قانون موجود ہے جرگوں کیخلاف کارروائی ہوسکتی ہے سندھ ہائیکورٹ

2005میں جرگہ سسٹم کوغیرقانونی قراردیاجاچکا،غیرت کےنام پرقتل کاحکم دینے والےجرگوں کیخلاف کارروائی کی ہدایت کی گئی تھی.


Staff Reporter February 23, 2013
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو متوازی عدالتی نظام اور جرگہ سسٹم کے خاتمے کیلیے موثرقانون سازی کا حکم دیا جائے. فوٹو: فائل

سندھ ہائیکورٹ کے چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے متوازی عدالتی نظام اور جرگہ سسٹم کوغیرقانونی قراردیتے ہوئے اپنی آبزرویشن میں کہا ہے کہ جرگہ منعقد کرنے والوں کے خلاف قانون پہلے سے ہی موجود ہے۔

تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے،عدالت نے کہا کہ اعانت جرم بھی جرم کے مترادف ہے، فاضل عدالت نے جمعے کو یونائیٹڈ ہیومن رائٹس کمیشن کے رانا فیض الحسن کی جانب سے دائر درخواست نمٹادی، درخواست میں موقف اختیارکیا گیا ہے کہ سندھ ہائیکورٹ2005میں جرگہ سسٹم اور متوازی عدالتی نظام کو غیر قانونی قرار دے چکی ہے اور غیرت کے نام پر قتل کاحکم دینے والے جرگوں کے خلاف کارروائی کا حکم دیا تھا مگر قانون نافذ کرنے والے ادارے جرگہ سسٹم کو ختم کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں بلکہ گزشتہ چند سالوں میں غیرت کے نام پر قتل میں اضافہ ہوا، سندھ میں ونی اور سوارا جیسی رسمیں رائج ہیں اور پسند کی شادی کرنے والوں کو کاروکاری قراردے کر قتل کرنے کے احکامات جاری کردیے جاتے ہیں۔

8

درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ حکومت کو متوازی عدالتی نظام اور جرگہ سسٹم کے خاتمے کیلیے موثرقانون سازی کا حکم دیا جائے اور غیر قانونی جرگے منعقد کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے، فاضل بنچ نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ عدالت نے پہلے ہی متوازی عدالتی نظام کو غیر قانونی قراردیا ہے اور ایسا کرنے والوں کیخلاف تعزیرات پاکستان کے تحت کارروائی ہوسکتی ہے، اگر کوئی مقدمہ درج کرانے کیلیے نہ بھی آئے تو پولیس غیر قانونی اسلحہ اور منشیات رکھنے والوں کی طرح ان کے خلاف بھی ازخود کارروائی کرسکتی ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ قرآن سے شادی، ونی اور سوارا جیسی رسومات کے خلاف کارروائی کیلیے تعزیرات پاکستان کی دفعہ310اور دیگرقوانین موجود ہیں۔