اور 1822ء میں اخبارات کی اشاعت کے بارے میں پہلا قانون نافذہوا۔ اس قانون کے تحت اخبار کی اشاعت اور پرنٹنگ پریس لگانے کیلیے پرمٹ کا قانون نافذ کیا گیا اور اخبار کی اشاعت کو سنسرشپ سے مشروط قرار دیا گیا۔ اس قانون کی تیسری شق کے تحت اخبار میں شایع ہونے والے مواد کی ذمے داری ایڈیٹر اور پبلشر پر عائد کی گئی۔ اسی طرح ممنوعہ مواد کی اشاعت کی ذمے داری میں پرنٹر کو بھی شامل کیا گیا۔ اخبار میں ایڈیٹر، پبلشر اور پرنٹر کے نام کی اشاعت اور دفترکا پتہ شایع کرنے کو لازمی قرار دیا گیا جو پرنٹ لائن کہلائی۔ ایڈیٹر، پبلشر اور پرنٹر کی تبدیلی کے لیے حکام بالا سے اجازت بھی لازمی قرار دی گئی۔

اس قانون میں یہ بھی تحریر کیا گیا کہ اتوارکو اخبار شایع نہیں ہوگا۔ 1822ء کا یہ قانون برطانوی ہند دور میں نافذ ہونے والے قانون اور پھر پاکستان میں نافذ تمام قوانین 1822ء کے قانون کی شکل تھے اور سب سے برا قانون جنرل ایوب خان کے دور میں نافذ ہونے والا پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس 1960ء تھا جب کہ 1963ء میں اس قانون میں ترمیم کر کے اس کو مزید خونخوار کردیا گیا تھا۔ جب ایوب خان کی حکومت نے پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس 1960ء نافذ کیا تو فیصلہ کیا گیا کہ اب تک شایع ہونے والے اخبارات کے تمام ڈیکلریشن منسوخ کردیے گئے ہیں اور ہر اخبار کو نیا ڈیکلریشن داخل کرنا ہوگا۔ اس قانون کے تحت ایڈیٹر اور پبلشر کی شرائط کے علاوہ انٹیلی جنس بیورو سے کلیئرنس مشروط قرار دی گئی۔ اس سے پہلے 1959ء میں ایوب حکومت پروگریسو پیپرز لمیٹڈ کے تحت شایع ہونے والے اخبارات پاکستان ٹائمز، امروز، لیل و نہار پر قبضہ کرچکی تھی، یوں اخبارات کے مالکان کی گردن پر تلوار لٹکا دی گئی تھی۔ اخباری مالکان، ایڈیٹروں اور صحافیوں کے احتجاج پر بعد میں یہ شق واپس لی گئی۔

پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس میں 1963ء میں مزید ترمیمات کی گئیں۔ اب اخبارات سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں اور اعلیٰ عدالتوں کی رپورٹنگ کا حق چھین لیا گیا اور اس سیاہ قانون میں تحریر کیا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر اسمبلیوں کی کارروائی کے بارے میں ہینڈ آؤٹ جاری کریں گے۔ اعلیٰ عدالتوں کے رجسٹرار بھی عدالتی کارروائی کے بارے میں ہینڈ آؤٹ جاری کریں گے۔ اخبارات صرف یہ ہینڈ آؤٹ شایع کرنے کے پابند ہونگے۔ اسی طرح ضلع کے اعلیٰ افسر، ڈپٹی کمشنر امن وامان کے بارے میں جو پریس نوٹ جاری کریں گے وہ بغیر کسی ادارت کے شایع ہوگا۔

