قائد اعظم کی تقریر کی پاسداری
سول اور فوجی بیوروکریسی کو قائد اعظم کی اسٹاف کالج کوئٹہ کی تقریر کی پاسداری کرنی چاہیے۔
قائد اعظم محمد علی جناح نے گورنر جنرل کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اسٹاف کالج کوئٹہ کا دورہ کیا اور اسٹاف کالج کے کیڈٹس سے تفصیلی خطاب کیا۔ بابائے قوم کے خطاب کا ایک اقتباس نذر قارئین ہے، جناح نے کہا۔۔۔
I am persuaded to say this because during my talks with one or two very high-ranking officers I discovered that they did not know the implications of the Oath taken by the troops of Pakistan. Of course, an oath is only a matter of form; what are more important are the true spirit and the heart.
16 دسمبر 1971 کو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن گیا۔ اس وقت کے صدر یحییٰ خان مشرقی پاکستان کے سانحہ کے باوجود اقتدار سے علیحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں تھے۔ وہ اپنے مشیروں کا بنایا ہوا آئین نافذ کرنا چاہتے تھے مگر فوج کے سینئر جنرلوں جنرل گل حسن اور ایئر مارشل رحیم نے یحییٰ خان کو مجبور کیا کہ وہ مستعفی ہوجائیں اور پیپلز پارٹی کے سربراہ ذوالفقار علی بھٹو کو نیویارک سے ملک بلایا گیا۔ بھٹو نے ملک کے صدر اور چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا عہدہ سنبھال لیا۔ صدر بھٹو کو اس بات کا احساس تھا کہ ملک کو ایک جمہوری وفاقی آئین کی ضرورت ہے۔
اس وقت کے اپوزیشن کے رہنماؤں خان عبدالولی خان، مفتی محمود، شیرباز مزاری، پروفیسر غفور اور مولانا شاہ احمد نورانی وغیرہ نے مارشل لاء کے خاتمے اور نئے آئین کی تیاری کا مطالبہ کرنا شروع کردیا تھا۔ صدر بھٹو نے قومی اسمبلی میں مخالف جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر عبوری آئین تیار کیا اور ملک سے مارشل لاء ختم کردیا گیا۔ پھر 1973 کا اسلامی جمہوری وفاقی آئین تیار ہوا۔ تمام سیاسی جماعتوں نے اس آئین کی مکمل حمایت کی۔ محمد علی جناح کی اسٹاف کالج کوئٹہ کی تقریر کی روح کے مطابق آئین کی تشکیل ہوئی۔
دنیا کے دیگر جمہوری آئین کی طرح 1973کے آئین میں بھی تین بنیادی ستون طے کیے گئے، انتظامیہ (مقننہ)،پارلیمنٹ اور عدلیہ۔ اس آئین کے تحت پارلیمنٹ کی ریاست پر بالادستی قائم کی گئی۔ اس آئین کے تحت بھٹو نے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھال لیا، یوں پہلی دفعہ جمہوری نظام کا حقیقی تصور ملک میں آیا۔ وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو شملہ گئے اور وزیر اعظم اندرا گاندھی کو پاکستان کے 80 ہزار فوجی اور جنگی قیدیوں کی رہائی پر آمادہ کیا، یوں شملہ معاہدہ ہوا۔ بھٹو صاحب نے اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس کا لاہور میں انعقاد کیا۔ شاہ فیصل، کرنل قذافی، یاسر عرفات اور شیخ مجیب الرحمن جیسے اکابرین لاہور آئے۔ پہلی دفعہ اسلامی ممالک کا اتحاد عملی طور پر وجود میں آیا۔ پھر بھٹو صاحب نے ایٹم بم بنانے کی کوشش شروع کردی۔ ذوالفقار علی بھٹو آمرانہ رویوں کے حامل تھے۔
انھوں نے بلوچستان کی حکومت توڑی، نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیت علمائے اسلام کی مخلوط حکومت جو مفتی محمود کی قیادت میں قائم ہوئی تھی احتجاجاً مستعفی ہوگئی۔ پھر بھٹو کا جمہوری قوتوں کے بجائے غیر جمہوری نادیدہ قوتوں پر انحصار بڑھ گیا جس کی بناء پر انھوں نے بلوچستان میں فوجی آپریشن کیا۔ نیشنل عوامی پارٹی پر پابندی لگادی گئی، نیپ اور بائیں بازو کے رہنماؤں جن میں ان کے قریبی رفیق معراج محمد خان اور علی بخش تالپور وغیرہ بھی شامل تھے کے خلاف حیدرآباد سازش کیس قائم کیا۔ کراچی اور ملک کے دیگر شہروں میں مضبوط مزدور تحریکوں کو کچلنے کے لیے نادیدو قوتوں کی تجاویز پر عمل کیا گیا۔ امریکا بھٹو کی پالیسیوں سے ناراض تھا۔ امریکی وزیر خارجہ ڈاکٹر ہینری کسنجرپاکستان آئے اور بھٹو کو ایٹم بم بنانے کے لیے فرانس سے ایٹمی پلانٹ کے معاہدے کو منسوخ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا۔ بھٹو صاحب اپنے ارادے پر قائم رہے۔
