کراچی پولیس نے چھرا مار ملزم کی آڑ میں گرفتاریوں کو کمائی کا ذریعہ بنالیا

حراست میں لیے جانے والے نوجوانوں کے اہل خانہ نے تھانے کے باہر احتجاج کیا مگر پولیس نے بے گناہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا


Staff Reporter October 21, 2017
آئے روز نوجوانوں کی گرفتاریوں سے والدین اور اہلخانہ پریشان، پولیس کی پیداگیری پر حکام خاموش۔ فوٹو : فائل

WASHINGTON/ LONDON: چھرا مار ملزم کراچی کے نوجوانوں کیلیے بھی درد سر بن گیا، ایک ماہ گزرنے کے باوجود پولیس چھرا مار چھلاوے کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔

گلستان جوہر، گلشن اقبال، سعود آباد، جوہر آباد میں چھرا مار ملزم نے15 خواتین کو تیز دھار آلے کے وار سے زخمی کردیا ہے چھری مار چھلاوے کی گرفتاری کے لیے آئی جی اے ڈی خواجہ نے ڈی آئی جی ایسٹ کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی جس میں 2 ایس ایس پی رینک کے افسران شامل تھے اس کے باوجود ملزم پولیس کے ہاتھ نہیں آیا تو کراچی پولیس چیف مشتاق مہر نے اینٹی کار لفٹنگ سیل ، سی آئی اے اور اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل کے ایس ایس پی کو حکم دیا کہ شام 5 سے رات 11 بجے تک پولیس افسران و اہلکار گلستان جوہر اور گلشن اقبال میں سادہ لباس میں ملبوس ہوکر موٹرسائیکلوں پر گشت کریں۔

پولیس کی تمام تر حکمت عملی کے باوجود ملزم پولیس کی گرفت سے دور ہے اس دوران پولیس کو معلوم ہوا کہ ایک ملزم وسیم نے چیچہ وطنی اور ساہیوال میں بھی 41 خواتین کو چھری مار کر زخمی کیا ملزم سے تفتیش کیلیے ایس ایس پی کورنگی انویسٹی گیشن حیدر رضا کی سربراہی میں پولیس پارٹی نے ساہیوال میں کئی دن کی جہدوجہد کے بعد ملزم کو پکڑا تو معلوم کہ ملزم کراچی میں خواتین پر حملوں میں ملوث نہیں ہے۔

کراچی پولیس نے چھرا مار ملزم کی آڑ میں اس کی گرفتاری کو کمائی کا ذریعہ بنالیا، اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل نے کورنگی کے مختلف علاقوں سے 7 افراد کو حراست میں لے کر انھیں چھرا مار ملزم ظاہر کرنے کی کوشش کی مجسٹریٹ نے چھاپہ مارکر 7 افراد کو رہائی دلوائی ڈی آئی جی سی آئی اے ثاقب اسماعیل میمن کے حکم پر ڈی ایس پی ایڈمن ، ایس ایچ او اینٹی وائیلنٹ کرائم سیل اور سب انسپکٹر کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کیا گیا۔

اس کے باوجود پولیس افسران واہلکار بے گناہ نوجوانوں کو حراست میں لینے سے باز نہ آئے گلشن اقبال پولیس نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بلاک ٹو کے ایک چائے خانے پر چھاپہ مارکر 10نو جوانوں کو حراست میں لے کر انھیں دفعہ 54 میں گرفتار کرلیا حراست میں لیے جانے والے نوجوانوں کے اہل خانہ نے تھانے کے باہر احتجاج کیا مگر پولیس نے بے گناہ نوجوانوں کو رہا نہ کیا ایس ایچ او گلشن اقبال رشید علوی نے بتایا کہ افسران بالا کی پالیسی کے تحت انھیں حراست میں لیا ہے۔ ان سے تفتیش کی جارہی ہے تفتیش کے بعد بے 6 نوجوان کو بے گناہ نکلنے پر رہا کردیا۔

چار مشکوک نوجوانوں کو تفتیش کے لیے گلستان جوہر پولیس کے حوالے کردیا گیا گلشن اقبال، گلستان جوہر کے نوجوانوں کا کہنا ہے پولیس چھرا مار ملزم کو تو پکڑ نہیں سکی ہمیں علاقے میں گھومتے ہوئے اورچائے پیتے ہوئے پکڑ کر الزام لگاتی ہے کہ تم ہی چھرا مار ہو پولیس نے چھرا مار چھلاوے کے معاملے کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے کسی بھی بے گناہ نوجوان کو حراست میں لے کر اپنے افسران کو بتاتے ہیں حراست میں لیے گئے نوجوانوں میں سے ایک چھرا مار ملزم بھی ہوسکتا ہے افسران بالا بھی ایس ایچ او اور ڈی ایس پی کی بات مان لیتے ہیں جس پر ایس ایچ اور اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بے گناہ نوجوانوں کو دفعہ 54 میں گرفتار کرلیتے ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ 25 دن کی تفتیش میں پولیس چھرا مار ملزم کا نام پتہ تو دور کی بات اس کا اصل حلیہ بھی معلوم نہیں کرسکی پولیس بند گلی میں تفتیش کررہی ہے، 25 دن کے دوران پولیس نے 100سے زائد مشتبہ نوجوانوں کو حراست میں لیا ان میں سے بیشتر بے گناہ نکلے تاہم پولیس نے نوجوانوں کے والدین اور اہلخانہ سے مبینہ طور پر رشوت لے کر نوجوانوں کو رہا کیا، پولیس اہلکار رشوت وصول کرنے کے بعد منہ بند رکھنے کی دھمکیاں دیتے ہیں کہ رشوت وصولی کی شکایت کسی افسر سے کی تو انجام بہت برا ہوگا ۔