اس قانون کے تحت ڈیکلریشن منسوخ کرنے، نئے اخبارات کو ڈیکلریشن جاری کرنے، اخبارات سے زرِ ضمانت طلب کرنے اور زرِ ضمانت ضبط کرنے کے اختیارات بھی مجاز اتھارٹی کو حاصل ہوں گے۔ 1963ء کے پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس کے خلاف اخباری مالکان، ایڈیٹروںاور صحافیوں نے تاریخی جدوجہد کی تھی۔ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (A.P.N.S)، کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز (C.P.N.E) اور پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (P.F.U.J) کے عہدیداروں پر مشتمل ایکشن کمیٹی کی اپیل پر اخبارات نے ایک دن کی ہڑتال کی تھی۔ کراچی پریس کلب میں ایکشن کمیٹی کے تحت تاریخی جلسہ ہوا تھا۔ جنرل ایوب خان کی حکومت کو پہلی دفعہ جھکنا پڑا تھا اور اس آرڈیننس سے بعض سیاہ شقیں حذف کردی گئیں مگر یہ سیاہ قانون نافذ رہا۔ پی ایف یو جے کے اس وقت کے رہنما صفدر قریشی مرحوم نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ ایوب حکومت پر اتنا دباؤ تھا کہ وہ اس پورے قانون کو منسوخ کردیتی مگر یہ تحریک اپنے مکمل اہداف حاصل نہیں کرسکی تھی مگر اخباری تنظیموں نے اس قانون کو قبول نہیںکیا اور 25 سال طویل جدوجہد کی۔

غلام اسحاق خان کی عبوری حکومت نے 1985ء میں اس قانون کو منسوخ کر کے رجسٹریشن آف پریس اینڈ پبلکیشنز آرڈیننس (R.P.P.O) نافذ کیا، یوں اخباری صنعت ایک نئے دور میں داخل ہوگئی۔ 1973ء کے آئین کی شق 19 کے تحت آزادئ صحافت کو بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور میاں نواز شریف کے درمیان 2005ء میں ہونے والے میثاق جمہوریت کی پاسداری کرتے ہوئے 2010ء میں کی جانے والی 18ویں ترمیم میں شق 19A شامل ہوئی، یوں پاکستانی ریاست نے عوام کے جاننے کے حق کی ضمانت دی۔ یہ شق میڈیا کی اطلاعات فراہم کرنے کے فریضہ کی ادائیگی کے لیے لازمی ہے۔ وفاق اور صوبوں میں عوام کے اس حق کو یقینی بنانے کے لیے قوانین تیار کیے گئے۔

پرنٹ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے عنوان سے تیار کیے جانے والے مسودہ قانون کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ اس مسودہ کے مصنفین نے 1822ء سے لے کر اب تک نافذ کیے جانے والے قوانین کا بغور مطالعہ کیا اور ان قوانین میں شامل ایسی شقوں کو جو اخبارات کی آزادی کو مکمل طور پر سلب کرتی ہیں اس میں شامل کیا گیا۔ ڈیکلریشن کے ساتھ لائسنس کا لفظ استعمال ہوا۔ پھر ہر سال ڈیکلریشن کی تجدید اور بھاری فیس کی وصولی ، اخباری رسائل کی اشاعت میں تعطل پر ڈیکلریشن کی منسوخی اور کتابوں کی نگرانی کے بارے میں شقیں شامل کی گئیں۔ یہ مسودہ ایسے افراد کے ذہنوں کی عکاسی کرتا ہے جو ایسٹ انڈیا کمپنی کے افسروں کی طرح ذرایع ابلاغ کو صرف ریاست کا بیانیہ پیش کرنے تک محدود کرنا چاہتے ہیں اور یہ خواہش ایسے وقت میں ہورہی ہے جب سرد جنگ ختم ہوگئی ہے۔ جمہوری نظام کو ہر سطح پر نافذ کرنے کے بارے میں پوری دنیا میں اتفاق رائے پید اہوچکا ہے اور جمہوری نظام کے لیے ذرایع ابلاغ کی آزادی کو لازمی سمجھا جاتا ہے۔

اس مسودے کے مطالعے سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ اس کی تیاری محض دنوں میں نہیں ہوئی بلکہ اس پر مہینوں صرف کیے گئے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ حکومت اس مسودے کے بارے میں مکمل لاعلمی کا اظہار کرتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ مسودہ ریاست کے اندر نظر نہ آنے والی ریاست کے اہلکاروں کی کارستانی ہے مگر جمہوریت اور آزادئ صحافت پابندسلال کرنے والی قوتوں کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ 1822ء کے قانون کے خلاف سوشل ریفارمز پر راجہ رام موہن رائے نے تنہا مزاحمت کی تھی ، اب آزادئ صحافت کو کچلنے والے کسی بھی قانون کے خلاف صحافیوں کے ساتھ عوام بھی مزاحمت میں شامل ہونگے اور عوام کی طاقت کو روکا نہیں جاسکتا۔