جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں

وہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کے خلاف ہونے والے ہر امتیازی اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔


Dr Tauseef Ahmed Khan October 11, 2017
[email protected]

ISLAMABAD: جنرل ضیاالحق نے اقتدار سنبھالتے ہی جمہوری قوتوں کو کچلنا شروع کیا تھا۔ طلبہ یونینز نے تھنڈر اسکوڈ بنے،کراچی یونیورسٹی میں بائیں بازو کے طلبا کو منتشر کرنے کی ذمے داری ایسے ہی اسکواڈ نے سنبھالی۔ 1981 میں پی آئی اے کے طیارے کے اغواکے بعد پروگریسوفرنٹ کی قوت بکھر گئی تھی۔

ملک اسلم، مومن خان مومن، صابرہ بانو، حاصل بزنجو، فہیم الزماں، مظہر عباس وغیرہ نے یونائیٹڈ اسٹوڈنٹ موومنٹ کے ذریعے ترقی پسند قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا تھا۔ پی ای سی ایچ ایس میں پیدا ہونے والا ایک خوصورت نوجوان مطاہر شیخ شعبہ بین الاقوامی تعلقات کا طالبعلم بنا۔ مطاہر ابھی پانچویں کلاس میں تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا۔

انھوں نے والدہ، ایک بھائی اور دو بہنوں کے ساتھ سخت محنت کی زندگی گزاری۔ مختصر آمدنی میں اپنے گھر والوں کے ساتھ صبر و سکون سے زندگی گزارنے اور ساری توجہ تعلیم حاصل کرنے پر دی۔ مطاہر اور ان کے بھائی پی ای سی ایس ایچ کی سڑکوں اور نور گراؤنڈ میں کرکٹ کھیل کر جوان ہوئے تھے۔

یہ علاقہ جماعت اسلامی کا ایک زمانے میں مضبوط گڑھ تھا۔ ان کے ساتھ کھیلنے والے کئی نوجوان جماعت اسلامی کے حلقے شامل تھے مگر مطاہر نے نوجوانی سے سماج کے تنازعات پر غور کرنا شروع کیا تھا۔ مطاہر جب یونیورسٹی میں طلبا سیاست کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہے تھے، اس زمانے میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکار بائیں بازو کے طلبا کی سخت نگرانی کرنے اور اپنے دفاتر میں ان کی فائلیں تیار کرنے پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔

تھنڈر اسکواڈ کے جنگجو جسمانی تشدد کے ذریعے اپنے ایمان کو تازہ کرتے تھے۔ اساتذہ اور والدین بائیں بازو کے نظریات کا پرچار کرنے والے نوجوان کو بار بار یہ یاد دلاتے تھے کہ ان حرکتوں کی بنا پر یا تو وہ جیل چلے جائیں گے اور نہ ہی کبھی سی ایس پی افسر بنیں گے اور نہ ہی کوئی اچھی ملازمت حاصل کرسکیں گے۔ لیکن مطاہر نے اپنے کمزور معاشی پس منظر کے باوجود ان خیالات کو اہمیت نہیں دی۔ انھیں شعبہ بین الاقوامی تعلقات میں ڈاکٹر مونس احمر جیسے استاد مل گئے، جو نوجوانوں میں بغاوت ومزاحمت کو جلا دینے پر یقین رکھتے تھے۔

مطاہر نے دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اپنی تعلیم پر مکمل توجہ دی۔ وہ انگریزی زبان پر مکمل مہارت رکھتے تھے، پھر مارکسی کتابوں کے مطالعے، 19 ویں اور 20 ویں صدی میں یورپ کے سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کو بغور سمجھنے کی بنا پر انھیں ایک طرف بین الاقوامی تعلقات کے علم کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی اور دوسری طرف وہ کمیونسٹ پارٹی کے ہمدرد ہوگئے۔

انھوں نے ابھی ایم اے کیا ہی تھا کہ بین الاقوامی تعلقات کے انسٹیٹیوٹ (PIIA) میں ریسریچ ایسوسی ایٹ کی ملازمت مل گئی۔ اگرچہ وہاں تنخواہ بہت کم تھی اور ڈاکٹر معصومہ حسن جیسی سخت گیر بیوروکریٹ PIIA کی نگراں کے فرائض انجام دیتی تھیں مگر مطاہر کی محنت اور لگن سے وہ اس ادارے میں جلد ہی مقبول ہوگئے۔ مطاہر نے کراچی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر کے لیے درخواست دی۔ اپنے ریسرچ تجربے کی بنا پر وہ اس عہدہ کے لیے کوالیفائیڈ تھے مگر بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر انھیں لیکچرار کی پیشکش کی گئی۔

اب مطاہر شیخ نے طلبا کے ذہنوں کو بدلنے کی ذمے داری قبول کرلی۔ پھر ڈاکٹر مونس احمر کی نگرانی میں افغانستان کے موضوع پر پی ایچ ڈی کے لیے تحقیق کی۔ افغانستان میں کمیونسٹ پارٹی کے رہنما نور محمد ترہ کئی کی قیادت میں کامیاب ہونے والے انقلاب نے افغانستان کے معاشرے کی ہیئت کو تبدیل کرنے کا عمل شرو ع کیا تھا۔ سی آئی اے کے تعاون سے افغانستان کی انقلابی حکومت کے خاتمے کا پروجیکٹ شروع ہوا تھا۔ اس پروجیکٹ کی بنا پر افغانستان کے ساتھ ساتھ پاکستان اور خطے کے سارے ممالک نئے بحران کا شکار ہوئے۔ مطاہر نے اس ساری صورتحال کو معروضیت کے اصول کے تحت اپنی کتاب میں بیان کیا۔