انھوں نے قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا۔ جنرل ضیاء الحق امریکی سی آئی اے کے سنہرے جال میںآچکے تھے۔یوں اچانک مخالف جماعتیں پاکستان قومی اتحاد (P.N.A) میں متحد ہوئیں۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان، کراچی اور حیدرآباد مساجد میں بھٹو صاحب کی حکومت کے خاتمے کے نعرے گونجے۔ انتخابات میں محدود پیمانے پر دھاندلی ہوئی۔ ملک میں پی این اے نے تین مہینے تک احتجاجی تحریک چلائی۔
وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے مفتی محمود، پروفیسر غفور اور نوابزادہ نصر اللہ خان پر مشتمل پی این اے کی ٹیم سے مذاکرات کیے۔ 4 جولائی کو رات 12:00 بجے سے قبل حکومت اور پی این اے کے درمیان مذاکرات کامیاب ہونے کی خبر پی ٹی وی اور ریڈیو پاکستان کے خبروں کے بلیشن میں نشر ہوئی مگر 12:00 بجے کے بعد 5 جولائی کی تاریخ کا آغاز ہوا۔ جنرل ضیاء الحق نے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹ دیا اور ملک میں مارشل لاء نافذ ہوا اور ملک ایک ایسے بحران کا شکار ہوا جس کے اثرات 40 سال بعد بھی محسوس ہورہے ہیں۔
بھارت میں کانگریس کی حکومت نے مشرقی پاکستان میں کامیابی کے بعد مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے۔ پھر وزیر اعظم اندرا گاندھی نے عام انتخابات کا اعلان کیا۔ اندرا گاندھی کے سامنے مخالف جماعتوں کا کوئی چیلنج نہیں تھا۔ انھوں نے عام انتخابات کا اعلان کیا اور ان کی کانگریس پارٹی نے آسانی سے انتخابات میں کامیابی حاصل کرلی۔ اندرا گاندھی نے اپنے آبائی حلقہ الہٰ آباد سے انتخاب میں حصہ لیا تھا۔ اس حلقہ سے ان کے دادا موتی لعل نہرو اور والد پنڈت جواہر لعل نہرو کامیاب ہوئے تھے مگر ان کے مخالف امیدوار نے الہٰ آباد ہائی کورٹ میں انتخابی عرضداشت دائر کردی۔
الہٰ آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے اندرا گاندھی کو انتخابی بدعنوانی کا ذمے دار قرار دیدیا۔ اندرا گاندھی نے غیر جمہوری رویہ اختیار کیا اور ملک میں ایمرجنسی نافذ کردی اور آئین معطل کردیا گیا۔ اپنے مخالف سیاستدانوں، صحافیوں، وکلاء اور دانشوروں کو جیل میں نظر بند کیا گیا۔
کلدیپ نیر جیسے صحافی بھی پابند سلاسل ہوئے۔ اندرا گاندھی کی آمرانہ روش کے باوجود بھارتی فوج نے آئین کی پاسداری کی۔ اندرا گاندھی کو 1977میں عام انتخابات کرانے پڑے۔ بھارت کو آزاد کرانے اور آئین دینے والے جماعت کانگریس کو پہلی دفعہ انتخابات میں شکست ہوئی اور ڈیسائی ملک کے پہلے غیر کانگریسی وزیر اعظم بن گئے اور بھارت دوبارہ جمہوری دور میں داخل ہوگیا۔ جنرل ضیاء الحق کی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک میں انتہاپسندی کی جڑیں گہری ہوگئیں، انتہاپسند زندگی کے ہر شعبے میں چھا گئے اور کلاشنکوف اور ہیروئن کلچر نے اس معاشرے کی ساخت کو تباہ کردیا۔ پھر 1988 سے 1999تک جمہوری حکومتوں کا مختصر دور رہا۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی حکومتیں مختلف وجوہات کی بناء پر پالیسیوں میں بنیادی تبدیلیاں نہ لاسکیں۔
جنرل پرویز مشرف نے اقتدار پر اچانک قبضہ کیا مگر ان کی پہلی تقریر میں ملک چلانے کا چھ نکاتی لائحہ عمل موجود تھا۔ جنرل مشرف کی پالیسیوں کے نتیجے میں القاعدہ اور طالبان کو عروج حاصل ہوا۔ پھر نائن الیون کی دہشتگردی ہوئی جس کے نتیجے میں دنیا ایک نئے تضاد کا شکار ہوئی۔
نیویارک اور پھر کابل میں لڑی جانے والی جنگ کراچی تک پہنچ گئی۔ اس جنگ کی بناء پر ملک بینظیر بھٹو جیسی سیاستدان سے محروم ہوا اور وزیر اعظم خاقان عباسی کی یہ تقریر حقیقت پر مبنی ہے کہ آمریت میں کبھی ترقی نہیں ہوئی۔ ملک اور عوام کی ترقی اور خوشحالی کے لیے جمہوریت ضروری ہے۔ حکومت سازی کا اختیار عوام کے پاس ہونا چاہیے۔ عوام باشعور ہیں جس حکومت نے کام نہیں کیا اس کو عوام نے گھر بھیج دیا۔ 2013 اس ملک کی تاریخ کا اہم ترین سال اس لیے تھا کہ انتخابات میں برسر اقتدار جماعت کو شکست ہوئی اور اقتدار منتخب نمایندوں کو پرامن طور پر منتقل ہوا۔ یہ سلسلہ جاری رہا تو ملک میں استحکام آئے گا۔
معیشت، دفاعی، خارجہ اور داخلہ امور پر پالیسی بنانے کا اختیار منتخب حکومت کا ہے۔ آئین کی پاسداری کی بناء پر دو وزراء اعظم نااہل ہوئے اور اپنی جماعتوں کی پارلیمنٹ میں اکثریت کے باوجود اقتدار سے دور ہوئے۔ تمام دیگر اداروں کو منتخب حکومت کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔ سول اور فوجی بیوروکریسی کو قائد اعظم کی اسٹاف کالج کوئٹہ کی تقریر کی پاسداری کرنی چاہیے۔ ملک کا مستقبل جناح صاحب کی تقریر کی پاسداری میں ہی ممکن ہے۔