مطاہر نے کراچی یونیورسٹی میں اساتذہ کو منظم کرنے اور ان کے حالات کار کو بہتر بنانے کی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کیا۔ وہ جلد ہی کراچی یونیورسٹی ٹیچر سوسائٹی کے فعال رکن کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔وہ سمجھتے تھے کہ طلبا یونین پر پابندی کے بعد یہ یونیورسٹی کا واحد منتخب ادارہ ہے، اس ادارے کے اراکین یونیورسٹی کے اہم اداروں کے رکن ہوتے ہیں۔ اس بنا پر KUTS کی جدوجہد علمی آزادی کے تحفظ اور اساتذہ کے اجتماعی تحفظ کے لیے ہونی چاہیے۔ مطاہر نے ناصرف کراچی یونیورسٹی بلکہ سندھ کی دوسری یونیورسٹیوں کے اساتذہ کے مسائل کے لیے جدوجہد میں حصہ لیا۔

یہی وجہ تھی کہ وہ وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کے خلاف ہونے والے ہر امتیازی اقدامات کے خلاف آواز اٹھاتے تھے۔ ڈاکٹر مطاہر نے بیماری کے باوجود کراچی یونیورسٹی میں مشعال کے قتل کے خلاف ہونے والی ریلی میں شرکت کی، سخت گرمی کے باوجود دوپہر کو اردو یونیورسٹی کے احتجاجی جلسے میں شرکت کے لیے پریس کلب گئے۔ ڈاکٹر اکبر زیدی کے ایما پر پوسٹ ڈاکٹریٹ کرنے کے لیے ملائیشیا جانے کا فیصلہ کیا اور مقررہ وقت میں اپنا کام مکمل کرکے وطن واپس آگئے۔

ڈاکٹر مطاہر غیر معمولی قوت ارادی کے مالک تھے، وہ دو سال سے زیادہ عرصے تک کینسر کے خلاف جنگ لڑتے رہے۔ اس دوران انھیں متعدد بار مختلف اسپتالوں میں داخل ہونا پڑا۔ ڈاکٹروں کی غلط تشخیص کی بنا پر کئی آپریشن ہوئے اور دل کا دورہ پڑنے پر ان کی انجیوپلاسٹی ہوئی، مگر ان کے چہرے پر کبھی ناامیدی نہیں آئی۔ وہ ہمیشہ اپنے ملنے والوں کو کینسر جیسی خطرناک بیماری کو شکست دینے کی نوید سناتے اور جب طبیعت بہتر ہوجاتی تو اپنے شعبے میں آجاتے اور ہمیشہ کی طرح KUTS کی سیاست میں کردار ادا کرتے۔ ڈاکٹر مطاہر کو الحاق کمیٹی کی ذمے داری سونپی گئی تھی۔

انھوں نے بیماری کے دوران مختلف تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا۔ 1917 میں ہونے والے پہلے سوشلسٹ انقلاب یعنی سویت یونین کی ریاست کے قیام کو 17 اکتوبر کو 100 برس ہوجائیں گے۔ ممتاز مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی قیادت میں تاریخ فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے کراچی یونیورسٹی کے تعاون سے اس موضوع پر ایک کانفرنس کرانے کا فیصلہ کیا، ڈاکٹر مطاہر اس ٹرسٹ کے بانی رکن تھے۔

انھوں نے آرٹس آڈیٹوریم میں 17 اکتوبر کو کانفرنس کے انعقاد کے لیے بکنگ کرائی۔ اپنے ساتھیوں ڈاکٹر پالاری، ڈاکٹر نعیم اور ڈاکٹر ریاض احمد کو روسی انقلا ب سے متعلق موضوعات خود اپنے ہاتھ سے لکھ کر دیے۔ جب وہ آغا خان کے آئی سی یو اسپیشل کیریئر یونٹ میں منتقل ہوئے تو ان کا ایک جملہ تھا کہ یہ کانفرنس ہر صورت میں ہونی چاہیے۔

ڈاکٹر ریاض احمد، ڈاکٹر عامر، ڈاکٹر نعیم، ڈاکٹر پالاری، ڈاکٹر رمضان بامری، ڈاکٹر باسط انصاری اور دوسرے دوستوں نے دو سال تک ڈاکٹر مطاہر کی کینسر کے خلاف جنگ میں بھرپور ساتھ دیا۔ 5 اکتوبر کو ڈاکٹر مطاہر یہ جنگ ہار گئے۔ کراچی یونیورسٹی ایک باشعور استاد سے محروم ہوگئی۔ سیکولر ریاست کی جدوجہد کرنے والے اپنے ایک دانشور کو کھو بیٹھے۔

جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
کہیں سے آبِ بقائے دوام لا ساقی